مساجد

اسلام میں مساجد کی اہمیت و فضیلت

مساجد کو جانے کی فضیلت

(قسط دوم) نمازی کی شان کیا ہی نرالی ہے کہ جو بندہ رب العالمین کی عبادت کی خاطر مسجد کا رخ کرتا ہے تو رب العالمین اس کے سارے گناہ معاف فرما دیتے ہیں حتٰی کہ اس کے ہر ہر قدم پر نیکیاں لکھی جاتی ہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا.

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ ".

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز سے آگاہ نہ کروں جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا ہے اور درجات بلند فرماتا ہے؟“ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناگواریوں (کے) باوجود اچھی طرح وضو کرنا، مساجد تک زیادہ قدم چلنا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، سو یہی رباط (شیطان کے خلاف جنگ کی چھاؤنی) ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 587]

اسی طرح دوسری حدیث میں مذکور ہے

أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ تُضَعَّفُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ وَفِي سُوقِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ ضِعْفًا، وَذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ، فَإِذَا صَلَّى لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، وَلَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلَاةَ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز گھر میں یا بازار میں پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ بہتر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جب ایک شخص وضو کرتا ہے اور اس کے تمام آداب کو ملحوظ رکھ کر اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر مسجد کا راستہ پکڑتا ہے اور سوا نماز کے اور کوئی دوسرا ارادہ اس کا نہیں ہوتا، تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بڑھتا ہے اور ایک گناہ معاف کیا جاتا ہے اور جب نماز سے فارغ ہو جاتا ہے تو فرشتے اس وقت تک اس کے لیے برابر دعائیں کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنے مصلے پر بیٹھا رہے۔ کہتے ہیں «اللهم صل عليه،‏‏‏‏ اللهم ارحمه‏» اے اللہ! اس پر اپنی رحمتیں نازل فرما۔ اے اللہ! اس پر رحم کر اور جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہو گویا تم نماز ہی میں مشغول ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 647]

اور جو شخص صبح و شام مسجدوں کو آتا جاتا ہے تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کو مومن قرار دیا ہے اور جس کی شہادت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دیں تو اس شخص کے کیا کہنے وہ تو دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو گیا

جیساکہ رب العالمین کا ارشاد ہے
اِنَّمَا یَعۡمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ لَمۡ یَخۡشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰۤی اُولٰٓئِکَ اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۸﴾
اللہ کی مسجدوں کی رونق وآبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکوٰة دیتے ہوں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں[التوبة :18]

اور حدیث مبارکہ میں صاف مذکور ہے

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:” إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسَاجِدَ، فَاشْهَدُوا لَهُ بِالْإِيمَانِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ سورة التوبة آية 18″.

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی شخص کو مسجد میں (نماز کے لیے) پابندی سے آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی شہادت دو“، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله» ”اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پہ ایمان رکھتے ہیں“ (سورة التوبة: ۱۸)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 802]

اور تو اور وہ نمازی بندہ رب العالمین کو اتنا پیارا ہوتا ہے کہ بروز قیامت اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سائے تلے اس کو جگہ دیں گے ، جس کا پانا بڑی ہی خوش نصیبی کی بات ہوگی جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:” سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي ظِلِّهِ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ فِي خَلَاءٍ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسْجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا، قَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ، فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا صَنَعَتْ يَمِينُهُ”.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا جبکہ اس کے عرش کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل حاکم، نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں جوانی پائی، ایسا شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، وہ آدمی جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، وہ شخص جسے کسی بلند مرتبہ اور خوبصورت عورت نے اپنی طرف بلایا اور اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جس نے اتنا پوشیدہ صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چل سکا کہ دائیں نے کتنا اور کیا صدقہ کیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6806]

ان کے علاوہ اور بے شمار دلائل ہیں جن سے مساجد جانے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے

اللہ تعالیٰ ہم سب کو نمازی بنائے اور عرش الٰہی کے سائے تلے جگہ عطاء فرمائے آمین یارب العالمین

کن مساجد کا ثواب زیادہ ہے

اس میں کوئی شک نہیں کہ مسجد چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی پختی ہو یا کچی، خوبصورت ہو یا عام سی رب العالمین کے نزدیک شرف و منزلت کے اعتبار سے سب برابر ہے بس بندے سے کسی چیز کا مطالبہ ہے تو وہ صرف خلوص و للہیت ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ، وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ، وَأَعْمَالِكُمْ ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا، لیکن وہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6543]

البتہ مذہب اسلام میں تین مساجد کی خصوصی فضیلت بیان کی گئی ہے جہاں پر نماز ادا کرنا عام مساجد کی بنسبت کئ گنا اجر و ثواب حاصل کرنے کا سبب بنتی ہے
اور وہ مسجد حرام ، مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسجد اقصیٰ ہے جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:” لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ، الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى”.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین مسجدوں کے سوا کسی کے لیے کجاوے نہ باندھے جائیں۔ (یعنی سفر نہ کیا جائے) ایک مسجد الحرام، دوسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد (مسجد نبوی) اور تیسری مسجد الاقصیٰ یعنی بیت المقدس۔ [صحيح البخاري/كتاب فضل الصلاة/حدیث: 1189]

بہت ہی اختصار کے ساتھ ان مساجد کی فضیلت بیان کی جا رہی ہے

مسجد حرام
مکہ مکرمہ رب العالمین کا وہ پہلا گھر ہے جو دنیا میں آباد کیا گیا تھا جیسا کہ خود رب العالمین نے فرمایا

اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیۡ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ ہُدًی لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۹۶﴾فِیۡہِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبۡرٰہِیۡمَ ۬ۚ وَ مَنۡ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا ؕ وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الۡبَیۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۹۷﴾

اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ (شریف) میں ہے جو تمام دنیا کے لئے برکت وہدایت واﻻ ہے[96]جس میں کھلی کھلی نشانیاں ہیں، مقام ابراہیم ہے، اس میں جو آ جائے امن واﻻ ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راه پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا گیا ہے۔ اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالیٰ (اس سے بلکہ) تمام دنیا سے بے پرواه ہے[آل عمران:97]

لہذا اس مقدس مقام میں نماز ادا کرنے کی بھی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

صلاةٌ في مسجِدي أفضلُ من ألفِ صلاةٍ فيما سواهُ إلَّا المسجدَ الحرامَ وصلاةٌ في المسجدِ الحرامِ أفضلُ من مائةِ ألفِ صلاةٍ فيما سواهُ(صحيح ابن ماجه:1163)
ترجمہ:میری مسجد میں نماز مسجد حرام کے سوا کسی بھی مسجد کی ہزاروں نمازوں سے افضل ہے۔ اور مسجد حرام میں ایک نماز پڑھنا کسی دوسری مسجد کی ایک لاکھ نمازوں سے افضل ہے۔

مگر کتنے ہی بد نصیب ہیں وہ لوگ جو مسلکی عصبیت کے خوگر ہیں حتی کہ جب یہ لوگ حج یا عمرہ ادا کرنے بیت اللہ شریف تشریف لے جاتے ہیں تو بعض بد نصیب اور جاہل لوگ مسجد حرام میں امام کے پیچھے جماعت کے ساتھ نماز ادا نہیں کر پاتے بلکہ اپنے ہوٹلوں اور سکن ہی میں تنہا نماز ادا کرتے ہیں دلیل یہ دی جاتی ہے کہ امام وہابی مسلک سے ہے لہذا ہماری نمازیں مقبول نہیں ہونگیں، اب ایسے جاہل اور کم ظرفوں کو کیا کہا جائے جو جنت الفردوس ( مکہ مکرمہ ) کے دروازے تک پہنچ کر شیطان کے جھانسے اور فریب میں آکر اپنی آخرت اور عقبیٰ کو برباد کر لیتے ہیں خدا کی پناہ رب العالمین ان کو صحیح توفیق عطا فرمائے امین یا رب العالمین

مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
مسجد حرم کے ساتھ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی خاص فضیلت ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:” صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ”.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اس مسجد میں نماز مسجد الحرام کے سوا تمام مسجدوں میں نماز سے ایک ہزار درجہ زیادہ افضل ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضل الصلاة/حدیث: 1190]

اور اس بات سے کسی کو انکار بھی نہیں کیونکہ امت مسلمہ میں کوئی بھی فرد بشر ایسا نہیں ہے جو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہ رکھتا ہو،

مسجد اقصیٰ
مذہب اسلام میں مسجد اقصیٰ وہ تیسری مسجد ہے جس کی فضیلت قرآن و حدیث میں مذکور ہے
ارشاد ربانی ہے
سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنۡ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿۱﴾

پاک ہے وه اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے، اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں، یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے واﻻ ہے[إلاسرا1]

یہ وہ مسجد ہے جس میں تمام انبیاء کرام علیھم السّلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی تھی

لہذا اس مقام و مرتبہ بھی بہت اعلیٰ ہے اور ہر مسلمان بھی اس مسجد سے بڑی عقیدت رکھتا ہے

اللہ رب العالمین ہم تمام کو اپنی زندگیوں میں بارہا مرتبہ ان مقدس مساجد میں با جماعت نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین

مساجد کے آداب

چونکہ مساجد کی اہمیت اور فضیلت کا بیان چل رہا ہے لگے ہاتھوں مساجد کے آداب اور مساجد سے متعلق چند مسائل کو بھی بیان کر دینا مناسب ہے جن کا جاننا ہر فرد مسلم کے لیے لازمی اور ضروری ہے

١, باوضو ہوکر جانا
مساجد اللہ رب العالمین کا گھر ہیں لہذا جب ہم اپنے رب حقیقی اور معبود برحق جو کہ سارے جہاں کا پالنہار ہے اس کے دربار میں جائیں تو بہت ہی ادب و احترام اور سنجیدگی و متانت کے ساتھ جانا چاہیے اور پوری کوشش کرنا چاہیے کہ جب ہم نماز کے لیے جائیں تو باوضو ہو کر جائیں جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

-” إذا توضأ أحدكم فأحسن الوضوء، ثم خرج إلى المسجد، لا ينزعه إلا الصلاة لم تزل رجله اليسرى تمحو سيئة وتكتب الأخرى حسنة حتى يدخل المسجد”.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد کی طرف نکلتا ہے اور اس کو نکالنے والی چیز صرف نماز ہوتی ہے، تو (جب تک وہ چلتا رہتا ہے) اس کے بائیں پاؤں کی وجہ سے برائی مٹتی رہتی ہے اور دوسرے پاؤں کی وجہ سے نیکی لکھی جاتی رہتی ہے، حتی کہ وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 449]

البتہ موجودہ دور میں تقریبا تمام مساجد کے اندر ہر چیز کا انتظام و انصرام آپ پائیں گے بجلی، پانی، صفائی، پنکھا، ایئر کنڈیشن، عمدہ قالین، حمامات، اتنی ساری سہولیات مہیا کرائی جاتی ہیں کہ بندے کو صرف وقت مقررہ پر مسجد جا کر نماز ادا کرنی ہوتی ہے مگر اس کے باوجود کوئی نماز میں سستی سے کام لے تو کیا کہا جائے اللہ تعالی ان کو نیک توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین

٢ مسجد میں داخل ہونے کی دعا

مسجد میں داخل ہوتے ہوئے پہلے دایاں پیر داخل کرنا چاہیے اور اس کے بعد یہ دعا پڑھنی چاہیے

اللهم افتح لي أبواب رحمتك

جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھلائی ہے جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے

عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ”.

ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے، پھر کہے: «اللهم افتح لي أبواب رحمتك» ”اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے“ اور جب نکلے تو یہ کہے: «اللهم إني أسألك من فضلك» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 772]

٣ تحية المسجد پڑھنا

مسجد میں داخل ہونے کے بعد دو رکعت تحية المسجد ادا کرنی چاہیے البتہ یہ مستحب ہے واجب نہیں جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَي النَّاسِ، قَالَ: فَجَلَسْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجْلِسَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُكَ جَالِسًا، وَالنَّاسُ جُلُوسٌ، قَالَ: ” فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ ".

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے، کہا: تو میں بھی بیٹھ گیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں بیٹھنے سے پہلے دو رکعات نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا ہے؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو بیٹھتے دیکھا ہے اور لوگ بھی بیٹھے تھے (اس لیے میں بھی بیٹھ گیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے تو دو رکعت نماز پڑھے بغیر نہ بیٹھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1655]

٤ مسجد میں انگلیاں چٹخانا منع ہے

مسجد میں ادب و احترام اور وقار کے ساتھ آدمی کو بیٹھنا چاہیے حتی کہ ہاتھوں کی انگلیوں کی تشبیک کرنا اور مسجد میں انگلیوں کو چٹخانہ منع ہے
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا تَوَضَّأْتَ فَعَمَدْتَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَلَا تُشَبِّكَنَّ بَيْنَ أَصَابِعِكَ، فَإِنَّكَ فِي صَلَاةٍ”.

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کر کے مسجد جانے کا ارادہ کرو تو انگلیوں میں تشبیک نہ کرو کیونکہ تم نماز میں ہو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1443]

٥ پیاز اور لہسن سے پرہیز

مسجد کے آداب میں ایک ادب یہ بھی ہے کہ جب کوئی شخص مسجد جائے تو مسجد جانے سے پہلے پیاز اور لہسن نا کھائے کیونکہ اس سے نمازیوں اور فرشتوں کو تکلیف ہوتی ہے جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے

عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: ” نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَكْلِ الْبَصَلِ، وَالْكُرَّاثِ، فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ فَأَكَلْنَا مِنْهَا، فَقَالَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الإِنْسُ ".

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا۔ سو (ایک مرتبہ) ہم ضرورت سے مجبور ہو گئے اور انہیں کھا لیا تو آپ نے فرمایا: ”جس نے اس بدبودار سبزی میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے، فرشتے بھی یقیناً اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1252]
اسی طرح لوگوں کو مساجد میں موبائل کا صحیح استعمال کرنا چاہیے آج کل مساجد میں موبائل چلایا جاتا ہے جو کہ مناسب نہیں ہے خاص کر اعتکاف کے نام پر لوگ موبائلوں میں مشغول نظر اتے ہیں یہ درست نہیں ہے

٦ مساجد میں خواتین کا جانا

اگر مسجد میں عورتوں کے لیے پردے کا معقول انتظام ہو تو خواتین بھی مسجد جا سکتی ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے مذکور ہے

عَنْ بِلَالِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ حُظُوظَهُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِذَا اسْتَأْذَنُوكُمْ، فَقَالَ بِلَالٌ: وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقُولُ أَنْتَ: لَنَمْنَعُهُنَّ ".

(خود) بلال بن عبداللہ بن عمر نے اپنے والد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کو، جب وہ تم سے اجازت طلب کریں تو مسجدوں میں جو ان کے حصے ہیں ان (کے حصول) سے (انہیں) نہ روکو۔“ بلال نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ان کو ضرور روکیں گے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اور تو کہتا ہے: ہم انہیں ضرور روکیں گے! [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 995]

لیکن عورت کے لیے گھر میں نماز پڑھنا زیادہ افضل ہے

٧ مساجد میں غیر مسلموں کا آنا
مساجد میں غیر مسلموں کا انا منع نہیں ہے اس کے متعلق کافی دلائل موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلم مسجد میں داخل ہو سکتا ہے انہی آحادیث میں ایک حدیث آپ ملاحظہ فرمالیں، جس میں مذکور ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ بن اثال کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ رکھا تھا
حدیث کچھ یوں ہے

عن أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ، يُقَالُ لَهُ: ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:” مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟” فَقَالَ: عِنْدِي خَيْرٌ يَا مُحَمَّدُ، إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ، فَسَلْ مِنْهُ مَا شِئْتَ، فَتُرِكَ حَتَّى كَانَ الْغَدُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:” مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟” قَالَ: مَا قُلْتُ لَكَ: إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، فَتَرَكَهُ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ، فَقَالَ:” مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟” فَقَالَ: عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ، فَقَالَ:” أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ”، فَانْطَلَقَ إِلَى نَجْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ إِلَيَّ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ دِينِكَ، فَأَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيَّ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْ بَلَدِكَ، فَأَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلَادِ إِلَيَّ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ، فَمَاذَا تَرَى؟ فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ، فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ، قَالَ لَهُ قَائِلٌ: صَبَوْتَ، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَسْلَمْتُ مَعَ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا وَاللَّهِ لَا يَأْتِيكُمْ مِنْ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف کچھ سوار بھیجے وہ قبیلہ بنو حنیفہ کے (سرداروں میں سے) ایک شخص ثمامہ بن اثال نامی کو پکڑ کر لائے اور مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور پوچھا ثمامہ تو کیا سمجھتا ہے؟ (میں تیرے ساتھ کیا کروں گا؟) انہوں نے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میرے پاس خیر ہے (اس کے باوجود) اگر آپ مجھے قتل کر دیں تو آپ ایک شخص کو قتل کریں گے جو خونی ہے، اس نے جنگ میں مسلمانوں کو مارا اور اگر آپ مجھ پر احسان کریں گے تو ایک ایسے شخص پر احسان کریں گے جو (احسان کرنے والے کا) شکر ادا کرتا ہے لیکن اگر آپ کو مال مطلوب ہے تو جتنا چاہیں مجھ سے مال طلب کر سکتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے آئے، دوسرے دن آپ نے پھر پوچھا: ثمامہ اب تو کیا سمجھتا ہے؟ انہوں نے کہا، وہی جو میں پہلے کہہ چکا ہوں، کہ اگر آپ نے احسان کیا تو ایک ایسے شخص پر احسان کریں گے جو شکر ادا کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر چلے گئے، تیسرے دن پھر آپ نے ان سے پوچھا: اب تو کیا سمجھتا ہے ثمامہ؟ انہوں نے کہا کہ وہی جو میں آپ سے پہلے کہہ چکا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ثمامہ کو چھوڑ دو (رسی کھول دی گئی) تو وہ مسجد نبوی سے قریب ایک باغ میں گئے اور غسل کر کے مسجد نبوی میں حاضر ہوئے اور پڑھا «أشهد أن لا إله إلا الله،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأشهد أن محمدا رسول الله» اور کہا اے محمد! اللہ کی قسم روئے زمین پر کوئی چہرہ آپ کے چہرے سے زیادہ میرے لیے برا نہیں تھا لیکن آج آپ کے چہرے سے زیادہ کوئی چہرہ میرے لیے محبوب نہیں ہے۔ اللہ کی قسم کوئی دین آپ کے دین سے زیادہ مجھے برا نہیں لگتا تھا لیکن آج آپ کا دین مجھے سب سے زیادہ پسندیدہ اور عزیز ہے۔ اللہ کی قسم! کوئی شہر آپ کے شہر سے زیادہ برا مجھے نہیں لگتا تھا لیکن آج آپ کا شہر میرا سب سے زیادہ محبوب شہر ہے۔ آپ کے سواروں نے مجھے پکڑا تو میں عمرہ کا ارادہ کر چکا تھا۔ اب آپ کا کیا حکم ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بشارت دی اور عمرہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ جب وہ مکہ پہنچے تو کسی نے کہا کہ تم بےدین ہو گئے ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایمان لے آیا ہوں اور اللہ کی قسم! اب تمہارے یہاں یمامہ سے گیہوں کا ایک دانہ بھی اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دے دیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4372]

٨ مسجد سے نکلنے کی دعا
جب آدمی مسجد سے نکلنا چاہے تو اس کو یہ دعا پڑھنی چاہیے

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ”.

جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے

عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ”.

ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے، پھر کہے: «اللهم افتح لي أبواب رحمتك» ”اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے“ اور جب نکلے تو یہ کہے: «اللهم إني أسألك من فضلك» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 772]

٩ مساجد میں آنے سے کسی کو منع نہیں کرنا چاہئے

بعض لوگ دینی علم نہ ہونے کی بنا پر مساجد میں بورڈ اور اعلانات چسپاں کرتے ہیں کہ ہماری مسجد میں فلاں فلاں مسلک والے لوگ بالکل نہ آئیں اور اگر بالفرض کوئی شخص ان کی مسجد میں چلا جائے تو اس کے ساتھ نازیبا سلوک کیا جاتا ہے حتی کہ بعض مقامات پر اس کے ساتھ مار کٹائی اور زد و کوب بھی کیا جاتا ہے جو کہ شرعا جائز نہیں ہے

آپ قرآن مجید کا مطالعہ کریں رب العالمین نے اس شخص کو ظالم قرار دیا ہے جو اللہ کے گھر سے اللہ کے بندوں کو اس کی عبادت سے روکتا ہے جیسا کہ رب العالمین کا ارشاد ہے

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنۡ یُّذۡکَرَ فِیۡہَا اسۡمُہٗ وَ سَعٰی فِیۡ خَرَابِہَا ؕ اُولٰٓئِکَ مَا کَانَ لَہُمۡ اَنۡ یَّدۡخُلُوۡہَاۤ اِلَّا خَآئِفِیۡنَ ۬ؕ لَہُمۡ فِی الدُّنۡیَا خِزۡیٌ وَّ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ

اس شخص سے بڑھ کر ﻇالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کئے جانے کو روکے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے، ایسے لوگوں کو خوف کھاتے ہوئے اس میں جانا چاہیئے، ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے
[البقرة: 114]

لہذا ان نادان مسلمانوں کو توبہ کرنی چاہیے اور اس طرح کے غیر شرعی کاموں سے بچنا چاہئے

١٠ , مساجد کی تعمیر میں فخر کرنا

مساجد کی تعمیر میں شان و شوکت دکھانا ،فخر و غرور بالکل نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرب قیامت لوگ اپنی مساجد کی تعمیر میں فخر کریں گے لہذا اس سے بچنا ضروری ہے جیسا کہ حدیث مذکور ہیں

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ”.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت قائم ہو گی، جب لوگ مسجدوں کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگیں گے“

[سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 739]

آخر میں اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم تمام مسلمانوں کو صحیح معنوں میں قرآن و آحادیث کی تعلیمات کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے امین یا ربّ العالمین

(✒️ ڈی محمد خالد جامعی سلفی ندوی
ہری ہر ، کرناٹک

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے