کل کی ڈھلتی روشنی کو تھام کر مت بیٹھو!
ہر دن سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ افق پر جلوہ گر ہوتا ہے، اور پھر رفتہ رفتہ غروب ہو کر تاریکیوں کے دامن میں سما جاتا ہے، مگر یہی سورج اگلی صبح ایک نئی روشنی، نئی زندگی، اور نئی امید کے ساتھ پھر طلوع ہوتا ہے، قدرت کا یہ اٹل قانون ہمیں ایک دائمی پیغام دیتا ہے، کہ ہر غروب، اختتام نہیں؛ بلکہ ایک نئے آغاز کی تمہید ہے، لیکن افسوس! ہم میں سے اکثر وہ ہیں جو غروبِ دوش سے لپٹے بیٹھے ہیں اور طلوعِ فردا کی روشنی کو دیکھنے سے انکاری۔
زندگی ایک جاری و ساری دریا کی مانند ہے جو رکتا نہیں، تھمتا نہیں، پیچھے پلٹتا نہیں، جو شخص اس دریا کے بہاؤ کے خلاف بیٹھ جائے، وہ اپنے ہی وجود کو جمود کے سپرد کر دیتا ہے، وقت اس کا انتظار نہیں کرتا، بلکہ اسے کچل کر آگے بڑھ جاتا ہے، یہی حال ان قوموں کا ہے جو ماضی کی عظمتوں کے مجسمے بنا کر ان کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتی ہیں، مگر حال کے چیلنجز کو نظرانداز کر کے مستقبل کے مطالبات سے غافل رہتی ہیں۔
جب انسان ہر صبح آنکھ کھولتا ہے تو وہ دراصل ایک نئی زندگی میں قدم رکھتا ہے، یہ صبح محض ایک قدرتی مظہر نہیں، بلکہ ایک روحانی پیغام ہے، کہ آج کا دن تمہارے لئے نئی کوشش، نئی ہمت، اور نئی تعمیر کا موقع ہے، جو شخص اس صبح کو ماضی کے پچھتاووں کی زنجیروں میں جکڑ کر ضائع کر دیتا ہے، وہ حقیقتاً اپنی تقدیر کے دروازے خود بند کر دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کی ہر نئی صبح، ایک نئی زندگی ہے، یہ تمہارے لئے موقع ہے کہ پچھلے دنوں کی غفلت، شکست، ناکامی، یا گناہوں کو پیچھے چھوڑ کر اللہ کی اطاعت کے ساتھ نئے سفر پر روانہ ہو جاؤ۔
یہ دردناک حقیقت ہے کہ برِصغیر کے مدارس، جو کبھی اسلام کے علمی قلعے ہوا کرتے تھے، آج فکری جمود کا شکار ہو چکے ہیں، ان کے صحنوں میں وقت رک گیا ہے، اور ان کی فضاؤں میں قرونِ وسطیٰ کی گرد بسی ہوئی ہے، ان مدرسوں میں داخل ہو کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا وقت نے یہاں سانس لینا چھوڑ دیا ہو، درسگاہیں اب مزاروں کا منظر پیش کرتی ہیں، نہ تجدید فکر کی کوئی رمق، نہ مستقبل کی کوئی تیاری۔
یہ وہی مدارس ہیں جہاں کبھی صرف فقہ و حدیث ہی نہیں، علمِ ہیئت، منطق، فلسفہ، ریاضی، اور طب کے چراغ بھی روشن تھے، مدرسه رحيميه، مدرسه فرنگی محل، اور مدرسه خير آباد جیسے ادارے علم و فکر کا مرکز تھے، مگر آج ان كے خلف ایک تنگ دائرے میں قید ہو چکے ہیں، جہاں سوال کرنا گستاخی، تحقیق کرنا بغاوت، اور تجدید کی بات کرنا انکارِ دین تصور کیا جاتا ہے۔
کیا ہم بھول گئے ہیں کہ امام غزالیؒ نے اپنی علمی گہرائی کے ساتھ فلسفہ و منطق کے میدان میں بھی قدم رکھا؟ کیا ہم نے ابن رشدؒ کی فکر کو فراموش کر دیا، جنہوں نے ارسطو کی شرح لکھ کر یورپ کے فکری انقلاب کی بنیاد رکھی؟ کیا ہمیں ابن خلدونؒ یاد نہیں، جنہوں نے عمرانیات کی بنیاد رکھی؟ یہ سب وہ علماء تھے جنہوں نے ماضی کے ساتھ تعلق تو رکھا، مگر حال کو سمجھا اور مستقبل کو تعمیر کیا۔ اسی لئے وہ دنیا کے رہنما بنے۔
قرآن حکیم ہمیں مسلسل یاد دلاتا ہے: "وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ” يعنى يه دن (کامیابی و ناکامی کے) ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ اللہ نے دنوں کو گردش میں رکھا ہے تاکہ انسان، قومیں، اور امتیں رکے نہیں، تھمیں نہیں، جس دن ہم نے اس گردش کو سمجھنا چھوڑ دیا، ہم دنیا کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے، ہمارے مدارس، ہمارے تعلیمی ادارے، اور ہماری دینی قیادت، اگر ماضی کی زنجیروں کو نہ توڑ سکی تو وہ امت کو روشنی کی طرف لے جانے کی صلاحیت کھو بیٹھے گی۔
ماضی کی محبت جرم نہیں، لیکن اس میں قید ہو جانا خودکشی کے مترادف ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم ماضی سے سیکھیں، مگر حال کو سمجھیں اور مستقبل کے لئے خود کو تیار کریں، آج کا مدرسہ اگر واقعی علم کا قلعہ بننا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ نصاب کی تجدید کرے، جہاں تفسیر و حدیث ہو، وہیں سائنسی افکار، ٹیکنالوجی، اور معاصر سماجی علوم بھی ہوں، طلبہ کو محض ناقل اور راوی نہ بنائے، بلکہ انہيں مفکر اور مجتہد بنائے، دنیا کے بدلتے ہوئے رجحانات سے باخبر ہوں، تاکہ وہ امت کو راہ دکھا سکیں، نہ کہ ماضی کا نوحہ سناتے رہیں، اور سب سے بڑھ کر، علم کو عمل سے جوڑیں، محض بوسيده الفاظ اور خالى از حقائق معانى نہیں، بلكه فكر وکردار پیدا کریں؛ کیونکہ الفاظ کا بوجھ وہی اٹھاتا ہے جو عمل سے خالی ہو۔
اے علم کے وارثو! اے امت کے نوجوانو! اور اے اہلِ مدارس! ربّ کریم نے تمہیں ہر صبح ایک نئی زندگی دی ہے، یہ تمہارا امتحان بھی ہے، اور تمہارے لئے انعام بھی، شکایتوں، ماضی کے زخموں، اور شکست خوردہ سوچ سے باہر نکلو، اللہ کی اطاعت میں ہمه تن لگ جاؤ، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو، اور انسانیت کی رہنمائی کے لئے اپنی فکری، تعلیمی، اور عملی تیاری مکمل کرو۔
یاد رکھو: "إن الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بأنفسهم” بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔
تو آئیے! آج کا دن، نقطۂ آغاز بنے، نہ کہ ماضی کا مزار، کیونکہ تمہاری نئی زندگی ہر صبح شروع ہوتی ہے، اسے ضائع نہ ہونے دو۔
مزید خبریں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو دیدی دھمکی
مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال
ہیروشیما پر ایٹمی حملے کی 80ویں برسی، جاپان کا پرامن دنیا کے لیے مؤثر پیغام
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں