"عزمِ عالمی” بحری قافلہ (Global Sumud Flotilla) غزہ کے ساحلوں کے قریب اس خطرناک زون میں داخل ہو چکا ہے جہاں اس پر اسرائیلی فوج کے حملے کا immediate خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اس قافلے میں 39 ممالک کے 500 سے زائد امدادی کارکن شامل ہیں، جو جنگ زدہ غزہ میں محصور عوام کو خوراک اور ادویات پہنچانے کے پرامن مشن پر ہیں۔
بحری قافلے کی تشکیل اور مقاصد
یہ بحری قافلہ اس ماہ کے آغاز میں روانہ ہوا، جس کا بنیادی مقصد اسرائیل کے اٹھارہ سالہ محاصرے کو توڑنا اور غزہ کے عوام کو فوری انسانی امداد پہنچانا ہے۔
- شرکا: اس میں 40 سے زائد کشتیاں شامل ہیں، جن پر سیکڑوں رضاکار سوار ہیں۔ ان میں پارلیمنٹیرینز، وکلا اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان اور سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ جیسی معروف شخصیات بھی اس کا حصہ ہیں۔
- امدادی سامان: قافلے میں غزہ کے لیے ضروری طبی سامان، خوراک اور دیگر امدادی اشیاء لے کر جا رہا ہے۔
خطرناک صورتحال اور اسرائیلی ردعمل
قافلے کے غزہ کے قریب پہنچتے ہی اسرائیلی فوجی تیاریوں میں تیزی آ گئی ہے۔
- فوجی گھیراؤ: اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی بحری جنگی جہازوں نے فلوٹیلا کا گھیراؤ کر لیا ہے۔ ساتھ ہی، درجنوں ڈرونز کی پروازوں نے کشتیوں کی مواصلاتی سہولیات کو متاثر کیا ہے۔
- جوابی منصوبہ: اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فوج نے قافلے کو روکنے کے لیے بعض کشتیوں کو سمندر میں ڈبونے کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے۔
- ہائی رسک زون: فلوٹیلا اس وقت اسرائیل کے اعلان کردہ ہائی رسک زون میں داخل ہو چکا ہے۔ پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کے مطابق، اسرائیلی جنگی جہاز دور سے دکھائی دینا شروع ہو گئے ہیں، جس کے بعد تمام شرکاء نے حفاظتی جیکٹس پہن لی ہیں۔
بین الاقوامی ردعمل اور سیاسی صورت حال
عالمی برادری کی جانب سے اس بحران پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔
- اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کی فلسطین کے لیے خصوصی نمائندہ فرانسیسکا البانیز نے اٹلی کے جہاز کو واپس بلانے کے فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام اسرائیل کو مزید مظالم اور نسل کشی کا موقع دینے کے مترادف ہے۔
- ممالک کی پوزیشن: کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے واضح کیا کہ اس پرامن امدادی مشن پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار پائے گا۔
- اطالوی واپسی: صورتحال کے سنگین ہوتے ہی اٹلی نے اپنا بحری جہاز واپس بلا لیا، جس سے فلوٹیلا کو ایک اہم تعاون سے محروم ہونا پڑا۔
تاریخی تناظر اور مستقبل کے امکانات
غزہ کی جانب جانے والے امدادی بحری قافلوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اسرائیل کا ایک پرانا وطیرہ رہا ہے۔
- ماضی کے واقعات: ماضی میں بھی اسرائیل نے تمام امدادی فلوٹیلا قافلوں کو زبردستی روکا تھا۔
- موجودہ صورتحال: اس مرتبہ بھی ایسا لگ رہا ہے کہ اسرائیل کسی بھی قیمت پر اس قافلے کو غزہ تک نہیں پہنچنے دے گا۔
- مستقبل کے نتائج: اگر قافلے پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو اس کے وسیع پیمانے پر سیاسی اور انسانی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جو خطے میں تناؤ میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
💎 خلاصہ
گلوبل صمود فلوٹیلا اپنے مقصد کے اعتبار سے ایک اہم عالمی انسانی کوشش ہے، مگر موجودہ حالات میں اس کا راستہ انتہائی خطرناک ہے۔ 39 ممالک کے 500 کارکنوں پر مشتمل یہ قافلہ نہ صرف غزہ کے لیے امداد لے کر جا رہا ہے، بلکہ وہ اس محاصرے کے خلاف عالمی ضمیر کی آواز بھی ہے۔ آنے والے گھنٹے اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ پرامن مشن اپنی منزل تک پہنچ پائے گا یا پھر اسے ایک اور المناک موڑ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مزید خبریں:
طالبان کی جانب سے افغانستان میں انٹرنیٹ پر پابندی ایک نیا چیلنج
مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ حیات و خدمات
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں