کشمیر کی جدید تاریخ

کشمیر کی جدید تاریخ

کشمیر کی جدید تاریخ ایک طویل جدوجہد، سیاسی اتار چڑھاؤ اور عوامی خواہشات کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ تاریخ 19ویں صدی کے وسط سے لے کر آج تک کئی بڑے واقعات اور تبدیلیوں پر مشتمل ہے۔


ڈوگرہ حکمرانوں کا دور (1846 – 1947)

  • 1846 میں معاہدۂ امرتسر کے تحت برطانوی حکومت نے کشمیر کو ڈوگرہ حکمران گلاب سنگھ کے حوالے کیا۔
  • اس کے بعد ڈوگرہ خاندان نے تقریباً 100 برس تک کشمیر پر حکومت کی۔
  • اس دور میں عوام پر بھاری ٹیکس، جبر و استبداد اور زراعت پر کنٹرول نے کشمیریوں کی زندگی کو سخت متاثر کیا۔
  • اسی زمانے میں مختلف تحریکیں ابھریں جنہوں نے عوام کو بیداری اور حق کے مطالبے کی راہ دکھائی۔

تحریکِ آزادی اور سیاسی بیداری (1931 – 1947)

  • 13 جولائی 1931 کو سری نگر جیل کے باہر ڈوگرہ حکومت کے خلاف عوامی احتجاج میں 22 کشمیری شہید ہوئے۔ یہ دن آج بھی یومِ شہداء کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
  • اسی دور میں شیخ محمد عبداللہ اور دیگر رہنماؤں نے عوامی جدوجہد کو منظم کیا۔
  • 1932 میں جموں و کشمیر مسلم کانفرنس قائم ہوئی جس نے کشمیری مسلمانوں کی سیاسی آواز کو اُجاگر کیا۔
  • بعد میں شیخ عبداللہ نے جماعت کو نیشنل کانفرنس میں تبدیل کیا اور سیکولر سیاست کو اپنایا۔

تقسیمِ ہند اور کشمیر کا مسئلہ (1947)

  • برصغیر کی تقسیم کے وقت ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ آزاد رہنے کے خواہاں تھے۔
  • اکتوبر 1947 میں قبائلی حملہ اور عوامی بغاوت کے بعد مہاراجہ نے بھارت کے ساتھ الحاقی دستاویز (Instrument of Accession) پر دستخط کیے۔
  • اس کے نتیجے میں پہلی بھارت-پاکستان جنگ چھڑ گئی اور 1949 میں اقوام متحدہ نے کشمیر میں رائے شماری کی قرارداد منظور کی، جو آج تک عمل میں نہ آ سکی۔

بھارتی آئین میں خصوصی حیثیت (1950 – 2019)

  • 1950 میں کشمیر کو بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 اور بعد میں آرٹیکل 35A کے تحت خصوصی حیثیت دی گئی۔
  • کشمیری عوام کو داخلی خودمختاری کے کچھ حقوق ملے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ حقوق کم ہوتے گئے۔
  • 1987 کے انتخابات میں دھاندلی کے بعد مزاحمتی تحریک نے شدت اختیار کی اور 1990 کی دہائی میں مسلح جدوجہد سامنے آئی۔
  • اس دوران ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں اور وادی ایک بڑے انسانی المیے سے دوچار ہوئی۔

5 اگست 2019 کا فیصلہ

  • 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے اچانک آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔
  • ریاست جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے براہِ راست وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام کر دیا گیا۔
  • اس فیصلے کے بعد وادی میں کرفیو، گرفتاریوں، انٹرنیٹ بندش اور سیاسی دباؤ کا ماحول قائم ہوا۔
  • آج تک یہ معاملہ سیاسی اور بین الاقوامی سطح پر بحث کا موضوع ہے۔

موجودہ صورتحال

  • موجودہ دور میں کشمیر کے لوگ اپنی شناخت، حقوق اور مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔
  • ترقیاتی دعوؤں کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق، معاشی مشکلات، بے روزگاری اور اعتماد کے فقدان جیسے مسائل نمایاں ہیں۔
  • عالمی برادری وقتاً فوقتاً تشویش کا اظہار کرتی ہے

نتیجہ

کشمیر کی جدید تاریخ ایک ایسی جدوجہد کی کہانی ہے جو شناخت، حقِ خودارادیت اور انصاف کے گرد گھومتی ہے۔ 1846 کے معاہدۂ امرتسر سے لے کر 2019 کے آئینی فیصلے تک، کشمیری عوام نے جبر و مزاحمت کے درمیان اپنی انفرادیت اور آواز کو زندہ رکھا ہے۔ یہ تاریخ اس بات کی غماز ہے کہ کشمیری عوام اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔


جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے