اسرائیلی بمباری سے مزید 92 فلسطینی جاں بحق، غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کرگیا

غزہ پر پھر بمباری

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بمباری کا سلسلہ جاری ہے اور انسانی جانوں کا ضیاع خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، اسرائیلی فوجی طیاروں نے غزہ میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا، جس سے کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور درجنوں افراد جاں بحق ہوئے۔

شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ البلد میں شدید فضائی حملے کیے گئے، جن میں مزید 31 فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مقامی ذرائع کے مطابق، کئی خاندان مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور ملبے تلے پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کام جاری ہے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں کم از کم 92 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ مرنے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جب کہ درجنوں افراد زخمی حالت میں اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے غزہ کی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور اس طرح کے حملے فوری بند ہونے چاہییں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی اسرائیلی فوج نے امداد کے منتظر فلسطینیوں پر گولیاں برسائیں، جس کے نتیجے میں 31 افراد شہید ہو گئے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق، متاثرین خوراک اور طبی امداد کے انتظار میں تھے جب ان پر فائرنگ کی گئی۔

یونیسیف نے بھی غزہ میں جاری انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ غذائی قلت کے شکار بچوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مزید جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔

یونیسیف کے مطابق، غزہ میں بچوں کے لیے خوراک، صاف پانی، ادویات اور طبی سہولیات دستیاب نہیں۔ اسرائیلی حملوں نے نہ صرف رہائشی عمارتوں بلکہ پانی، صحت اور صفائی کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے۔

ادھر، عالمی برادری کی جانب سے اسرائیل پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ عام شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرے اور فوری طور پر جنگ بندی کرے۔ تاہم اب تک اسرائیل کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔

غزہ کے عوام مسلسل خوف، بھوک اور بے گھری کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ عالمی ادارے بار بار کہہ چکے ہیں کہ فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی ناگزیر ہے، بصورت دیگر صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے