پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم: فوجی اختیارات میں غیر معمولی اضافہ اور سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا

جنرل عاصم منیر

پاکستان کی پارلیمنٹ نے 13 نومبر 2025 کو 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی، جو فوجی قیادت کو غیر معمولی اختیارات اور توسیع فراہم کرتی ہے۔ یہ ترمیم، جسے ناقدین "فوجی آمریت کا آئینی کور” قرار دے رہے ہیں، طاقت کا توازن ایک بار پھر فوج کے حق میں جھکا دیتی ہے۔ خاص طور پر، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا عہدہ دیا گیا ہے، جو تاحیات اعزازی رینک ہے، اور ان کی چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کی مدت ملازمت 2030 تک بڑھا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، مزید پانچ سالہ توسیع بھی ممکن ہے، جو عملاً تاحیات سربراہی کا راستہ کھول دیتی ہے۔

یہ ترمیم آرمی، ایئر فورس اور نیوی ایکٹس میں تبدیلیوں کے ساتھ آئی، جس نے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا کردار ختم کر دیا اور CDF کا نیا عہدہ متعارف کروایا۔ اسے سپورٹرز "دفاعی ڈھانچے کی جدید کاری” کہہ رہے ہیں، جبکہ مخالفین، بشمول پی ٹی آئی اور انسانی حقوق کے گروپ، اسے "عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی پر کھلا حملہ” قرار دے رہے ہیں۔

ترمیم کے کلیدی نکات

27ویں ترمیم کا مقصد فوجی اور عدالتی ڈھانچے میں تبدیلیاں لانا ہے، جو درج ذیل ہیں:

نکتہتفصیلاثرات
فیلڈ مارشل کا عہدہآرمی چیف عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنایا گیا؛ یہ تاحیات اعزازی رینک ہے۔فوج کے سربراہ کو تاحیات استثنیٰ مل جاتا ہے (1973 کے آئین کے آرٹیکل 47 کے تحت مواخذہ ممکن، لیکن عملی طور پر مشکل)۔
چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF)عاصم منیر کی مدت 5 سال (نومبر 2025 سے 2030 تک)؛ وزیراعظم کی صوابدید سے مزید 5 سال توسیع۔تینوں مسلح افواج کا کنٹرول ایک شخص کے ہاتھ میں؛ جوائنٹ چیفس کمیٹی ختم۔
عدالتی تبدیلیاںآئینی عدالت کا قیام؛ چیف جسٹس امین الدین خان 2028 تک سربراہ۔ وزیراعظم کو ایک بار چیف جسٹس کی تعیناتی کا اختیار۔عدلیہ کو انتظامیہ کے ماتحت قرار؛ دو ججوں نے استعفیٰ دے دیا۔
فوجی قوانین میں ترمیمآرمی، ایئر فورس، نیوی ایکٹس میں تبدیلیاں؛ فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور مارشل آف فلیٹ کے عہدے تاحیات۔فوجی افسران کو ہائی کورٹس سے پہلے ہی استثنیٰ؛ اب تاحیات یونیفارم میں رہنے والوں پر लागو۔
صدر کی توسیعصدر کو تاحیات استثنیٰ؛ عدلیہ انتظامیہ کے ماتحت۔سیاسی مخالفین کے خلاف احتساب کو کمزور کرنا۔

یہ تبدیلیاں 13 نومبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہوئیں، اور 14 نومبر کو نوٹیفکیشن جاری ہوا۔

سیاسی اور سماجی ردعمل

  • حامی: کاروباری طبقہ اور شہری، خاص طور پر کراچی میں، اسے "مضبوط فوج کی ضمانت” کہہ رہے ہیں۔ ایک ویڈیو میں شہری کہتے ہیں: "بھارت کو شکست دینے والے فیلڈ مارشل کی تعریف پوری دنیا کر رہی ہے۔” پیل ن اور اتحادی اسے "استحکام کی بنیاد” قرار دے رہے ہیں۔
  • مخالف: پی ٹی آئی اور عمران خان کے حامی اسے "فیلڈ مارشل کی تاحیات آمریت” کہہ رہے ہیں۔ محمد حنیف کا مشہور بیان وائرل ہے: "سرکار نے 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مارشل کے ڈنڈے کو پالش کر کے اس کے اوپر آئینی کور چڑھا دیا گیا ہے… فیلڈ مارشل کا عہدہ بھی تاحیات ہے اور سات خون بھی معاف ہیں۔” بین الاقوامی کمیشن برائے ماہرینِ قانون (ICJ) نے شدید مذمت کی، اسے "عدلیہ پر حملہ” کہا۔
  • عالمی ردعمل: ICJ کے علاوہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں خبردار کر رہی ہیں کہ یہ جمہوریت کو کمزور کرے گی۔

تاریخی پس منظر

پاکستان کی آئینی تاریخ میں فوج کی بالادستی کوئی نئی بات نہیں۔ 1956، 1962 اور 1973 کے آئینوں میں بھی فوجی مداخلت دیکھی گئی۔ 18ویں ترمیم (2010) نے صوبائی اختیارات بڑھائے، جبکہ 26ویں (2024) نے عدالتی تقرریوں میں تبدیلی کی۔ 27ویں ترمیم اس تسلسل کو فوجی مفادات کی طرف موڑ دیتی ہے، خاص طور پر حالیہ بھارت سے کشیدگی کے تناظر میں۔

ممکنہ اثرات

یہ ترمیم فوج کو سیاسی منظرنامے میں مزید مرکزی بنا دیتی ہے، جو معاشی بحران اور دہشت گردی کے چیلنجز کے بیچ استحکام کا دعویٰ کرتی ہے۔ تاہم، ناقدین کا خدشہ ہے کہ یہ احتساب کو ختم کر دے گی اور سیاسی عدم استحکام بڑھائے گی۔ 15 نومبر 2025 تک، سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے، اور مزید قانونی چیلنجز متوقع ہیں۔

یہ واقعہ پاکستان کی جمہوری جدوجہد کو اجاگر کرتا ہے، جہاں فوج کی طاقت آئین کی آڑ میں مستحکم ہو رہی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے سرکاری نوٹیفکیشن یا پارلیمانی ریکارڈ دیکھیں۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے