سابق اسرائیلی چیف آف اسٹاف ہرزی ہالوے نے غزہ کی جنگ میں دو لاکھ سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور زخمی ہونے کا کیا اعتراف

ہرزی ہالوے

اسرائیلی فوج کے سابق چیف آف اسٹاف ہرزی ہالوے نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جاری خون ریز جنگ کے دوران دو لاکھ سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قانونی مشاورت نے کبھی بھی فوجی کارروائیوں پر کوئی قدغن نہیں لگائی۔

ہالوے نے جنھوں نے مارچ میں اپنے عہدے سے استعفا دیا تھا، چند روز قبل جنوبی اسرائیل میں ایک ملاقات کے دوران انکشاف کیا کہ غزہ کے 22 لاکھ باشندوں میں سے 10 فی صد سے زیادہ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار غزہ کی وزارتِ صحت کے اعلان کردہ اعداد سے کافی حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔ اگرچہ اسرائیلی حکام اکثر وزارت پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ حماس کے زیر انتظام ہونے کی وجہ سے درست اعداد و شمار فراہم نہیں کرتی۔

سابق جنرل نے تسلیم کیا کہ یہ جنگ کسی طور "پُرسکون” نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو 7 اکتوبر کے حملے سے پہلے ہی غزہ کے حوالے سے زیادہ سخت رویہ اپنانا چاہیے تھا۔ تاہم ان کا اصرار تھا کہ اسرائیلی فوج بین الاقوامی انسانی قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرتی ہے۔

ہالیوی نے واضح طور پر کہا کہ قانونی مشاورت نے کبھی ان کے فوجی فیصلوں یا ان کے ماتحت کمانڈروں کے فیصلوں پر اثر نہیں ڈالا۔ ان کے مطابق "کبھی کسی نے مجھے محدود نہیں کیا… ایک بار بھی نہیں… حتیٰ کہ فوجی اٹارنی جنرل یفات تومر یروشالمی نے بھی نہیں، جن کے پاس ویسے بھی مجھے روکنے کا اختیار نہیں۔”

انھوں نے یہ بھی کہا کہ فوجی وکلا کی اصل اہمیت بیرونی دنیا کو قائل کرنے میں ہے کہ اسرائیلی فوج کی کارروائیاں قانونی ہیں۔ یہ بات اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت نے بتائی۔

دوسری جانب اسرائیلی انسانی حقوق کے وکیل مائیکل سفارد نے کہا کہ ہالیوی کے بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ فوجی مشیر محض ایک "ربڑ اسٹیمپ” ہیں، جن کا مقصد فوجی فیصلوں کو قانونی لبادہ پہنانا اور انھیں خوشنما انداز میں پیش کرنا ہے۔ ان کے مطابق فوجی رہنما ان مشیروں کو صرف عام صلاح کار سمجھتے ہیں، جن کی رائے کو مانا یا رد کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایسے قانونی ماہرین نہیں جن کی آرا یہ طے کرے کہ کون سا اقدام جائز ہے اور کون سا ممنوع … یہ بات برطانوی اخبار "گارڈیئن” نے بتائی۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تباہ حال غزہ میں جاری جنگ پر اسرائیل کو عالمی سطح پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔ متعدد بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کی تنظیموں نے اسرائیل پر نسل کشی اور "انسان کے ہاتھوں پیدا کیے گئے قحط” جیسے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

انجینئر محمد علی مرزا مفتن یامحقق ؟

مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ حیات و خدمات

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے