دہلی کے لال قلعے کے قریب تباہ کن دھشت گردانہ حملہ ، واقعہ اور اب تک کی تفصیلات

لال قلعے کے قریب تباہ کن دھشت گردانہ حملہ

10 نومبر 2025 کو شام 6:52 بجے دہلی کے تاریخی لال قلعہ (ریڈ فورٹ) کے قریب میٹرو اسٹیشن گیٹ نمبر 1 پر ایک کار دھماکہ ہوا، جسے ایک منظم دہشت گرد حملہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ دھماکہ ایک وہیکل برن امیپرووائزڈ ایکسپلوسو ڈیوائس (VBIED) کی صورت میں تھا، جس میں ایمونیم نائٹریٹ فیول آئل (ANFO) اور دیگر متعدی مواد استعمال ہوا۔ دھماکہ کی شدت اتنی تھی کہ کار مکمل طور پر تباہ ہو گئی، قریبی 10-12 گاڑیاں آگ کا شکار ہوئیں، اور شیشے اور دیواریں دور دور تک گر گئیں۔ دھماکہ 3 کلومیٹر دور تک سنا گیا، اور فوری طور پر شدید دھواں اور افراتفری پھیل گئی۔ یہ واقعہ دہلی کی گنجان بازاروں اور سیاحتی علاقے میں پیش آیا، جہاں ہر روز ہزاروں لوگ آتے ہیں۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

ہلاکتیں اور زخمی

  • ہلاکتیں: ابتدائی رپورٹس میں 8-10 ہلاکتیں بتائی گئیں، جو اب 13 تک پہنچ گئی ہیں۔ 5 لاشیں شدید جھلس کر پہچان سے باہر تھیں، اور صرف 8 کی شناخت ہو سکی۔ متاثرین میں ایک 22 سالہ ٹیکسی ڈرائیور پنکج ساہنی بھی شامل ہیں، جن کی گاڑی کی پلٹ بھاگ دھماکے میں ملی۔
  • زخمی: 20 سے زائد زخمی، جن میں سے کئی کو کانوں میں درد اور سماعت کی خرابی کا سامنا ہے۔ زخمیوں کو لوک نہیکا جے پی ہسپتال اور دیگر طبی مراکز منتقل کیا گیا، جہاں وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی دورہ کیا۔

تحقیقات اور ملزمان

دہلی پولیس نے فوری طور پر ان لاافل ایکٹیویٹیز (پریوینشن) ایکٹ (UAPA) اور ایکسپلوسوز ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی، اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کو تحقیقات سونپی گئی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے پتہ چلا کہ کار ایک ماسک پہنے ڈرائیور چلا رہا تھا، جو سست رفتاری سے ٹریفک لائٹ پر رکا اور پھر دھماکہ ہو گیا۔

  • مرکزی ملزم: ڈی این اے ٹیسٹ سے تصدیق ہوئی کہ کار میں ڈاکٹر عمر محمد نبی (پلوامہ، جموں و کشمیر سے تعلق) تھا، جو دھماکے میں مارا گیا۔ وہ ال فلاحیہ یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، فرید آباد (ہریانہ) کا ڈاکٹر تھا، جہاں سے 9 نومبر کو 350-360 کلو ایمونیم نائٹریٹ، اسالٹ رائفلیں، ہینڈ گنز اور ٹائمرز برآمد ہوئے۔ عمر نے کار (ہنڈائی i10 یا i20) 29 اکتوبر کو خریدی تھی اور یونیورسٹی میں 10 دن تک پارک کی رکھی تھی۔
  • دیگر ملزمان: 8 افراد گرفتار، جن میں ال فلاحیہ یونیورسٹی کے 3 ڈاکٹر شامل ہیں:
  • ڈاکٹر شاہین سعید (لکھنو سے، جس کی سابقہ شوہر ڈاکٹر حیات ظفر نے بتایا کہ وہ لبرل تھیں اور مذہبی نہیں)۔
  • ڈاکٹر مزمل شکیل (فرید آباد سے، جس کے رہائشی کمرے سے ایمونیم نائٹریٹ برآمد ہوا)۔
  • ڈاکٹر شاہین سعید۔
  • ڈاکٹر عادل احمد (سہارن پور سے گرفتار، 31 اکتوبر کو سری نگر سے دہلی کی پرواز کی ٹکٹ ملی)۔
  • مزید 2 ڈاکٹر گرفتار۔ نثار الحسن، جن کو2023 میں جموں و کشمیر کی حکومت نےبرطرف کیا تھا، الفلاح میں ملازمت کرتاہے۔
  • دہشت گرد نیٹ ورک: جیش محمد (JeM) سے منسلک "وائٹ کالر ٹیرر ماڈیول”، جو پاکستان بیسڈ ہے۔ ڈائریوں سے 2 سالہ سازش کا پتہ چلا، جس میں 32 VBIEDs کا پلان تھا (8-12 نومبر کے درمیان، بابری مسجد انہدام کی سالگرہ پر)۔ ممکنہ طور پر نیا ISIS سے منسلک گروپ۔ کل 2,900 کلو ایمونیم نائٹریٹ برآمد، اور سرحد پار روابط۔
کلیدی گرفتاریاںتفصیل
ڈاکٹر عمر نبیمرکزی حملہ آور؛ پلوامہ سے، الفلاح میں کام۔ کار میں مارا گیا۔
ڈاکٹر شاہین سعیدلکھنو سے دہشت گردی میں ملوث۔
ڈاکٹر مزمل شکیلفرید آباد سے؛ ایمونیم نائٹریٹ اسٹوریج۔
عادل احمدسہارن پور سے؛ ٹریول ٹکٹ برآمد۔

الفلاح یونیورسٹی کا کردار

فرید آباد کی یہ نجی یونیورسٹی (مسلم اقلیت ادارہ) مرکزی تنقید کا نشانہ ہے۔ بانی جاوید احمد صدیقی (2000 میں 7.5 کروڑ روپے فراڈ کیس میں قید) پر فنڈنگ اور ریڈیکلائزیشن کے الزامات۔ 12 نومبر کو ویب سائٹ ہیک ہوئی ("انڈین سائبر الائنس” نے "ریڈیکل اسلامی سرگرمیوں” کے خلاف وارننگ پوسٹ کی)۔ NAAC نے جعلی ایکریڈیٹیشن پر شو کاز نوٹس جاری کیا، UGC اور NMC تحقیقات کر رہے ہیں۔ 52 ڈاکٹروں سے پوچھ گچھ، 15 غائب۔

سرکاری اور عوامی ردعمل

  • سرکاری: ملک بھر میں ہائی الرٹ؛ ایئرپورٹس، ریلوے اسٹیشنز، ورثہ مقامات اور مذہبی جگہوں پر سیکورٹی بڑھائی۔ لال قلعہ 3 دن بند رہا۔ وزیر اعظم مودی نے بھوٹان سے فون پر امیت شاہ سے بات کی اور کہا "سازشیوں کو نہیں بخشا جائے گا”۔ کابینہ نے 2 منٹ خاموشی اختیار کی۔ 14 نومبر کو پلوامہ میں عمر کی ہاؤس بلڈوز کی گئی۔
  • عالمی: امریکہ، برطانیہ، جاپان، بنگلہ دیش، ارجنٹینا اور مصر نے تعزیت کی اور دہشت گردی کی مذمت کی۔ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے "دہشت گرد حملہ” کہا۔
  • سیاسی: کانگریس نے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ رکھا گپتا نے کہا "دہلی جھکے گی نہیں”۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس (15 نومبر 2025 تک)

  • 14 نومبر: سری نگر کے نوگام پولیس اسٹیشن میں "حادثاتی” دھماکہ، جبکہ دہلی بلاسٹ سے برآمد 360 کلو ایمونیم نائٹریٹ کی جانچ ہو رہی تھی۔ 7-8 پولیس اہلکار اور فورنزک ٹیم کے ارکان ہلاک، 27 زخمی (5 کی حالت نازک)۔ متعدد گاڑیاں جل گئیں، عمارت کو نقصان۔
  • NIA کی تفتیش جاری؛ الفلاح پر آڈٹ، فنڈنگ اور کراس بارڈر لنکس کی چھان بین۔ دہلی پولیس نے مجرمانہ سازش پر نیا ایف آئی آر درج کیا۔ کوئی مزید دھماکہ نہیں، لیکن دہلی میں سیکورٹی سخت۔

یہ واقعہ ہندوستان کی انسداد دہشت گردی کی چیلنجز کو اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر تعلیمی اداروں میں ریڈیکلائزیشن اور فنانشل نیٹ ورکس۔ مزید تفصیلات NIA کی رپورٹس سے سامنے آئیں گی۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے