امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں ریپبلکن ارکانِ کانگریس کے ساتھ ایک عشائیے کے دوران دعویٰ کیا کہ مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی تصادم کے دوران "5 طیارے گرائے گئے۔” انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ طیارے کس ملک کے تھے یا یہ دونوں ممالک کے نقصانات کا مجموعہ تھا۔ ٹرمپ نے کہا، "انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازع جاری تھا، طیارے فضا سے گرائے جا رہے تھے۔ چار یا پانچ، لیکن مجھے لگتا ہے پانچ طیارے گرائے گئے۔ یہ دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، اور وہ ایک دوسرے پر حملے کر رہے تھے۔” انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ نے تجارت کے دباؤ کے ذریعے اس تنازع کو روکا۔
اس بیان نے بھارت میں سیاسی ہلچل مچا دی۔ اپوزیشن جماعت کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی سے اس دعوے پر وضاحت مانگی ہے۔ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے ایکس پر لکھا، "مودی جی، پانچ طیاروں کا سچ کیا ہے؟ قوم کو جاننے کا حق ہے!” انہوں نے ٹرمپ کے بیان کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ مودی کی خاموشی قومی مفادات پر سمجھوتہ ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ ٹرمپ نے 70 دنوں میں 24 مرتبہ یہ دعویٰ دہرایا کہ انہوں نے انڈیا-پاکستان تنازع روکا، لیکن مودی کی خاموشی تشویشناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مودی پارلیمنٹ میں واضح بیان دیں۔
پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مئی میں آپریشن سندور کے دوران پانچ بھارتی طیاروں کو مار گرایا، جن میں تین رافیل طیارے شامل تھے۔ تاہم، بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ رافیل طیاروں کے نقصان کی بات "بالکل غلط” ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ بھارت کو کچھ نقصانات ہوئے، لیکن تعداد کی بجائے اس کی وجوہات اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنی حکمت عملی درست کی اور پاکستانی ایئر بیسز پر درست حملے کیے۔ رافیل بنانے والی فرانسیسی کمپنی ڈاسالٹ ایوی ایشن کے سی ای او نے بھی پاکستان کے دعوؤں کو غلط قرار دیا۔
بھارت نے مسلسل اس بات پر زور دیا کہ 10 مئی کو فائر بندی کا معاہدہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹرز جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان براہ راست بات چیت سے طے پایا، نہ کہ امریکی ثالثی سے۔ بھارتی وزیر خارجہ وکرم مسری نے کہا کہ مودی نے ٹرمپ سے 35 منٹ کی فون کال میں واضح کیا کہ بھارت کبھی ثالثی قبول نہیں کرے گا۔
دوسری جانب، ٹرمپ نے اسی عشائیے میں اعلان کیا کہ غزہ سے مزید 10 اسرائیلی یرغمالیوں کو جلد رہا کیا جائے گا۔ انہوں نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ "ہم نے بیشتر یرغمالیوں کو بازیاب کرا لیا ہے، اور مزید 10 کو جلد واپس لایا جائے گا۔” یہ بیان دوحہ میں جاری اسرائیل-حماس مذاکرات کے تناظر میں آیا، جہاں 6 جولائی سے 60 روزہ جنگ بندی پر بات چیت ہو رہی ہے۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق، اسرائیل نے ثالثوں کی پیش کردہ تجاویز پر مبہم رویہ اپنایا ہے، اور یرغمالیوں کے تبادلے پر مذاکرات ابھی شروع نہیں ہوئے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ دوحہ میں اسرائیلی وفد کی موجودگی علامتی ہے، جبکہ حماس پر تاخیر کا الزام غلط ہے۔ تل ابیب ایک سینئر وفد بھیجنے پر غور کر رہا ہے، لیکن اس کے مینڈیٹ کی تفصیلات واضح نہیں۔
یہ دونوں واقعات—انڈیا-پاکستان تنازع اور غزہ مذاکرات—خطے میں کشیدگی اور عالمی سفارتی کوششوں کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ بھارت میں سیاسی حلقوں میں ٹرمپ کے دعوؤں پر بحث جاری ہے، جبکہ دوحہ مذاکرات غزہ کے یرغمالیوں کے معاملے پر پیش رفت کے منتظر ہیں۔