بد شگونی، نحوست اور چھوت چھات جیسے گمراہ عقائد کی تاریخ بھی بنی نوع انسانیت سے کچھ کم نہیں ہے یہ بتا پانا مشکل ہے کہ عوام الناس کے گمراہ عقائد میں بد شگونی اور نحوست کب سرایت کر گئی اور اس نے لوگوں کو کب سے بھٹکا دیا، کوئی نہیں جانتا۔حتیٰ کہ سانسیں اور ٹیکنالوجی کے اس علمی دور میں ہم ایسا منظر بھی دیکھیں گے کبھی سوچا نہیں تھا۔
جہاں ہم چھوت چھات، نحوست و بدشگونی کی کہانیوں کو قصۂ پارینہ سمجھ بیٹھے تھے، جولائی 2025 کی ایک گھٹنا نے ہم کو ہلا کر رکھ دیا اور پورا سماج دم بخود رہ گیا۔
پورنیہ (بہار) کے ایک گاؤں میں چھوت چھات کا حوالہ دے کر غریب اور مسکینوں کو بچوں سمیت جلا دیا گیا جسے دیکھ کر روح کانپ گئی۔
ایک شاعر کو محض اس کے دلت ہونے کی بنا پر نہ صرف ذلیل و رسوا کیا گیا بلکہ اس کے سر کو مونڈ کر اس پر پیشاب بھی کیا گیا۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
جمود اور قدامت پسندی کی شکار بھیڑ معصوم اور غریبوں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالتی ہے،
غریب اور مسکینوں کو بے گھر کیا جاتا ہے جسے دیکھ اور سن کر جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ
یہ داستانیں ہم کسی ناول یا قدیم قصے کہانیوں کی کتابوں سے نہیں لائے ہیں بلکہ یہ وہ تلخ حقائق ہیں جو موجودہ دور میں ہم بنفس نفیس عینی مشاہدہ کر رہے ہیں۔
قربان جاؤں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر کہ آپ نے چودہ سو سال قبل احترام انسانیت، اخلاق کریمانہ اور آزادی نفس کا ایسا بگل بجایا کہ تا قیامت تمام جن و انس آپ کے ان احسانات کے ممنون اور مشکور ہیں۔
اور تمام تعریفات اس خالق دو جہاں کے لیے ہیں جس نے بنی نو انسانیت کی رشد و ہدایت کے لیے ایسے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔
اس نعمتِ عظمیٰ پر نہ صرف ہمیں بلکہ پوری دنیا کو رحمت اللعالمین ﷺ کی بعثت اور ان کی روشن تعلیمات پر خوشیاں منانا چاہیے، جیسا کہ خود رب العالمین نے فرمایا:
لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ۚ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ (164)
بے شک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔
زندہ رہنے کا حق
مذہبِ اسلام نے دنیا کی تمام بنی نوع انسانیت کو نہ صرف زندہ رہنے کا حق دیا بلکہ ان کو بھرپور عزت و تکریم کے ساتھ ان کی حفاظت کی ضمانت دی۔ فرمایا:
مِنۡ اَجۡلِ ذٰلِکَ کَتَبۡنَا عَلٰی بَنِیۡ اِسۡرَائِیۡلَ اَنَّہٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَیۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِی الۡاَرۡضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیۡعًا… (32)
اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والا ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا، اور جو شخص کسی ایک کی جان بچا لے، اس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کردیا۔
اور دوسرے مقام پر فرمایا:
وَ لَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡ اٰدَمَ وَ حَمَلۡنٰہُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیۡلًا (70)
یقیناً ہم نے اولادِ آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی۔
اسلام نے اس بات میں کوئی تفریق نہیں کی کہ آیا وہ شخص مسلمان ہے یا کافر، گورا ہے یا کالا، تونگر ہے یا گداگر، مرد ہے یا عورت، جوان ہے یا بوڑھا، حتی کہ حشرات الارض اور چرند پرند و بہائم کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنے اور انہیں اذیت دینے سے منع فرمایا۔
حدیث:
ایک بلی کی وجہ سے ایک عورت جہنم میں چلی گئی۔
(صحیح بخاری، حدیث نمبر: 3482)
بعثتِ نبوی کے بعد کا دور
رسول، پیغمبر اور نبی بنائے جانے کے باوجود رائی کے دانے برابر آپ ﷺ کے اندر کوئی فخر و غرور نہیں تھا۔
حتیٰ کہ آپ ﷺ بذاتِ خود اپنی تعریف و توصیف میں غلو کرنے سے سختی سے منع فرمایا کرتے تھے۔
فرماتے تھے:
“لا تُطْرُونِي كما أَطْرَتِ النَّصارى ابْنَ مَرْيَمَ…”
(مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ ابن مریم کو بڑھا دیا۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ اور رسول ہوں۔)
(صحیح بخاری، حدیث: 3445)
اسلام میں برابری اور ذات پات کا خاتمہ
آج بھی بہت سے لوگ نحوست و بدشگونی جیسے گمراہ کن عقائد کو حرزِ جاں بنائے ہوئے ہیں۔
کسی کو دولت کا نشہ ہے، کسی کو جا و منصب کا، کسی کو حسب و نسب پر فخر ہے، تو کوئی رنگ و نسل پر اتراتا ہے۔
لیکن اسلام نے صرف ایک جملے میں سب کو برابر قرار دیا:
“كلكم بنو آدم وآدم من ترابٍ…”
(تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔)
(مجمع الزوائد: 8/89)
اور فرمایا:
“لا فضل لعربي على عجمي، ولا لأبيض على أسود إلا بالتقوى…”
(کسی عرب کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔)
(شرح الطحاویہ: 361)
اسلام میں چھوت چھات نہیں
رب العالمین کا بے پناہ شکر ہے کہ اسلام میں کوئی ذات پات، اونچ نیچ یا طبقات نہیں بنائے گئے،
بلکہ تمام انسانیت کو ایک نظر سے دیکھا گیا۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“إن الله لا ينظر إلى صوركم وأموالكم ولكن ينظر إلى قلوبكم وأعمالكم”
(اللہ تمہاری شکل و صورت اور مال کو نہیں بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔)
(صحیح مسلم: 2564)
بدشگونی اور نحوست کا رد
زمانۂ جاہلیت میں کوئی زمانے کو برا کہتا، کوئی عورت کو فساد کی جڑ قرار دیتا، کوئی سواری سے بدشگونی لیتا، تو کوئی گھر میں نحوست ڈھونڈتا۔
لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“لا عدوى ولا طيرة ولا هامة ولا صفر”
(چھوت، بدشگونی، الو یا صفر کی نحوست کوئی چیز نہیں۔)
(صحیح بخاری: 5757)
یوں آپ ﷺ نے ان تمام شرکیہ عقائد کی جڑ کاٹ دی۔
بدشگونی سے بچنے والوں کی فضیلت
آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص بدشگونی یا نحوست جیسے شرکیہ عقائد سے اجتناب کرتا ہے،
وہ ان ستر ہزار خوش نصیب لوگوں میں سے ہوگا جو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں جائیں گے۔
(صحیح بخاری، حدیث: 5705)
اختتامی کلمات
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کو صحیح سے سمجھیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائے، ہمیں ہر قسم کی آفات اور پریشانیوں سے محفوظ رکھے،
اور ہمارے ملک کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
تحریر:
ڈی محمد خالد جامعی سلفی ندوی
ہری ہر، کرناٹک
استاذ جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !