ہندوستان پاکستان کرکٹ میچ میں’نو ہینڈ شیک‘ایک نئی بحث ایک نیا تنازع

نو ہینڈ شیک

ایشیا کپ 2025 کا آغاز ایک سنسنی خیز اور متنازعہ میچ کے ساتھ ہوا، جہاں پاکستان اور بھارت کی ٹیموں نے دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں مدمقابل ہونے کا اعزاز پایا۔ یہ میچ صرف کرکٹ کی جیت اور ہار تک محدود نہ رہا بلکہ ایک نئی قسم کی سیاسی اور جذباتی کشمکش کا شکار ہو گیا۔ میچ کے اختتام پر بھارتی کھلاڑیوں نے روایتی ہینڈ شیک سے انکار کر دیا، جسے پاکستان نے "غیر اخلاقی” اور "کھیل کی روح کے خلاف” قرار دیا۔ اس واقعے نے مزید شدت اس وقت اختیار کی جب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ٹاس کے دوران ہینڈ شیک روکنے کی ہدایت دی تھی۔ نتیجتاً، پی سی بی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے مطالبہ کیا ہے کہ پائیکرافٹ کو فوری طور پر ایشیا کپ سے ہٹا دیا جائے۔ یہ تنازعہ مئی 2025 میں کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے اور بھارت کی جوابی کارروائی ‘آپریشن سندور’ کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید ہوا دے رہا ہے۔ یہ مضمون اس واقعے کی تفصیلات، پس منظر، ردعمل اور ممکنہ اثرات کا جائزہ پیش کرتا ہے۔

میچ کا تفصیلی جائزہ: بھارت کی غلبہ آمیز فتح

ایشیا کپ 2025 کا افتتاحی میچ 14 ستمبر 2025 کو دبئی میں کھیلا گیا، جہاں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ جلد ہی بکھر گئی اور وہ صرف 128 رنز بنا سکی۔ محمد رضوان نے 38 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ بابر اعظم اور سلمان آغا نے بالترتیب 22 اور 18 رنز بنائے۔ بھارتی بولرز نے شاندار کارکردگی دکھائی، خاص طور پر جسپریت بمراہ نے 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ارشدیپ سنگھ اور کلدیپ یادو نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

جواب میں بھارت نے ہدف کو صرف 15.5 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو نے ناقابل شکست 47 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، جبکہ شیوم دوبے نے 32 رنز کی مدد سے ٹیم کو فتح دلائی۔ یہ میچ کھیلاتی طور پر بھارت کی برتری کا مظہر تھا، لیکن سیاسی تناؤ کی وجہ سے یہ ایک تاریخی واقعہ بن گیا۔ ٹاس کے وقت ہی تنازعہ کی بنیاد پڑ گئی جب دونوں کپتانوں—سلمان آغا اور سوریہ کمار یادو—نے ہاتھ نہ ملایا۔ یہ روایت کرکٹ میں احترام کی علامت ہے، اگرچہ یہ کوئی لازمی قاعدہ نہیں۔

پہلوپاکستانبھارت
ٹاسجیتا اور بیٹنگ کا انتخاب
اسکور128/10 (20 اوورز)129/3 (15.5 اوورز)
ٹاپ سکوررمحمد رضوان (38)سوریہ کمار یادو (47*)
ٹاپ بولرشاہین آفریدی (2 وکٹیں)جسپریت بمراہ (3 وکٹیں)
نتیجہ7 وکٹوں سے فتح

میچ کے دوران تماشائیوں نے شدید جوش و خروش کا مظاہرہ کیا، لیکن اختتام پر بھارتی کھلاڑیوں کا ہینڈ شیک سے انکار نے سب کو حیران کر دیا۔ پاکستانی کھلاڑی لائن میں کھڑے انتظار کرتے رہے، جبکہ بھارتی ٹیم براہ راست ڈریسنگ روم کی طرف چلی گئی۔ اس حرکت نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا اور کرکٹ کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی۔

’نو ہینڈ شیک‘ تنازعہ: کیا ہوا اور کیوں؟

تنازعہ کی جڑ ٹاس سے شروع ہوئی۔ میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ، جو زمبابوے کے سابق کرکٹر اور آئی سی سی کے تجربہ کار ریفری ہیں، نے مبینہ طور پر پاکستان کے کپتان سلمان آغا کو ہدایت دی کہ وہ بھارتی کپتان سے ہاتھ نہ ملیں۔ پائیکرافٹ کا استدلال تھا کہ موجودہ سیاسی تناؤ کی وجہ سے یہ رسم چھوڑ دی جائے، تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ تاہم، پاکستان نے اسے "غیر جانبدارانہ” اور "بھارتی ٹیم کی حمایت” قرار دیا۔

میچ ختم ہونے پر بھارتی کھلاڑیوں نے مکمل طور پر ہینڈ شیک سے گریز کیا۔ بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو نے پوسٹ میچ انٹرویو میں کہا: "یہ ٹیم کا مشترکہ فیصلہ تھا۔ کچھ چیزیں کھیل سے بالاتر ہوتی ہیں، اور ہمارے ملک کی سلامتی اور جذبات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔” یہ بیان مئی 2025 کے پہلگام دہشت گرد حملے کا حوالہ تھا، جس میں 12 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے اسے پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گردی قرار دیا اور ‘آپریشن سندور’ کے ذریعے پاکستان کی سرزمین پر جوابی کارروائی کی۔

پاکستان کی جانب سے ٹیم مینیجر نوید اکرم چیمہ نے فوری احتجاج کیا اور پی سی بی نے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کو خط لکھا۔ پاکستان کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسون نے کہا: "یہ بہت مایوس کن ہے۔ کرکٹ ایک جنٹلمین گیم ہے، اور ہینڈ شیک اس کی روح ہے۔” سابق پاکستانی کرکٹر شعیب اختر نے اپنے یوٹیوب چینل پر کہا: "یہ دل شکن حرکت ہے۔ ہم بھی بہت کچھ کہہ سکتے ہیں، لیکن کرکٹ کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے۔”

پاکستان کا مطالبہ: پائیکرافٹ کی برطرفی

15 ستمبر 2025 کو، پی سی بی چیئرمین محسن نقوی—جو اے سی سی کے صدر بھی ہیں—نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان جاری کیا: "پی سی بی نے آئی سی سی اور ایم سی سی کو میچ ریفری کی جانب سے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی شکایت کی ہے۔ ہم ایشیا کپ سے ان کی فوری برطرفی کا مطالبہ کرتے ہیں۔” پی سی بی کا موقف ہے کہ پائیکرافٹ نے ریفری کی غیر جانبداری کو مجروح کیا اور بھارتی ٹیم کی مدد کی، جو روحِ کرکٹ (اسپرٹ آف کرکٹ) کے خلاف ہے۔

بورڈ نے مزید مطالبہ کیا کہ ٹورنامنٹ ڈائریکٹر اینڈریو رسل کو بھی ہٹایا جائے، کیونکہ ان کی نگرانی میں یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ یہ مطالبہ سیاسی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں بھارت نے کہا کہ "سیاست اور کھیل کو الگ نہیں رکھا جا سکتا”۔ آئی سی سی نے ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل ظاہر نہیں کیا، لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ مطالبہ مسترد ہو سکتا ہے، کیونکہ ہینڈ شیک کوئی لازمی قاعدہ نہیں بلکہ روایت ہے۔

ردعمل: دونوں اطراف سے شدید تنقید

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، جہاں #NoHandshake اور #RemovePycroft جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

  • پاکستان کی جانب سے: سابق کرکٹرز راشد لطیف اور وسیم اکرم نے بھارت کی حرکت کو "غیر پیشہ ورانہ” قرار دیا۔ سلمان آغا نے پوسٹ میچ پریزنٹیشن کا بائیکاٹ کیا، جو ایک احتجاجی قدم تھا۔ پاکستانی میڈیا نے اسے "بھارتی جارحیت” کا تسلسل قرار دیا۔
  • بھارت کی جانب سے: سابق کوچ گوتم گمبھیر نے کہا: "یہ قومی موقف ہے۔ دہشت گردی کے بعد ہاتھ ملانا نامناسب ہے۔” بھارتی میڈیا نے اسے "فخر کا لمحہ” بتایا، جبکہ کھلاڑیوں نے سوشل میڈیا پر قومی پرچم کی تصاویر شیئر کیں۔
  • عالمی ردعمل: آئی سی سی کے سابق آفیشلز نے کہا کہ یہ "افسوسناک” ہے، لیکن کوئی سزا نہیں دی جا سکتی۔ آسٹریلیائی کرکٹر شین وارن کے بیٹے نے ٹوئٹ کیا: "کھیل کو سیاست سے دور رکھو۔”
  • شائقین کا ردعمل: دبئی سٹیڈیم میں موجود پاکستانی شائقین نے نعرے بازی کی، جبکہ بھارتی شائقین نے جشن منایا۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں پوسٹس آئیں، جن میں زیادہ تر تنقید بھارت پر تھی۔
ردعملذریعہاہم بیان
پی سی بیمحسن نقوی"فوری برطرفی کا مطالبہ، روحِ کرکٹ کی خلاف ورزی”
بھارتی کپتانسوریہ کمار یادو"ٹیم کا فیصلہ، کھیل سے بالاتر جذبات”
پاکستانی کوچمائیک ہیسون"مایوس کن، ہینڈ شیک کی توقع تھی”
سابق بھارتی کوچگوتم گمبھیر"قومی موقف، دیانتداری کا مطالبہ”
سابق پاکستانی کرکٹرشعیب اختر"دل شکن، کرکٹ کو سیاست سے الگ رکھو”

ممکنہ اثرات: کرکٹ پر سیاست کی چھاپ

یہ تنازعہ کرکٹ کو مزید سیاسی بنانے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے۔ اگر آئی سی سی نے پاکستان کے مطالبے کو قبول نہ کیا تو پی سی بی ٹورنامنٹ سے دستبردار ہونے کا اعلان کر سکتا ہے، جو ایشیا کپ کو متاثر کرے گا۔ باقی میچوں، خاص طور پر ممکنہ فائنل میں، سیکورٹی اور آفیشلز پر مزید توجہ دی جائے گی۔ یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ تعلقات کو مزید خراب کر سکتا ہے، جہاں پہلے ہی آئی پی ایل اور دیگر ٹورنامنٹس میں تنازعات موجود ہیں۔

طویل مدتی طور پر، یہ روحِ کرکٹ پر سوال اٹھاتا ہے۔ ایم سی سی قوانین میں ہینڈ شیک کوئی لازمی نہیں، لیکن یہ احترام کی علامت ہے۔ اگر ایسے واقعات بڑھتے رہے تو کرکٹ کی مقبولیت کم ہو سکتی ہے۔ شائقین امید کر رہے ہیں کہ آئی سی سی اسے حل کرے اور کرکٹ کو صرف کھیل رہنے دے۔

خلاصہ:

پاکستان انڈیا میچ کا ’نو ہینڈ شیک‘ تنازعہ کرکٹ کی تاریخ میں ایک سیاہ باب ہے، جو سیاسی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان کا پائیکرافٹ کو ہٹانے کا مطالبہ جائز ہے یا نہیں، یہ آئی سی سی طے کرے گی، لیکن یہ یقینی ہے کہ کرکٹ اب گیند اور بیٹ سے آگے نکل چکی ہے۔ کیا یہ مطالبہ کامیاب ہوگا؟ اور کیا کرکٹ سیاست سے آزاد رہ سکے گی؟ وقت ہی بتائے گا، لیکن شائقین چاہتے ہیں کہ کھیل کی روح زندہ رہے۔

انجینئر محمد علی مرزا مفتن یامحقق ؟

مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ حیات و خدمات

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے