فطرتِ انسانی

فطرتِ انسانی: معرفت، عقل، اخلاق اور دینِ الٰہی کا بنیادی سرچشمہ

فطرت انسانی شخصیت کی وہ بنیاد ہے جس پر اس کی معرفت، عقل، اخلاق اور ارادے کی پوری عمارت قائم ہے، قرآنِ حکیم کی نصوص، احادیثِ نبویہ، اور اہلِ علم کی عمیق تحقیقات، خصوصاً امام ابن تیمیہؒ اور مولانا عبدالحمید فراہیؒ کی آراء، فطرت کو انسان کی باطنی ساخت کا مرکزی جوہر قرار دیتی ہیں۔ دراصل فطرت، کارگاہِ قدرت کا وہ اوّلین دستور ہے جس پر تمام کائنات قائم ہے۔ انسان ہو یا حیوان، نباتات ہوں یا جمادات، ہر مخلوق اسی الٰہی قانون کی پیرو ہے۔ اسی حقیقتِ کُبریٰ کی طرف ربِّ کائنات نے اپنی روشن کتاب میں رہنمائی فرمائی، اور اہلِ نظر نے ہر دور میں اس کو معرفتِ الٰہی کی اولین سیڑھی قرار دیا۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
انسان پر اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نہایت دقيق وعميق نعمت ’’فطرت‘‘ ہے۔ جیسے تمام مخلوقات کو اُن کی مناسب فطرتوں پر پیدا کیا گیا، پودا پانی، دھوپ اور ہوا کا متقاضی ہے؛ حیوان غذا، مشروبات اور نافع اشیاء کا خواہشمند ہے، ویسے ہی انسان کے اندر معرفت اور عقل کا نقطۂ آغاز اسی فطرت میں ودیعت ہے۔ بہجۃ المجالس میں ایک نہایت لطیف واقعہ مذکور ہے کہ زرعہ بن ضمرہ سے پوچھا گیا: ’’تمہیں شعور کب حاصل ہوا؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’جس دن میں پیدا ہوا۔‘‘ پوچھا گیا: ’’کیسے؟‘‘ کہا: ’’جب مجھے ماں كے پستان سے دور کیا گیا تو میں رو پڑا، اور جب دوباره پستان ميرے منہ سے لگايا گیا تو ميں خاموش ہوگیا۔‘‘ یہ بیان فطرت کی ابتدائی بیداری اور درد و راحت کے فطری ادراک کی نہایت مؤثر مثال ہے۔ انسان کا سب سے پہلا فعل انتخاب ہے، اور یہ انتخاب فطرت کے اشارے پر ہوتا ہے۔
انسان اللہ کے دین پر فطرتاً پیدا کیا گیا ہے۔ اس کی فطرت میں رب کی محبت، اس کی ضرورت، اس کا شکر، اور بلند ترین منازل کی طرف رغبت رکھی گئی ہے، جس کا کمال اللہ عزوجل کا قرب ہے، اور یہی اصلِ دین ہے۔ قرآنِ حکیم میں فرمایا گیا ہے: "فطرت اللہ التی فطر الناس علیھا لا تبدیل لخلق اللہ” (الروم: 30)، جس سے واضح ہے کہ دینِ الٰہی انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ احادیث میں بھی اسی حقیقت کی تاکید ملتی ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں…‘‘ اور آخر میں آپ نے یہی آیت تلاوت کی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فطرت اصل ہے، اور خارجی اثرات اس میں تبدیلی پیدا کر کے انسان کی ظاہری شناخت بدل دیتے ہیں، مگر اس کا باطنی جوہر نہیں بدلتے۔
مولانا عبدالحمید فراہیؒ فطرت کے باب میں نہایت عمیق نظریہ پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قرآن نے کئی مقامات پر دینِ الٰہی کو فطرت قرار دیا ہے، اور انسان کو اسی کی روشنی میں ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان کے مطابق فطرت ہی اس کے علوم، ارادوں اور بدیہی شعور کی اصل ہے، بلکہ ہر علم يہاں تكـ كه بدیہیات بهى اسی سے پھوٹتے ہیں۔ (حجج القرآن، ص 79) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرت صرف رجحان نہیں بلکہ ادراک و شعور کی بنیادی قوت ہے۔
تاہم فطرت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان پیدائش کے وقت سب کچھ جانتا ہو۔ یہی نکتہ امام ابن تیمیہؒ نے واضح کیا ہے۔ ان کے مطابق ’’ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پیدائشی طور پر اللہ کی توحید کی مکمل معرفت رکھتا ہو، کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ انسان ماں کے پیٹ سے ’’کچھ نہ جانتے ہوئے‘‘ نکالا جاتا ہے، اور یہ بدیہی حقیقت ہے کہ بچہ ان حقائق سے لاعلم ہوتا ہے۔ (درء تعارض العقل والنقل 8/460) مگر اس لاعلمی کے باوجود معرفت کی طلب اس کی فطرت میں موجود ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ابن تیمیہؒ فطرت کا اصل مفہوم یوں بیان کرتے ہیں کہ فطرت ’’معرفت کی مقتضی‘‘ ہے۔ یعنی انسان پیدائشی طور پر علم نہیں رکھتا، مگر علم کی طرف اس کی فطری طلب، آمادگی اور اندرونی تقاضا ضرور موجود ہیں۔ جیسے جیسے اس میں علم اور ارادہ کی قوت بڑھتی ہے، اسی قدر وہ اپنے رب کی معرفت اور محبت کے قریب ہوتا جاتا ہے۔ (درء التعارض 8/461) وہ مزید بیان کرتے ہیں کہ اگر فطرت اسلام کی مقتضی نہ ہوتی تو اس کی نسبت اسلام کی طرف محض خارجی تربیت کے اثر کی مانند ہوتی، جیسے یہودیت یا نصرانیت کا اثر۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے؛ بچہ دودھ کی طرف خود مائل ہوتا ہے، اسے کوئی مجبور نہیں کرتا۔ اسی طرح اس کا دل معرفتِ الٰہی کی طرف خود مائل ہے، اور جب تک کوئی معارض نہ ہو، یہ معرفت خود بخود ظاہر ہوتی ہے۔
اسی پس منظر میں ابن تیمیہؒ یہ بھی فرماتے ہیں کہ فطرت میں اللہ کی محبت، اس کے لئے اخلاص اور اس کے سامنے عاجزی کا داعیہ ودیعت ہے، اور جب تک کوئی رکاوٹ نہ ہو یہ دواعى بالفعل ظاہر ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے دودھ پینے کا داعیہ ہر بچے میں بالفعل ظاہر ہوتا ہے۔ فطرت میں نہ صرف رجحان بلکہ ایک فعال قوت موجود ہے جو انسان کو اس کے رب کی طرف کھینچتی ہے۔
فطرت کے انہیں پہلوؤں کو امام فراہیؒ ایک دوسرے رخ سے بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق فطرت میں دو بنیادی قوتیں پائی جاتی ہیں: ادراک اور ذوق۔ ادراک کے ذریعے انسان کسی شے کے وجود اور حقیقت پر حکم لگاتا ہے، اور ذوق کے ذریعے کسی چیز کے محبوب یا مکروہ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ (حجج القرآن، 76) یہ دونوں قوتیں انسان کی علمی اور عملی زندگی کی اساس ہیں۔ علم ادراک سے جنم لیتا ہے، عمل ذوق سے۔ انسانی فکر و نظر انہی دونوں کے اعمال ہیں، اور چونکہ ہر ارادہ رغبت سے اور ہر رغبت ذوق سے پیدا ہوتی ہے، اس لیے انسان کا علمی و اخلاقی ارتقاء بھی انہی فطری قوتوں کے ذریعے ہوتا ہے۔
انسان کے اعمالِ اختیاری اسی فطرت کے بطن سے پھوٹتے ہیں۔ مولانا فراہیؒ کے مطابق انسان کی سعادت و شقاوت کا دار و مدار اس کے ان اختیارات پر ہے جو وہ اپنی فطری ترجیحات کی بنیاد پر کرتا ہے۔ انسان کو اچھے اور برے انجام کا شعور دیا گیا ہے؛ اگر یہ شعور نہ ہوتا تو وہ نہ خود کو ملامت کرتا اور نہ کوئی دوسرا اسے موردِ الزام ٹھہرا سکتا۔ (حجج القرآن، 76) قرآن میں بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے: اِنَّا ہَدَیناہُ السَّبِیلَ، اِمَّا شَاکِراً وَّاِمَّا کَفُوراً (الدہر: 2–3) اور فَاَلْہَمَہا فُجُورَہا وَتَقْواہا (الشمس: 7–8)۔ یہ آیات اس بات کی دلیل ہیں کہ فطرت میں خیر و شر کا بنیادی شعور ودیعت ہے۔
یوں فطرت انسانی شخصیت کا وہ روشن آئینہ ہے جس میں معرفتِ ربانی کے اولین نقوش موجود ہیں۔ اگر انسان اس آئینے کو خواہشات اور غفلت کی گرد سے آلودہ نہ ہونے دے تو وہ اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ اپنی اندرونی ساخت ہی میں پا لیتا ہے۔ فطرت دینِ الٰہی کا سرچشمہ ہے اور معرفتِ حق کا پہلا زینہ۔ یہ وہ الٰہی حوالہ ہے جس سے انسانی شعور آغاز پاتا ہے، اور جس کے سہارے وہ اپنے مقصدِ وجود تک رسائی حاصل کرتا ہے۔

Dr Akram Nadwi

قلمکار: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے