بلوچستان میں کاروکاری کے الزام پر خاتون و مرد کا قتل، ویڈیو وائرل، 15 افراد کے خلاف مقدمہ درج

کاروکاری کے الزام پر خاتون و مرد کا قتل

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے چند کلومیٹر دور واقع علاقے سنجیدی ڈیگار میں ایک مقامی سردار کے حکم پر کاروکاری کے الزام میں ایک خاتون اور مرد کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ اس دردناک واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آ گئے۔ پولیس نے واقعے کی تصدیق کے بعد مقدمہ درج کر کے 15 افراد کو نامزد کر دیا ہے جن میں سے متعدد کی گرفتاری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

واقعے کی تفصیلات

پولیس کی درج کردہ ایف آئی آر کے مطابق، یہ واقعہ عیدالاضحیٰ سے تین روز قبل سنجیدی ڈیگار میں پیش آیا، جو تھانہ ہنہ کی حدود میں آتا ہے اور کوئٹہ شہر سے تقریباً 40 سے 45 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مقتولین کی شناخت بانو بی بی اور احسان اللہ کے نام سے ہوئی ہے جنہیں ایک مقامی سردار کے روبرو "کاروکاری” کے الزام میں پیش کیا گیا۔ سردار نے مبینہ طور پر انہیں مجرم قرار دے کر قتل کا حکم دیا، جس پر 15 افراد نے عمل کرتے ہوئے دونوں کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

وائرل ویڈیو کا مکروہ منظر

وائرل ویڈیو، جو پہاڑی اور سنسان مقام پر بنائی گئی لگتی ہے، میں کئی افراد دن کی روشنی میں موجود نظر آتے ہیں۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک خاتون، جو سرخ لباس اور گندمی چادر میں ملبوس ہے، گاڑیوں سے دور کھڑی کی جاتی ہے۔ وہ براہوی زبان میں کہتی ہے، "صرف گولی کی اجازت ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔” مردوں کی جانب سے جواب آتا ہے، "ہاں، صرف گولی مارنے کی اجازت ہے۔”

اس کے بعد کسی کی آواز سنائی دیتی ہے: "قرآن مجید ان کے ہاتھ سے لے لو”، جبکہ دوسرے افراد خاموش رہنے کی تاکید کرتے ہیں۔ پھر چند گولیاں چلائی جاتی ہیں، مگر یہ واضح نہیں ہوتا کہ پہلے مرد کو نشانہ بنایا گیا یا خاتون کو۔ بعد میں ایک آواز کہتی ہے، "اس کو مار دو”، جس کے بعد شدید فائرنگ کی آواز آتی ہے۔ ایک موقع پر ایک شخص ویڈیو بنانے پر ناراضی کا اظہار بھی کرتا ہے، اور آخر میں ایک بار پھر خاتون پر گولیاں چلائی جاتی ہیں۔

ایف آئی آر میں شامل دفعات

پولیس کی ایف آئی آر کے مطابق، قتل کی یہ کارروائی تین گاڑیوں میں آئے 15 افراد نے انجام دی، جن میں سے دو کی شناخت تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔ ان پر دفعہ 302 (قتل) اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 اے ٹی اے سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزمان نے قتل کی ویڈیو بنائی اور 35 دن بعد سوشل میڈیا پر وائرل کر کے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی۔

حکومتی ردِعمل

واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان جاری کیا کہ "ریاست کی مدعیت میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور اب تک 11 ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں۔ آپریشن جاری ہے اور تمام ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ ریاست مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے۔”

بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے بھی اس بربریت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "ویڈیو میں دکھائی گئی درندگی انسانیت سوز ہے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔”

انتظامیہ کی تحقیقات

کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر میجر ریٹائرڈ مہراللہ بادینی نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ویڈیو پرانی ہے اور اس کا مقام یا تو کوئٹہ کے مضافاتی علاقے مارواڑ یا مستونگ کے دشت علاقے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ نے فوری نوٹس لیا ہے اور پولیس و لیویز فورس دونوں تحقیقات کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر عوامی ردِعمل

ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد عوامی حلقوں، انسانی حقوق کے کارکنان، اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد نے ویڈیو دیکھی، کئی نے افسوس، غم و غصے اور انصاف کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا۔


خلاصہ:
یہ واقعہ نہ صرف ریاستی عملداری پر سوالیہ نشان ہے بلکہ قبائلی علاقوں میں مروج غیر قانونی فیصلوں کے مہلک نتائج کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر لازم ہے کہ وہ ان جرائم میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دیں تاکہ آئندہ کوئی بھی اس قسم کی درندگی کا مرتکب نہ ہو سکے۔ عوام اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی نظر اس کیس پر ہے، اور عدلیہ سے بھی انصاف کی فوری فراہمی کی توقع کی جا رہی ہے۔

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

انڈیاپاکستان جنگ میں 5 طیارے مار گرانے کے ٹرمپ کے دعویٰ نے مودی کو مشکل میں ڈالدیا

ایتھوپیا، انڈونیشیا اور لیبیا نے غزہ فلسطینیوں کو نکالنے کی صورت میں قبول کرنے کے لئے آمادگی ظاہر کی ہے

فلسطینی صدر محمود عباس کاٹونی بلیئر سے ملاقات،حماس غزہ پر حکومت نہیں کرے گی اور ہتھیار بھی ہمارے حوالے کریں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے