جموں و کشمیر میں مولانا سید ابوالاعلٰی مودودی کی الجھاد فی الاسلام سمیت حکومت نے دیگر24 کتابوں پر پابندی عائد کردی

مولانا سید ابوالاعلٰی مودودی

جموں و کشمیر حکومت نے 5 اگست کو 25 کتابوں پر پابندی عائد کر دی ہے، جنہیں "قوم دشمن مواد” اور "علیحدگی پسند نظریات” کے فروغ کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کتابیں تاریخی حقائق کو مسخ کرتی ہیں، نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کرتی ہیں، اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

یہ فیصلہ بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا 2023 کے سیکشن 98 کے تحت کیا گیا، اور کتابوں کو ضبط (Forfeited) قرار دیا گیا۔ مذکورہ کتابیں مبینہ طور پر بھارتیہ نیائے سنہیتا کی دفعات 152، 196 اور 197 کی خلاف ورزی کرتی ہیں، جو کہ ملک کی خودمختاری، اتحاد اور امن کے خلاف سرگرمیوں سے متعلق ہیں۔

پابندی کا شکار مصنفین

پابندی کی زد میں آنے والی کتابوں میں معروف مصنفہ اروندھتی رائے کی Azadi: Freedom. Fascism. Fiction شامل ہے۔ اس کے علاوہ جن مصنفین کی کتابیں ضبط کی گئی ہیں ان میں اے جی نورانی (The Kashmir Dispute 1947–2012سمنتر بوسے (Kashmir at the Crossroads), وکٹوریہ شوفیلڈ (Kashmir in Conflict), انورادھا بھاسن (A Dismantled State), طارق علی (Kashmir: The Case for Freedom), کرسٹوفر اسنیڈن (Independent Kashmir) اور مولانا سید ابوالاعلٰی مودودی (الجہاد فی الاسلام) شامل ہیں۔

مختلف اضلاع میں پولیس کارروائیاں

پابندی کے بعد، حکومت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے مختلف اضلاع میں پولیس نے کتاب فروشوں کی دکانوں پر چھاپے مارے:

  • ضلع سرینگر: جموں و کشمیر پولیس نے حکم نمبر Home-ISA/223/2025-11(7655892) کی تعمیل میں کتاب فروشوں کی دکانوں پر چھاپے مارے اور ممنوعہ مواد کی تلاش اور ضبطی کی کارروائیاں کیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی مکمل قانونی عمل کے تحت پرامن انداز میں انجام دی گئی۔
  • ضلع کولگام: کولگام پولیس نے منظم اور قانونی نگرانی میں کئی دکانوں کی تلاشی لی۔ دکانداروں کو سختی سے ہدایت دی گئی کہ وہ کسی بھی ممنوعہ کتاب کو نہ رکھیں اور نہ فروخت کریں۔
  • ضلع پلوامہ: پلوامہ پولیس نے بھی ایک وسیع انسپیکشن مہم چلائی تاکہ ممنوعہ اشاعتوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ تمام کتاب فروشوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ کسی بھی انتہا پسندانہ یا فرقہ وارانہ مواد سے اجتناب کریں۔

عوامی و سیاسی ردعمل

پابندی کے خلاف عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

میر واعظ عمر فاروق نے ایک بیان میں کہا کہ اسکالرز اور مؤرخین کی کتابوں پر پابندی لگانے سے نہ تاریخ مٹائی جا سکتی ہے اور نہ ہی عوام کی یادداشت ختم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت کے اس اقدام کو "آمریت پسندی اور فکری تنگ نظری” کی علامت قرار دیا۔

انہوں نے اس امر پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ کتابوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ ایک کتاب میلہ بھی سرکاری سرپرستی میں منعقد ہو رہا ہے، جو "اظہارِ خیال کی آزادی کے دعوے کی نفی” ہے۔

مصنفہ انورادھا بھاسن نے حکومت کے دعوے کو "بے بنیاد” قرار دیا اور کہا کہ ان کی کتاب محققانہ انداز میں لکھی گئی ہے اور اس میں کسی قسم کی دہشت گردی کی تائید نہیں کی گئی۔

راجیہ سبھا کے رکن منوج جھا نے اسے ایک "پسماندہ قدم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سنسرشپ فکری آزادی کو کچل دیتی ہے اور معاشرے کو یک رنگی کی طرف دھکیلتی ہے۔


نتیجہ:

جموں و کشمیر میں کتابوں پر پابندی اور اس کے بعد کی پولیس کارروائی نے ریاستی آزادی اظہار، علمی تحقیق، اور فکری مباحث پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت جہاں اسے قومی سلامتی کے لیے ضروری اقدام قرار دے رہی ہے، وہیں ناقدین اسے آزادیِ رائے پر حملہ اور علمی آزادی کا گلا گھونٹنے کی کوشش سمجھتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو دیدی دھمکی

مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال

وال اسٹریٹ جرنل” کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کا 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے