چین کی قابل توجہ کامیاب حکمتِ عملی

چین

سیاست میرا موضوع نہیں، اور نہ اس کوچۂ تنگ و وادئ خار دار سے مجھے کوئی مناسبت ہے، لہذا مجھے دنیا کی سیاسی صورتِ حال پر لکھنے یا سیاسی پیشین گوئی کرنے کا کوئی حق نہیں، اس تحریر کا مقصد کچھ اور ہے، اور وہ ہے اپنی قوم کی فکری و عملی رہنمائی کرنا، جو بات یہاں کہی جا رہی ہے وہ کتابِ اللہ میں تفصیل سے مذکور ہے، نبیِ کریم ﷺ کی سیرت کے واقعات اس کی تائید کرتے ہیں، اور عقلاء و حکما ہمیشہ اس پر زور دیتے رہے ہیں۔

چین کو اس وقت سائنس، عسکری، مالی و افرادی قوت اور تنظیم کے میدانوں میں جو برتری حاصل ہے وہ کسی ملک کو حاصل نہیں، یہ سچ ہے کہ امریکہ سائنس، ٹیکنالوجی اور جدید اسلحہ سازی میں دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ امریکہ رو بہ زوال ہے، اور چین رو بہ عروج ہے، ایک تازہ دم و جوان طاقت بعض وسائل میں کمی کے باوجود بھی دمِ واپس لینے والے بوڑھے سے فوقِیت رکھتی ہے، چنانچہ چین ہر روز اپنے اور امریکہ کے درمیان فرقِ فاصلہ کو کم کر رہا ہے، اور اس سے یورپ اور امریکہ کے ایوانوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔

اس طاقت و برتری کے باوجود چین کا رویہ وہ نہیں ہے جو ہم سوچ سکتے ہیں، چین اپنے پڑوسیوں سے جنگ کر کے ان پر قبضہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتا، نہ دوسرے ممالک کی علیحدگی پسند طاقتوں کو کھول کر امداد پہنچا کر ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا عزم رکھتا ہے، چین حتی‌الامکان مغرور طاقتوں کے نقشِ قدم پر چلنے سے اجتناب کر رہا ہے۔

چین کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ اپنی مالی اور تنظیمی طاقت کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے لئے استعمال کرے، یہ وہ میدان ہے کہ اس میں برتری کے بعد قوموں اور ممالک سے جنگ نہیں کرنی ہوگی، بلکہ دنیا کے ممالک چین کا بازار ہوں گے، چین پر ان کا انحصار بڑھے گا، وہ چین کی دوستی میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے، اور چین اپنی شرائط پر ان سے معاملہ کرے گا، چین کی اس حکمتِ عملی کے مؤثر نتائج دنیا کے سامنے ہیں۔

مدتوں سے ہم مسلمان اپنی توانائیاں چھوٹی جنگوں اور غیر اہم محاذوں میں برباد کر رہے ہیں، جن کی تفصیل ذکر کرنے کی ضرورت نہیں، ہمارا سیاسی، معاشی اور معاشرتی منظرنامہ سب کے سامنے ایک کھلی کتاب ہے۔

مسلمان اس وقت جس ملک میں بھی ہیں، چاہے وہ اقلیت میں ہوں یا اکثریت میں، انہیں اس دوڑ میں شریک ہونا ہوگا جو دوڑ چین جیتنے جا رہا ہے، ساحل پر تفریح کرنے اور تماشائی بنے رہنے سے ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ بڑھیں گے، اس میں شک نہیں کہ بحیثیت قوم مسلمان چین سے مختلف ہیں، لہٰذا قدرتی طور پر ان کے لئے جو حکمتِ عملی بنائی جائے گی وہ اس اختلاف کو سامنے رکھ کر ہوگی۔

مسلمانوں کی حکمتِ عملی کے تین بنیادی ارکان ہوں گے:

پہلا رکن یہ ہے کہ ان کی دینی تعلیم کا مطمحِ نظر شکلیات و مظاہر پر زور دینے کے بجائے حقائق و معانی کی دعوت و تعلیم ہو، اور یہ یقینی بنایا جائے کہ مسلمان ایمان، عملِ صالح اور اخلاقِ حسنہ کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوں۔

دوسرا رکن یہ ہے کہ باہمی اختلاف و منافرت میں اپنی طاقت ضائع نہ کریں؛ مسلمانوں میں اس وقت جتنے فرقے ہیں ان کو ختم کرنا ناممکن ہے، اس ناممکن کی سعی وقت اور طاقت کا ضیاع ہے، اس لئے یہ تدبیر کرنی ہوگی کہ سارے فرقے کس طرح متحد ہو کر امن و سلامتی کے ساتھ رہیں کہ ان کی تنظیم پختہ تر ہو اور وہ غیروں کے مقابلے میں ایک آہنی دیوار ہوں۔

تیسرا رکن یہ ہے کہ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں کی طرف توجہ کریں، اچھے اسکول و کالج قائم کیے جائیں، بلکہ چند بڑے مدارس کو چھوڑ کر دوسرے مدارس میں سائنس اور دیگر عصری علوم و فنون کے مضامین اعلیٰ معیار پر پڑھائے جائیں، سائنس و ٹیکنالوجی کو مسلمانوں میں اس قدر عام کیا جائے کہ آہستہ آہستہ دنیا کی دوسری قومیں ان پر انحصار کرنے لگیں۔

ایک مرتبہ آئرلینڈ کے ایک علاقہ میں میرا جانا ہوا، وہاں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ آئرش لوگ مسلمانوں کو "ڈاکٹر” کہہ کر پکارتے ہیں اور ان کا بڑا احترام کرتے ہیں، اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ یہاں زیادہ تر پاکستان وغیرہ ممالک کے مسلمان ڈاکٹر ہیں، یورپی ممالک میں بالعموم مسلمان ڈاکٹروں کی نسبت ان کی آبادی کے حساب سے زیادہ ہے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ترقی کا پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی معاشی صورتِ حال بہرحال بہتر ہو جائے گی، اور اس کے بعد سیاسی برتری کی راہیں کھلنے کے امکانات قریب تر ہوں گے۔

ظاہر ہے کہ یہ ایک طویلِ المدت اور صبر آزما پروجیکٹ ہے، اس کے لئے کم از کم نصف صدی کی منصوبہ بندی کرنی ہوگی، تب جا کر اس کے اثرات ظاہر ہوں گے؛ اس وقت تک کے لئے ہمیں سیاسی و عسکری حوصلوں کی قربانی دینی ہوگی۔

کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہ مسلمانوں کو دینی امامت و قیادت کے منصب سے دور کرنے کی کوئی سازش ہے، بلکہ حقیقتًا یہ حکمتِ عملی اسی امانت کی ادائیگی کی سمت میں اقدام ہے، دو سو سال سے ہم جس طرح بربادی و تنزل کو اپنا مقدر بنائے ہوئے ہیں کیا یہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں؟

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے