2024 کے لوک سبھا الیکشن میں 80 سیٹوں پر دھاندلی ہوئی اور 1.5 لاکھ جعلی ووٹرزکا اضافہ ہوا، ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں: راہل گاندھی

راحل گاندھی

کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ہفتے کے روز کہا کہ ہندوستان میں انتخابی نظام ‘بے جان’ ہے۔ کانگریس ایم پی نے الزام لگایا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ‘دھاندلی’ ہوئی ہے اور ان کے پاس اس دعوے کو ثابت کرنے کے ثبوت موجود ہیں۔

عام انتخابات میں دھاندلی

دہلی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں 80 سے زیادہ لوک سبھا سیٹوں پر دھاندلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘سچ یہ ہے کہ ہندوستان میں انتخابی نظام ختم ہوچکا ہے، ہندوستان کے وزیر اعظم بہت کم اکثریت کے ساتھ عہدے پر ہیں، اگر 15 سیٹوں پر دھاندلی ہوئی ہے تو ہمیں شبہ ہے کہ یہ تعداد 70 سے 80 سے زیادہ ہے، وہ ہندوستان کے وزیر اعظم نہ ہوتے، آنے والے چند دنوں میں ہم آپ کو ثابت کر دیں گے کہ لوک سبھا کے انتخابات میں کس طرح دھاندلی ہوئی’۔

تقریباً 1.5 لاکھ ووٹر جعلی تھے

انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن (ای سی آئی) کا وجود ختم ہو کر غائب ہو گیا ہے۔ الیکشن کمیشن سے موصولہ دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ کانگریس کو پتہ چلا ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں ووٹ دینے والے 6.5 لاکھ ووٹروں میں سے تقریباً 1.5 لاکھ ووٹر جعلی تھے۔

آئین کی حفاظت کرنے والا ادارہ تباہ

انہوں نے کہا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ آئین کی حفاظت کرنے والا ادارہ تباہ اور قبضہ کر لیا گیا ہے۔ ہمارے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو پورے ملک کو دکھا دیں گے کہ الیکشن کمیشن جیسا ادارہ موجود نہیں۔ یہ غائب ہو گیا ہے۔ اس ثبوت کو تلاش کرنے میں ہمیں مسلسل چھ مہینے لگے ہیں۔ آپ بلا شبہ دیکھیں گے کہ لوک سبھا الیکشن کیسے چوری کیا جاتا ہے۔ 6.5 لاکھ ووٹرز ووٹ ڈالتے ہیں اور ان میں سے 1.5 لاکھ ووٹر جعلی ہیں۔

ایک کروڑ نئے ووٹرز نے بی جے پی کو ووٹ دیا

کانگریس کے سابق صدر نے کہا کہ انہیں 2014 سے کچھ غلط ہونے کا شبہ تھا۔ گجرات، راجستھان اور مدھیہ پردیش کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی بڑی جیت پر سوال اٹھاتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے مہاراشٹر میں اپنی شکست کے بعد انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع کی جہاں اسمبلی انتخابات سے چند ماہ قبل ایک کروڑ نئے ووٹر سامنے آئے جنہوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا۔

انہوں نے کہا کہ میں کچھ عرصے سے الیکشن سسٹم کی بات کر رہا ہوں۔ مجھے 2014 سے ہمیشہ شک تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ مجھے گجرات اسمبلی انتخابات میں پہلے ہی شک تھا۔کانگریس پارٹی کو راجستھان، مدھیہ پردیش یا گجرات میں ایک بھی سیٹ نہیں ملی، جس سے مجھے حیرت ہوئی۔ ہم جب بھی بولتے تھے لوگ کہتے تھے ثبوت کہاں ہے؟ پھر مہاراشٹر میں کچھ ہوا۔

ہمارے پاس ثبوت ہیں

کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہم نے لوک سبھا الیکشن جیتا ہے۔ پھر چار ماہ بعد ہم نہ صرف ہار گئے بلکہ مکمل طور پر مٹ گئے۔ تین مضبوط جماعتیں اچانک غائب ہو گئیں۔ ہم نے انتخابی بے ضابطگیوں کی سنجیدگی سے تحقیقات شروع کر دیں۔ ہم نے پایا کہ مہاراشٹر میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے درمیان ایک کروڑ نئے ووٹروں کا اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ووٹ بی جے پی کو گئے… اب میں بغیر کسی شک کے کہتا ہوں کہ ہمارے پاس ثبوت ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو دیدی دھمکی

مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال

وال اسٹریٹ جرنل” کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کا 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے