تفسیر بالرائے پر مولانا ابوالکلام آزادؒ کا موقف
تفسیر بالرائے کا مطلب سمجھنے میں لوگوں کو لغزشیں ہوئی ہیں۔ تفسیر بالرائے کی ممانعت سے مقصود یہ نہ تھا کہ قرآن کے مطالب میں عقل و بصیرت سے کام نہ لیا جائے، یا اُس کی تفسیر کرنے میں عقل و درایت کو دخل نہ دیا جائے، کیوں کہ اگر یہ مطلب ہو تو پھر قرآن کا درس و مطالعہ ہی بے سود ہو جائے، حالاں کہ خود قرآن کا یہ حال ہے کہ اول سے لے کر آخر تک تعقل و تفکر کی دعوت ہے اور ہر جگہ مطالبہ کرتا ہے کہ: افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا؟
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
تفسیر بالرائے میں ’رائے‘ بمعنیِ لغوی نہیں، بلکہ ’رائے‘ مصطلحۂ شارع ہے، اور اس سے مقصود ایسی تفسیر ہے جو اس لیے نہ کی جائے کہ خود قرآن کیا کہتا ہے، بلکہ اس لیے کی جائے کہ ہماری کوئی ٹھہرائی ہوئی رائے کیا چاہتی ہے، اور کس طرح قرآن کو کھینچ تان کر اُس کے مطابق کر دیا جا سکتا ہے۔
مثلاً جب بابِ عقائد میں رد و کد شروع ہوئی تو مختلف مذاہبِ کلامیہ پیدا ہو گئے۔ ہر مذہب کے مناظرین نے چاہا کہ اپنے مذہب پر نصوصِ قرآنیہ کو ڈھالیں۔ وہ اس کی جستجو میں نہ تھے کہ قرآن کیا کہتا ہے، بلکہ اس کی کاوش تھی کہ کسی طرح اُسے اپنے مذہب کا مؤید دکھلا دیں۔ اس طرح کی تفسیر، تفسیر بالرائے تھی!
یا مثلاً مذاہبِ فقہیہ کے مقلدین میں جب تحزب و تشیع کے جذبات تیز ہوئے تو اپنے اپنے مسائل کی سچ میں آیاتِ قرآنیہ کو کھینچ تاننے لگے۔ اس کی کچھ فکر نہ تھی کہ لغتِ عربی کے صاف صاف معانی، اسلوبِ بیان کا قدرتی مقتضا، عقل و بصیرت کا واضح فیصلہ کیا کہتا ہے؟ تمام تر کوشش یہ تھی کہ کسی نہ کسی طرح قرآن کو اپنے مذہب کے مطابق کر دکھائیے۔ یہ طریقِ تفسیر، تفسیر بالرائے ہے!
یا مثلاً ایک گروہ متصوفین کا پیدا ہوا اور اپنے موضوعہ عقائد و اصول پر قرآن کو ڈھالنے لگا۔ قرآن کا کوئی حکم، کوئی عقیدہ، کوئی بیان تحریفِ معنوی سے نہ بچا۔ یہ تفسیر بالرائے تھی!
یا مثلاً قرآن کے طریقِ استدلال کو منطقی جامہ پہنانا، یا جہاں کہیں آسمان اور کواکب و نجوم کے الفاظ آ گئے ہیں، یونانی علمِ ہیئت کے مسائل چپکانے لگنا، یقیناً تفسیر بالرائے ہے!
یا مثلاً آج کل ہندوستان اور مصر کے بعض دانش فروشوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ (اُنہی کے لفظوں میں) زمانۂ حال کے ’اصولِ علم و ترقی‘ قرآن سے ثابت کیے جائیں، یا بقول اُن کے فلسفہ و سائنس اُس کی ہر آیت میں بھر دیا جائے۔ گویا قرآن صرف اِسی لیے نازل ہوا ہے کہ جو بات کوپرنیکس اور نیوٹن نے یا ڈارون اور ویلس نے بغیر کسی الہامی کتاب کے فلسفہ اندیشیوں کے دریافت کر لی، اُسے چند صدی پہلے معموں اور بُجھارتوں کی طرح دنیا کے کان میں پھونک دے، اور پھر وہ بھی صدیوں تک دنیا کی سمجھ میں نہ آئیں، یہاں تک کہ موجودہ زمانہ کے مفسر پیدا ہوں اور تیرہ سو برس پیشتر کے معمے حل فرمائیں۔ یقیناً یہ طریقِ تفسیر بھی ٹھیک ٹھیک تفسیر بالرائے ہے۔
مولانا ابو الکلام آزادؔ
تفسیر ترجمان القرآن، جلد اول، صـ ۷۱
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی