کشمیر اپنی دلکش وادیوں، برف پوش پہاڑوں اور حسین جھیلوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ لیکن اس خطے کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اس کی تاریخ بھی نہایت قدیم، گہری اور متنوع ہے۔ کشمیر کو ہمیشہ سے تہذیبوں کا سنگم اور علم و فن کا مرکز سمجھا جاتا رہا ہے۔
ابتدائی دور اور اساطیری پس منظر
کشمیر کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس کے اساطیری حوالوں کا ذکر ضروری ہے۔ قدیم ہندو متون میں اس خطے کو "کشیپ مر” یا "کشیپ کی جھیل” کہا گیا ہے۔ روایت کے مطابق یہ وادی کبھی ایک عظیم جھیل تھی جسے کشیپ رشی نے خشک کیا اور یہاں انسانی بستیوں کی بنیاد رکھی۔ اس تصور نے صدیوں تک کشمیر کی تاریخی اور مذہبی شناخت میں اہم کردار ادا کیا۔
بدھ مت کا عروج
تیسری صدی قبل مسیح میں جب موریہ سلطنت کا اثر و رسوخ یہاں تک پہنچا تو بدھ مت کو کشمیر میں غیر معمولی فروغ ملا۔ اشوک اعظم نے کشمیر میں بدھ مت کی تبلیغ کے لیے خانقاہیں اور اسٹوپے تعمیر کروائے۔ یہیں سے بدھ مت وسطی ایشیا اور چین تک پھیلا۔ کشمیری بھکشوؤں نے علم، فلسفہ اور ادب کے ذریعے بدھ مت کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔
ہندو شاہی اور سنسکرت ادب کا دور
بدھ مت کے بعد کشمیر میں ہندو شاہی خاندانوں کا طویل اقتدار رہا۔ خاص طور پر کارکُوٹ اور اوتپال خاندانوں نے کشمیر کو ایک مضبوط ریاست میں بدل دیا۔ اسی دور میں کشمیر سنسکرت ادب، فنونِ لطیفہ اور فلسفے کا گہوارہ بنا۔
- مشہور کشمیری مورخ کلمبہ (کلاہنہ) نے اپنی کتاب راج ترنگنی میں کشمیر کے حکمرانوں اور ان کے کارناموں کو قلم بند کیا۔ یہ کتاب برصغیر کی قدیم ترین تاریخی تواریخ میں شمار ہوتی ہے۔
- اسی عہد میں فنِ تعمیر اور مجسمہ سازی کو بھی فروغ ملا اور آج بھی اس دور کی باقیات مختلف حصوں میں نظر آتی ہیں۔
اسلام کا ورود
چودھویں صدی عیسوی میں جب وسطی ایشیا اور ایران کے صوفیائے کرام کشمیر پہنچے تو اسلام کی روشنی اس وادی میں پھیل گئی۔ حضرت شاہ ہمدان (رحمہ اللہ) اور دیگر بزرگ ہستیوں نے یہاں نہ صرف دینِ اسلام کی تبلیغ کی بلکہ کشمیری سماج کو ایک نئے روحانی اور ثقافتی رنگ میں ڈھالا۔ اسلامی دور میں علم، فنون اور دستکاری نے ایک نئی شناخت حاصل کی۔ یہی وہ زمانہ تھا جب کشمیر کو "ایشیاء کا ایران” کہا جانے لگا۔
ثقافتی ہم آہنگی
کشمیر کی قدیم تاریخ کا سب سے نمایاں پہلو اس کی ثقافتی ہم آہنگی ہے۔ بدھ مت، ہندو مت اور اسلام کے اثرات نے یہاں کی تہذیب کو ایک منفرد رنگ دیا۔ زبان، ادب، موسیقی، دستکاری اور طرزِ زندگی سب پر ان اثرات کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔
خلاصہ
کشمیر کی قدیم تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ سے علم، روحانیت، تہذیب اور حسن کا مرکز رہا ہے۔ یہاں مختلف مذاہب اور ثقافتوں نے ایک دوسرے کو متاثر کیا اور اس وادی کو ایک ایسی سرزمین بنایا جو اپنی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ فکری و روحانی عظمت کے لیے بھی دنیا بھر میں مشہور ہے۔
مزید خبریں:
آزاد فلسطینی ریاست کبھی نہیں بنے گی: اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون سعر کا دعویٰ
مفتی عبدالغنی ازہریؒ: عظیم عالم، صوفی، مؤرخ اور مصلح، جنہوں نے امت کیلئے اعلیٰ خدمات انجام دیں
ہیئتھرو سے شکاگو کی پرواز میں ایک سبق ملاکہ اصل سفر نہ زمین پر ہےاور نہ آسمان میں
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں