میلاد النبی ﷺ 2025: تاریخ، اہمیت، تقریبات اور اختلافات

میلاد النبی ﷺ 2025

میلاد النبی ﷺ، جسے عید میلاد النبی ﷺ یا مولود النبی بھی کہا جاتا ہے، اسلامی دنیا کا ایک اہم موقع ہے جو رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کی ولادت باسعادت کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے لیے نہ صرف روحانی بلکہ سماجی اور ثقافتی اعتبار سے بھی بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ اس موقع پر مسلمان نبی اکرم ﷺ کی سیرت، تعلیمات اور وراثت پر غور کرتے ہیں۔ تاہم اس کے جواز اور طریقۂ منانے پر مسلم دنیا میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

تاریخی پس منظر

اگرچہ قرآن یا صحیح احادیث میں میلاد النبی ﷺ منانے کا ذکر نہیں ملتا اور خود نبی کریم ﷺ نے بھی اپنی ولادت کا جشن نہیں منایا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ روایت مسلمانوں میں پروان چڑھی۔

ابتدائی دور میں تابعین اور اسلامی مراکز میں محافلِ نعت اور رسول اکرم ﷺ کی شان میں اشعار پڑھے جاتے تھے۔ فاطمی سلطنت (909–1171ء) کے دور میں مصر میں میلاد کو سرکاری سطح پر منایا جانے لگا۔ بعد ازاں 1207ء میں اربیل (عراق) میں ترک جنرل گوکبوری نے پہلی بار بڑے پیمانے پر عوامی جشن منعقد کیا جس میں جلوس، مشعل بردار تقاریب اور قربانی جیسے عناصر شامل تھے۔

عثمانی دور (1588ء) میں میلاد کو سرکاری تعطیل قرار دیا گیا اور ’’مولود قندیل‘‘ کے نام سے اسے عالمی سطح پر پھیلایا گیا۔ برصغیر میں مغل بادشاہوں کے دور میں میلاد النبی ﷺ بڑی شان و شوکت کے ساتھ منایا جانے لگا، جس میں جلوس، چراغاں اور محافل نعت شامل تھیں۔

اہمیت اور فضیلت

میلاد النبی ﷺ دراصل حضور اکرم ﷺ سے محبت اور عقیدت کے اظہار کا موقع ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ’’رحمۃ للعالمین‘‘ (الانبیاء: 107) قرار دیا ہے۔ اس موقع پر مسلمان اپنی زندگیوں کو سنت نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کے عزم کو تازہ کرتے ہیں۔

یہ دن نہ صرف عبادات اور دعاؤں کے لیے ہے بلکہ سماجی یکجہتی، خیرات اور فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے کو جوڑنے کا بھی ذریعہ ہے۔ صوفی روایت میں میلاد النبی ﷺ کو نورِ محمدی کے ظہور کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

سنہ 2025 میں اس دن کو مزید اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ حضور اکرم ﷺ کی ولادت مبارکہ کے تقریباً 1500 سال مکمل ہونے کا موقع ہے۔ کئی مسلم ممالک، خصوصاً پاکستان میں، سال بھر تقریبات اور قومی سرگرمیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔

تاریخ اور ایام

اہل سنت کے نزدیک میلاد النبی ﷺ ہر سال ربیع الاول کی 12 تاریخ کو منایا جاتا ہے، جبکہ اہل تشیع 17 ربیع الاول کو اسے امام جعفر صادقؒ کی ولادت کے ساتھ مناتے ہیں۔

2025 میں یہ دن 4 اور 5 ستمبر کے درمیان منائے جانے کی توقع ہے، تاہم چاند کی رویت کے باعث بعض علاقوں میں تاریخ میں فرق ہوسکتا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان میں اسے عام تعطیل کے ساتھ منایا جاتا ہے اور سرکاری سطح پر مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

دنیا بھر میں تقریبات

دنیا کے مختلف ممالک میں میلاد النبی ﷺ منفرد انداز میں منایا جاتا ہے۔

  • پاکستان و ہندوستان: بڑے جلوس، نعت خوانی، مساجد اور گلیوں میں چراغاں، قرآن خوانی اور خیرات تقسیم کی جاتی ہے۔
  • انڈونیشیا: میلاد کو ’’مولود نبی‘‘ کہا جاتا ہے جہاں ہفتہ بھر میلے، موسیقی اور عوامی تقریبات ہوتی ہیں۔
  • ترکی: ’’مولود قندیل‘‘ کے نام سے میلاد کی رات مساجد میں چراغاں اور سلیمان چلبی کی مشہور نعت کی تلاوت کی جاتی ہے۔
  • مصر، مراکش اور شمالی افریقہ: صوفی ذکر کی محافل، قصائد اور خصوصی پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔
  • نائجیریا و سینیگال: میلاد کو مقامی موسیقی اور رقص کے ذریعے منایا جاتا ہے، جو کمیونٹی کے اتحاد کی علامت ہے۔

خیرات، لنگر، اور غریبوں کی مدد میلاد النبی ﷺ کی تقریبات کا بنیادی حصہ ہیں۔ جدید دور میں آن لائن نعتیہ مقابلے اور ورچوئل لیکچرز بھی اس روایت کا حصہ بن گئے ہیں۔

اختلافات اور مباحثے

میلاد النبی ﷺ پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

  • حامی علما: امام جلال الدین سیوطیؒ، ابن حجر عسقلانیؒ اور دیگر اکثر سنی و شیعہ علما اسے ’’بدعت حسنہ‘‘ قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ نبی اکرم ﷺ کی محبت اور ذکر کو زندہ کرتا ہے۔
  • مخالف علما: سلفی، وہابی اور دیوبندی مکتب فکر اسے ’’بدعت سیئہ‘‘ سمجھتے ہیں، کیونکہ اس کی کوئی اصل قرآن یا سنت میں نہیں۔ ابن تیمیہؒ اور ابن بازؒ جیسے علما نے اس پر تنقید کی اور اسے غیر اسلامی رسومات سے تشبیہ دی۔
  • معتدل رائے: بعض علما اسے جائز سمجھتے ہیں بشرطیکہ اس میں اسراف یا شرکیہ امور شامل نہ ہوں۔

خلاصہ:

میلاد النبی ﷺ دنیا بھر میں ایمان، عقیدت اور محبت کا ایک منفرد مظہر ہے۔ یہ دن مسلمانوں کو نبی اکرم ﷺ کی سیرت اور تعلیمات کو اپنانے کی یاد دہانی کراتا ہے۔ اگرچہ اس کے طریقۂ منانے پر اختلافات ہیں، لیکن اس کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ مسلمانوں کو حضور اکرم ﷺ کے راستے پر چلتے ہوئے رحم، انصاف اور امن کے اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔


آزاد فلسطینی ریاست کبھی نہیں بنے گی: اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون سعر کا دعویٰ

مفتی عبدالغنی ازہریؒ: عظیم عالم، صوفی، مؤرخ اور مصلح، جنہوں نے امت کیلئے اعلیٰ خدمات انجام دیں

ہیئتھرو سے شکاگو کی پرواز میں ایک سبق ملاکہ اصل سفر نہ زمین پر ہےاور نہ آسمان میں

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے