فیض حمید
|

ریٹائرڈ جنرل فیض حمید کو 14 سال قید: سیاسی مداخلت، اختیارات کے غلط استعمال اور آفیشل سیکرٹس کی خلاف ورزی پر سزا

پاکستان کی عسکری تاریخ میں چند فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف خبروں کی سرخی بنتے ہیں بلکہ آنے والے برسوں تک ملکی سیاست اور طاقت کے توازن پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ 11 دسمبر 2025 کا دن بھی انہی غیر معمولی دنوں میں شمار ہوگا، جب پاک فوج نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔

یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ سزائیں اُن اعلیٰ فوجی افسران میں سے ایک کو دی گئی ہیں جن کا کردار اور اثر و رسوخ کئی سال تک ملکی سیاست، ریاستی پالیسیوں اور طاقت کے دھانچے میں مرکزی سمجھا جاتا رہا۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے


الزامات: سیاست، رازوں کی خلاف ورزی اور اختیارات سے تجاوز

آئی ایس پی آر کے مطابق، فیض حمید پر چار بڑے الزامات عائد کیے گئے تھے، اور وہ چاروں میں مجرم ٹھہرے:

1. سیاسی سرگرمیوں میں مداخلت

یہ وہ الزام ہے جس پر ملک میں برسوں سے اندازے، کہانیاں اور بحثیں چلتی رہی ہیں۔ فوج کے قانون کے مطابق کوئی بھی حاضر سروس افسر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتا، لیکن عدالت کا مؤقف تھا کہ فیض حمید نے اس حد کو بارہا عبور کیا۔

2. آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی

ریاستی رازوں کی حفاظت ہر افسر کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ مقدمے کے مطابق، انہوں نے کچھ حساس معلومات کا غلط استعمال کیا یا انہیں ایسے مقاصد کیلئے استعمال کیا جو قانون کے دائرے میں نہیں آتے۔

3. اختیارات اور حکومتی وسائل کا غلط استعمال

اس زمرے میں ان پر مختلف منصوبوں اور حکومتی اثر و رسوخ کو ذاتی یا گروہی مفاد کیلئے استعمال کرنے کا الزام شامل تھا۔ "ٹاپ سٹی” جیسے معاملات بھی اسی حصے میں زیرِ بحث آئے۔

4. افراد کو نقصان پہنچانا

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ان کے کچھ اقدامات نے لوگوں یا اداروں کو نقصان پہنچایا، جسے قانوناً سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔

یہ کارروائی اگست 2024 میں شروع ہوئی تھی اور تقریباً 15 ماہ تک جاری رہی—ایک ایسی کارروائی، جس نے طاقت کے ایوانوں میں لرزش پیدا کردی۔


عدالتی کارروائی اور فوج کا مؤقف

آئی ایس پی آر نے کہا کہ مقدمہ شفاف طریقے سے چلا، فیض حمید کو اپنی دفاعی ٹیم کا انتخاب کرنے کی مکمل آزادی تھی، اور انہیں 40 دن میں اپیل کا حق دیا گیا ہے۔

یہ اعلان اس پس منظر میں آیا ہے جب ملک میں فوجی مداخلت، سیاست اور طاقت کے غلط استعمال پر سوالات پہلے ہی شدید تھے۔ اس فیصلے کو فوج کے اندر احتساب کے عمل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔


سیاسی بے چینی اور 2023 کے فسادات کا حوالہ

فوج نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کے سیاسی عناصر کے ساتھ روابط، اور ملک میں سیاسی عدم استحکام میں کردار کی مزید تحقیقات الگ سے جاری ہیں۔ یہ اشارہ 2023 کے اُن واقعات کی طرف ہے جب مشتعل مظاہرین نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔

کچھ حلقے یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان واقعات میں کئی طاقتور شخصیات کے کردار پر ابھی پوری طرح پردہ نہیں اٹھا۔


ریاستی اداروں اور عوامی ردعمل

حکومتی ردعمل

وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر لکھا کہ قوم آنے والے سالوں تک وہ نتائج بھگتے گی جو "فیض حمید اور جنرل باجوہ نے بوئے تھے”۔ ان کا بیان واضح طور پر اس مقدمے سے آگے بڑھ کر ایک بڑے سیاسی پیغام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

عوامی بحث اور تقسیم

سوشل میڈیا پر ردعمل دو حصوں میں بٹا ہوا تھا:

  • کچھ لوگ اسے "ڈھونگ” قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ باجوہ یا دیگر بڑے کردار کیوں محفوظ ہیں؟
  • دوسرے افراد اسے ایک تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے سخت احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پاکستان میں فوجی کردار کے بارے میں رائے ہمیشہ تقسیم رہی ہے، اور یہ فیصلہ اس تقسیم کو مزید گہرا کرتا دکھائی دیتا ہے۔


فیض حمید کا پس منظر اور اثر و رسوخ

ریٹائرڈ جنرل فیض حمید ایک عرصہ تک عمران خان کے انتہائی قریبی سمجھے جاتے تھے۔ 2019 سے 2021 تک آئی ایس آئی کے سربراہ رہے، اور ان کے اس دور کو عمران خان حکومت کے طاقتور ترین برسوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

انہیں 2022 میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینا پڑی، لیکن ان کا نام سیاست، پالیسی، اور طاقت کے توازن سے کبھی پوری طرح غائب نہیں ہوا۔

یہ سزا، اپنی نوعیت کے اعتبار سے، پاکستان میں بہت کم دیکھنے میں آئی ہے—خصوصاً ایسے افسر کیلئے جو طاقت کے اعلیٰ ترین طبقات تک رسائی رکھتا تھا۔


نتیجہ: ایک فیصلہ، کئی سوالات

اس فیصلے نے کئی چیزوں کی وضاحت کی ہے، لیکن کئی سوالات اب بھی کھلے رہ گئے ہیں:

  • کیا واقعی فوج سیاسی مداخلت سے پیچھے ہٹ رہی ہے؟
  • کیا یہ کیس دیگر بااثر شخصیات کے خلاف کارروائی کا آغاز ثابت ہوگا؟
  • یا یہ محض مخصوص افراد کو نشانہ بنانے کی ایک الگ مثال ہے؟

جو بھی ہو، اتنا واضح ہے کہ پاکستان کا طاقت کا نقشہ بدل رہا ہے—اور اس فیصلے نے اس تبدیلی کی رفتار کو مزید تیز کردیا ہے۔


ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے