بلوچستان کے علاقے سنجدی ڈیگاری میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر ایک خاتون بانو بی بی اور مرد احسان اللہ سمالانی کے بہیمانہ قتل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے اس سنگین واقعے کا ازخود نوٹس لے لیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق خاتون کو سات اور مرد کو نو گولیاں ماری گئیں، جو کہ 4 جون 2025 کو عید الاضحی سے چند روز قبل پیش آیا۔ اس دلخراش واقعے نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔
واقعے کی تفصیلات:
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں مسلح افراد کو ایک خاتون اور مرد کو گولیاں مارتے دیکھا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق، مقتولین کو مقامی سردار شیر باز خان کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں ان پر مبینہ طور پر "کاروکاری” کا الزام لگایا گیا اور قتل کا فیصلہ سنایا گیا۔ ویڈیو میں فائرنگ کرنے والوں میں شاہ وزیر، جلال، ٹکری منیر، بختیار، ملک امیر اور عجب خان کے نام شامل ہیں، جبکہ سردار شیر باز خان نے جرگے کی سربراہی کی۔ پولیس ذرائع کے مطابق، فائرنگ کرنے والا ایک ملزم جلال مقتولہ کا بھائی ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ نے تصدیق کی کہ خاتون بانو بی بی کو سات اور احسان اللہ سمالانی کو نو گولیاں ماری گئیں۔ یہ واقعہ کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈیگاری میں پیش آیا، اور ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
عدالتی اور انتظامی اقدامات:
چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پولیس بلوچستان کو 22 جولائی 2025 کو طلب کیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ اختر شاہ کی ہدایت پر مقتولہ بانو بی بی کی قبر کشائی کی گئی تاکہ موت کی وجوہات اور گولیوں کی تعداد کی تصدیق کی جا سکے۔ قبر کشائی جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں مکمل کی گئی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری اور تحقیقات کا حکم دیا۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ مقتولین کے درمیان کوئی ازدواجی تعلق نہیں تھا؛ خاتون کے پانچ اور مرد کے چھ بچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ریاست مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے، اور تمام ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔”
پولیس کارروائی:
کوئٹہ پولیس نے ہنہ اوڑک تھانے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا۔ اب تک 20 ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں، جن میں مرکزی ملزم بشیر احمد، ساتکزئی قبیلے کے سربراہ سردار شیر باز خان، ان کے چار بھائی اور دو محافظ شامل ہیں۔ پولیس نے کیس کو سیریس کرائمز انویسٹیگیشن ونگ کے حوالے کر دیا ہے، اور مزید گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پاکستان علما کونسل کا ردعمل:
پاکستان علما کونسل نے اس واقعے کو غیر شرعی اور دہشت گردی قرار دیتے ہوئے ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی عدالت میں مقدمہ چلانے اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ کونسل نے کہا کہ "اسلام غیرت کے نام پر قتل کی اجازت نہیں دیتا، اور شادی سے پہلے خاتون کی مرضی پوچھنا شریعت میں واضح ہے۔”
سماجی و سیاسی ردعمل:
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عوام اور سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصہ دیکھا گیا۔ کئی صارفین نے اسے غیرت کے نام پر قتل کا واقعہ قرار دیا، تاہم پولیس نے ابتدائی طور پر مقتولین کی شناخت اور واقعے کی جگہ کی تصدیق نہیں کی تھی۔ بعد میں پولیس نے تصدیق کی کہ واقعہ عید الاضحی سے تین روز قبل کا ہے۔
حکومتی موقف:
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "یہ انسانیت سوز عمل ناقابل برداشت ہے، اور کوئی قانون ہاتھ میں لینے کا مجاز نہیں۔” وزیر اعلیٰ نے 48 گھنٹوں میں مکمل تحقیقاتی رپورٹ طلب کی اور یقین دہانی کرائی کہ تمام ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
خلاصہ:
یہ واقعہ بلوچستان میں غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم اور قبائلی رسومات کے منفی اثرات کی ایک سنگین مثال ہے۔ چیف جسٹس کے ازخود نوٹس اور پولیس کی فوری کارروائی سے امید کی جاتی ہے کہ متاثرین کو انصاف ملے گا۔ تاہم، اس طرح کے واقعات سماجی اصلاحات اور قانون کی عملداری کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسی بربریت کو روکا جا سکے۔
انسانی المیہ: 11 بچوں کا یتیم ہونا
اس واقعے کی سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس نے بہ یک وقت 11 بچوں کو یتیم کر دیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ مقتولین کے درمیان کوئی ازدواجی تعلق نہیں تھا؛ بانو بی بی کے پانچ اور احسان اللہ سمالانی کے چھ بچے ہیں۔ ان بچوں کے مستقبل اور ان کی کفالت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ان یتیم بچوں کی تعلیم اور پرورش کے لیے فوری اقدامات کرے۔
بلوچستان میں غیرت کے نام پر یہ سفاکانہ قتل نہ صرف ایک انسانی المیہ ہے بلکہ سماجی ناانصافیوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ گیارہ بچوں کا یتیم ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ معاشرے میں ابھی بہت کچھ بدلنے کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس کے ازخود نوٹس اور پولیس کی فوری کارروائی سے امید کی جاتی ہے کہ متاثرین کو انصاف ملے گا، لیکن اس واقعے نے ایک بار پھر بلوچستان کے قبائلی نظام اور غیرت کے نام پر تشدد کے خاتمے کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔
مزید خبریں:
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
انڈیاپاکستان جنگ میں 5 طیارے مار گرانے کے ٹرمپ کے دعویٰ نے مودی کو مشکل میں ڈالدیا
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں