پاکستان میں سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس کے ذریعے توہینِ مذہب کے الزامات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جو سینکڑوں نوجوانوں کی زندگیوں کو تباہ کر رہا ہے۔ ان مقدمات میں زیادہ تر نوجوانوں کو منظم گروہوں کے ذریعے ہنی ٹریپ (دھوکہ دہی سے پھنسانے) کے جال میں پھنسایا جا رہا ہے۔ یہ گروہ واٹس ایپ اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز پر حساس اور متنازعہ مواد شیئر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ناتجربہ کار نوجوان غیر دانستہ طور پر توہینِ مذہب کے الزامات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم ان مقدمات کی نوعیت، ان کے سماجی اور قانونی اثرات، اور متاثرین کی کہانیوں کا جائزہ لیں گے۔
ہنی ٹریپ کا طریقہ کار
منظم گروہ، جنہیں بعض رپورٹس میں "چوکس گروہ” یا "ویجیلنٹی گروپس” کہا جاتا ہے، واٹس ایپ اور فیس بک گروپس کے ذریعے نوجوانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان گروہوں میں اکثر خواتین کو بطورِ دھوکہ استعمال کیا جاتا ہے جو خود کو شادی شدہ یا تنہا ظاہر کرتی ہیں۔ ایک مثال کے طور پر، "ایمان” نامی ایک آئی ڈی سے چلنے والی خاتون نے خود کو اسلام آباد میں تنہا رہنے والی شادی شدہ عورت کے طور پر پیش کیا۔ وہ سوشل میڈیا پر دوستی قائم کرتی ہے، جو واٹس ایپ پر میسجز، وائس کالز، اور ویڈیو کالز تک جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ نوجوانوں کو قابل اعتراض یا توہین آمیز مواد شیئر کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
ایک عام طریقہ کار یہ ہے کہ گروپ میں شامل افراد سے فحش مواد شیئر کرنے کی درخواست کی جاتی ہے، جو بعد میں مذہبی موضوعات کے ساتھ ملا کر توہینِ مذہب کا الزام بنتا ہے۔ اگر کوئی انکار کرتا ہے، تو اسے دباؤ ڈال کر یا بلیک میل کر کے مجبور کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات، ملزمان کے فونز سے ان کی مرضی کے بغیر مواد شیئر کیا جاتا ہے، اور پھر اسے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
قانونی نظام اور جھوٹے الزامات
پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین، خصوصاً پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295-C، انتہائی سخت ہیں اور ان کی سزا سزائے موت تک ہو سکتی ہے۔ تاہم، ان قوانین کا غلط استعمال ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ان مقدمات کی اکثریت جھوٹے الزامات پر مبنی ہوتی ہے، اور ان کا نشانہ بننے والوں میں زیادہ تر غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق، واٹس ایپ گروپس بنانے کے لیے غیر ملکی ورچوئل نمبرز (جیسے سپین کے) استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ منتظمین اپنی شناخت چھپا سکیں۔ اس کے بعد، جب کوئی نوجوان مواد شیئر کرتا ہے، تو اسے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے بعض عناصر کی ملی بھگت سے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ وکیل ہادی علی چٹھہ کے مطابق، عدالتوں میں پیش کی جانے والی زیادہ تر شہادتیں جعلی ہوتی ہیں، لیکن ڈیجیٹل فرانزک نہ ہونے کی وجہ سے بے گناہ افراد کو سزا دی جاتی ہے۔
متاثرین کی کہانیاں
متاثرین کی کہانیاں دل دہلا دینے والی ہیں۔ ایک والد نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو اغوا کیا گیا، اس کے فون سے قابل اعتراض مواد شیئر کیا گیا، اور پھر ایک کروڑ روپے کا مطالبہ کیا گیا۔ رقم نہ دینے پر اس کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔ ایک اور والدہ، جنہوں نے اپنے بیٹے کی رہائی کے لیے تین لاکھ روپے ادا کیے، نے کہا کہ اس کے باوجود ان کے بیٹے پر تشدد جاری رہا۔
نفیسہ احمد (فرضی نام) نے بتایا کہ ان کے بھائی پر واٹس ایپ پر توہین آمیز تصاویر شیئر کرنے کا الزام لگایا گیا، جس کے بعد ان کے خاندان کو سماجی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرین کے اہلِ خانہ نہ صرف قانونی لڑائی لڑتے ہیں بلکہ سماجی دباؤ اور دھمکیوں کا بھی شکار ہوتے ہیں۔
عدالتی کارروائی اور سماجی اثرات
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ستمبر 2024 میں ان جھوٹے مقدمات پر برہمی کا اظہار کیا اور ایک تحقیقاتی کمیشن بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وکیل عثمان وڑائچ نے ایک پٹیشن میں سپیشل برانچ کی رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں ایک منظم گینگ کے جھوٹے الزامات کے ذریعے بلیک میلنگ کے کاروبار کا انکشاف ہوا۔
ان مقدمات نے پاکستانی معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایک طرف، یہ قوانین مذہبی اقلیتوں کے خلاف استعمال ہوتے تھے، لیکن اب 99.99 فیصد متاثرین مسلم نوجوان ہیں، جن کی عمریں 18 سے 29 سال کے درمیان ہیں۔ اڈیالہ جیل میں 144، کیمپ جیل لاہور میں 130، اور کراچی سنٹرل جیل میں 50 سے زائد ایسے قیدی موجود ہیں۔
سوشل میڈیا کا کردار
سوشل میڈیا، خصوصاً واٹس ایپ، ان الزامات کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ 2023 میں ایک پاکستانی شہری کو واٹس ایپ پر توہین آمیز پیغام پوسٹ کرنے کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔ اسی طرح، فیس بک پر کعبے کی تصویر شیئر کرنے پر ایک 16 سالہ عیسائی نوجوان کو گرفتار کیا گیا، جو اب تک جیل میں ہے۔ واٹس ایپ کے نئے فیچرز، جیسے کہ گروپ چھوڑنے کی سہولت یا پیغامات کو لاک کرنے کی صلاحیت، اس طرح کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا استعمال محدود ہے۔
حل اور سفارشات
ان مسائل کے حل کے لیے چند اقدامات تجویز کیے جا سکتے ہیں:
ڈیجیٹل فرانزک کی لازمی ضرورت: عدالتوں کو چاہیے کہ ہر مقدمے میں ڈیجیٹل فرانزک لازمی قرار دیں تاکہ جھوٹی شہادتوں کا پتہ لگایا جا سکے۔
قانونی اصلاحات: توہینِ مذہب کے قوانین کی تشریح کو واضح کیا جائے اور جھوٹے الزامات عائد کرنے والوں کے خلاف سخت سزائیں متعارف کرائی جائیں۔
عوامی آگاہی: سوشل میڈیا کے محفوظ استعمال کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا جائے تاکہ وہ ہنی ٹریپ جیسے جال سے بچ سکیں۔
تحقیقاتی کمیشن: ایک آزاد کمیشن قائم کیا جائے جو ان منظم گروہوں کی فنڈنگ اور سرگرمیوں کی تحقیقات کرے۔
خلاصہ:
واٹس ایپ گروپس کے ذریعے ہنی ٹریپ کے ذریعے پھنسائے گئے پاکستانی نوجوانوں کے کیسز ایک سنگین سماجی اور قانونی بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ مقدمات نہ صرف متاثرین کی زندگیوں کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ پاکستانی معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول بھی پیدا کر رہے ہیں۔ جھوٹے الزامات اور بلیک میلنگ کے اس "کاروبار” کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ عدالتیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے، اور سول سوسائٹی سب کو مل کر اس چیلنج سے نمٹنا ہوگا تاکہ بے گناہ نوجوانوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔”
مزید خبریں:
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
انڈیاپاکستان جنگ میں 5 طیارے مار گرانے کے ٹرمپ کے دعویٰ نے مودی کو مشکل میں ڈالدیا
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں