ڈاکٹر نسارالحق، سری نگر کے ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے سابق اسسٹنٹ پروفیسر، ایک بار پھر قومی سلامتی کے دائرۂ کار میں آگئے ہیں۔ مختلف مواقع پر متنازع بیانات اور سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے پہلے ہی تنازع کا حصہ رہنے والے ڈاکٹر نسار اب ایک مبینہ "وائٹ کالر” جیشِ محمد ماڈیول کی تحقیقات میں شامل ہیں، جس کا تعلق فاریدآباد اور دہلی میں جاری بڑے انسدادِ دہشت گردی آپریشن سے جوڑا جا رہا ہے۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
تحقیقات کا مرکز عمر نبی ہیں، جو ڈاکٹر نسار کے سابق جونیئر رہے ہیں اور جنہیں حکام اس ماڈیول کا اہم کردار قرار دے رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں، ڈاکٹر نسار کی اہلیہ ڈاکٹر سورایہ نے پہلی مرتبہ کھل کر اپنے شوہر کے دفاع میں بات کی ہے۔
ابتدائی کیریئر اور متنازع پس منظر
ڈاکٹر نسار کا تعلق قصبہ آچبال، سوپور سے ہے—ایک علاقہ جو ماضی میں شدت پسندی کے اثر میں رہا ہے۔ انہوں نے 1991 میں جی ایم سی سری نگر سے ایم بی بی ایس کیا اور 2001 میں ایس کے آئی ایم ایس سے ایم ڈی جنرل میڈیسن مکمل کیا۔
وہ برسوں تک اپنی سیاسی سوچ اور بیانات کی وجہ سے سرخیوں میں رہے۔ ایک موقع پر جموں و کشمیر کے لیفٹننٹ گورنر نے انہیں "ٹکنگ ٹائم بم” تک قرار دیا تھا۔
سرکاری ملازمت کے دوران تنازع
ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے وہ اکثر حکام سے ٹکرا گئے۔ ڈاکٹر نسار، ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر (DAK) کے صدر بھی رہے، اور ان کے چند اقدامات نے حکومت کی توجہ اپنی طرف کھینچی:
- 2013 میں انہوں نے جعلی ادویات اسکینڈل کے خلاف ہڑتال کی، جسے حریت کانفرنس کی حمایت بھی ملی۔
- 2014 میں عمر عبداللہ حکومت نے انہیں مبینہ اشتعال انگیز بیانات پر معطل کیا۔
- 2018 میں انہیں گورنر راج کے دوران دوبارہ بحال کیا گیا، مگر 2023 میں پرانے بیانات سامنے آنے پر انہیں آرٹیکل 311(2)(c) کے تحت برخاست کردیا گیا۔
جیشِ محمد کے “وائٹ کالر ماڈیول” کی تحقیقات
فاریدآباد اور دہلی میں جاری انسدادِ دہشت گردی تحقیقات میں، ڈاکٹر نسار کا نام اس وقت سامنے آیا جب حکام نے ان کے سابق شاگرد ڈاکٹر محمد عمر نبی کے ممکنہ روابط کی جانچ شروع کی۔
عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نسار اور عمر نبی نے ال-فلاح یونیورسٹی میں ایک سال سے زیادہ عرصہ ساتھ کام کیا، جہاں ڈاکٹر نسار جنرل میڈیسن کے پروفیسر تھے۔ اب تفتیش کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا دونوں کے درمیان اس سرگرمی سے متعلق کوئی ربط تھا یا نہیں۔
ڈاکٹر نسار کی اہلیہ کا بیان: “میرے شوہر کا کوئی قریبی تعلق نہیں تھا”
ڈاکٹر نسار کی اہلیہ ڈاکٹر سورایہ نے انڈیا ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ ان کے شوہر اور عمر نبی کے درمیان تعلق بالکل بھی دوستانہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا:
- “نسار صاحب عمر نبی کے رویے سے خوش نہیں تھے۔ وہ اکثر غیر حاضر رہتا تھا، مریضوں اور طلبہ سے دور رہتا تھا۔ اسی وجہ سے اسے ایک اور وارڈ میں منتقل کیا گیا تھا۔”
- انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا میں چل رہی کہانیاں غلط ہیں کہ ڈاکٹر نسار فرار ہیں۔
- “وہ فرار نہیں ہوئے—انہیں این آئی اے نے باضابطہ طور پر حراست میں لیا ہے اور وہ تفتیش میں پوری طرح تعاون کر رہے ہیں۔”
ڈاکٹر سورایہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے شوہر کے خلاف بارہا سیاسی دباؤ اور غلط فہمیاں پیدا کی گئیں، لیکن وہ ہمیشہ خدمتِ خلق اور اپنے پیشے کے اصولوں پر قائم رہے۔
تحقیقات جاری ہیں
قومی ایجنسیوں نے ال-فلاح یونیورسٹی کے دیگر عملے اور طلبہ سے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔ کئی افراد کو حفاظتی حراست میں لیا گیا ہے جبکہ کچھ کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور ابھی کسی کے خلاف حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !