اسرائیل نے آخر کار غزہ پر مکمل فوجی قبضہ کرنے کا فیصلہ کر لیا

غزہ پر قبضہ

اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے 8 اگست 2025 کو وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی تجویز پر غزہ پر مکمل فوجی قبضہ کے منصوبے کی منظوری دی، جس میں غزہ کی پٹی پر مرحلہ وار قبضہ اور شہریوں کو جنوب کی طرف منتقل کرنا شامل ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اس کے لیے 6 فوجی ڈویژن تعینات کیے جا سکتے ہیں۔ اس فیصلے کی اقوام متحدہ، برطانیہ، آسٹریلیا، ترکی اور دیگر ممالک نے شدید مذمت کی ہے، اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور دو ریاستی حل کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔

حماس نے اسے جنگ بندی مذاکرات پر حملہ قرار دیتے ہوئے مزاحمت کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یرغمالیوں کے لواحقین اور سابق اسرائیلی سکیورٹی حکام نے بھی اس منصوبے کی مخالفت کی، اسے خطرناک اور غیر مؤثر قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا کہ اس سے فلسطینیوں کے لیے تباہ کن نتائج اور بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو دیدی دھمکی

مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال

ہیروشیما پر ایٹمی حملے کی 80ویں برسی، جاپان کا پرامن دنیا کے لیے مؤثر پیغام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے