زکوٰۃ کے مصارف اور پیشہ ور گداگروں کے مسئلے پر شرعی رہنمائی
میرا ایک سوال تھا کسی کو قرآن کی تفسیر اور قرآن و حدیث کا ہدیہ اور اس طرح سے کسی علمی مد میں کیا زکوۃ کا پیسہ خرچ کیا جا سکتا ہے جس سے کہ علم اور شعور میں اضافہ ہوتا ہو اور کمیونٹی کی ترقی مطلوب ہو۔
دوسرا سوال پیشہ ور گداگروں سے کیا معاملہ رکھا جائے جو رمضان میں دن بھر یکے بعد دیگرے دروازے پر دستک دیتے رہتے ہیں اگر تھوڑے بہت پیسے دے بھی دیں تو ہر تیسرے دن دروازے پر دستک دینا اپنا معمول بنالیتے ہیں وہ اپنے جھوٹ اور فریب کے لیے اللہ کا نام لے کر لوگوں کو جذباتی طور پر بلیک میل کرتے ہیں اور پھر وہ کچھ پیسے اس لیے دے دیتے ہیں کہیں اللہ کو ناگوار نا گزرے، اس سے ان کی عادتیں خراب ہوتی ہیں اور اصل مستحق کا حق مارا جاتا ہے۔ اس صورتحال کے ساتھ کیسے ڈیل کیا جائے؟
پلیز ان دونوں سوالات کے تشفی بخش جواب دے دیجیے
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
جواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
اسلامی شریعت میں زکوٰۃ کا بنیادی مصرف معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند طبقات کی کفالت اور معاشرتی عدل کا قیام ہے۔ قرآنِ کریم نے زکوٰۃ کے مصارف کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے: "إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ” (التوبہ: 60)۔ اس آیتِ کریمہ میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کیے گئے ہیں اور ان میں سب سے پہلے فقراء اور مساکین کا ذکر کیا گیا ہے۔ فقہاءِ اسلام نے اس ترتیب سے یہ اصول اخذ کیا ہے کہ زکوٰۃ کا بنیادی اور اولین حق انہی افراد کا ہے جو معاشی تنگی اور محرومی کا شکار ہوں۔ چنانچہ اگر کسی معاشرے میں ایسے افراد موجود ہوں جن کی بنیادی ضروریاتِ زندگی پوری نہیں ہو رہیں، جو قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں یا جو کسی مجبوری کی وجہ سے کفالت کے محتاج ہیں، تو زکوٰۃ کی ادائیگی میں ان کی حاجت روائی کو اولین ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔
تاہم قرآنِ کریم نے مصارفِ زکوٰۃ میں ایک عنوان "فی سبیل اللہ” کا بھی ذکر کیا ہے جس کے مفہوم اور دائرۂ کار پر فقہاء اور اہلِ علم کے درمیان قدیم زمانے سے علمی گفتگو ہوتی رہی ہے۔ بعض اہلِ علم کے نزدیک اس سے مراد بنیادی طور پر جہاد اور اس سے متعلق امور ہیں، جب کہ بعض دیگر اہلِ علم نے اس مفہوم کو قدرے وسیع قرار دیا ہے اور اسے دین کی خدمت، دعوت و تبلیغ، اور دینی تعلیم کے فروغ تک بھی پھیلا دیا ہے۔ اسی بنا پر بعض معاصر اہلِ علم یہ رائے رکھتے ہیں کہ اگر کسی دینی اور تعلیمی ضرورت کے تحت قرآنِ کریم، حدیث اور دیگر معتبر دینی کتابوں کی اشاعت یا تقسیم کا انتظام کیا جائے اور اس کا مقصد معاشرے میں دینی شعور اور اخلاقی اصلاح کو فروغ دینا ہو، تو خاص حالات میں اسے "فی سبیل اللہ” کے ضمن میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس معاملے میں نہایت احتیاط اور ذمہ داری کا تقاضا ہے، کیونکہ زکوٰۃ بنیادی طور پر غریبوں کا حق ہے اور اسے غیر ضروری منصوبوں میں منتقل کر دینا شریعت کی روح کے خلاف ہو سکتا ہے۔
اس ضمن میں ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ زکوٰۃ کو کسی صورت ذاتی منفعت یا کاروباری فائدے کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر کوئی شخص اپنی تصنیف کردہ کتابوں کو زکوٰۃ کے پیسے سے شائع یا خرید کر تقسیم کرتا ہے اور اس میں اسے مالی فائدہ حاصل ہوتا ہے، تو یہ طرزِ عمل شرعاً محلِ اشکال بلکہ اکثر فقہاء کے نزدیک ناجائز ہوگا، کیونکہ اس میں زکوٰۃ کے مال کو بالواسطہ طور پر اپنی ذات کے لیے استعمال کرنے کا پہلو پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ کے استعمال میں شفافیت، دیانت اور احتیاط کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے تاکہ یہ عبادت اپنے اصل مقصد یعنی محتاجوں کی کفالت اور معاشرتی بھلائی کے فروغ کو پورا کر سکے۔
دوسرا سوال پیشہ ور گداگروں کے بارے میں ہے جو بعض اوقات بالخصوص رمضان المبارک کے مہینے میں لوگوں کے گھروں کے دروازوں پر بار بار دستک دے کر مالی امداد طلب کرتے ہیں اور بعض مواقع پر مذہبی جذبات کو ابھار کر لوگوں کو دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسلام یقیناً محتاجوں کی مدد اور سائل کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ دھوکہ دہی اور پیشہ ورانہ بھیک مانگنے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ رسول اللہ ﷺ کی متعدد احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بلا ضرورت سوال کرنا اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بھیک کو مستقل پیشہ بنا لینا اور لوگوں کے جذبات کو استعمال کر کے ان سے پیسے حاصل کرنا اسلامی اخلاقیات کے خلاف ہے۔
اگر کسی شخص کو یہ گمان ہو کہ کوئی سائل واقعی ضرورت مند ہے تو اس کی مدد کرنا یقیناً باعثِ اجر ہے، لیکن ہر سائل کو دینا شرعاً لازم نہیں۔ اگر کسی کے بارے میں قوی احتمال ہو کہ وہ پیشہ ور بھکاری ہے یا اس کا طرزِ عمل فریب اور مبالغہ پر مبنی ہے، تو ایسی صورت میں انکار کرنا گناہ نہیں ہے۔ البتہ انکار کا طریقہ شائستہ اور مہذب ہونا چاہیے، کیونکہ قرآنِ کریم کی ہدایت ہے کہ اگر کسی سائل کو کچھ نہ دیا جا سکے تو اس سے نرمی اور حسنِ کلام کے ساتھ بات کی جائے۔ چنانچہ ایک مسلمان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ احترام کے ساتھ معذرت کر لے اور اگر ممکن ہو تو اپنی خیرات اور زکوٰۃ کو ایسے مستحق افراد تک پہنچانے کا اہتمام کرے جن کی ضرورت تحقیق کے بعد واضح ہو چکی ہو۔
اسی طرح اگر کسی شخص کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہو جائے کہ وہ جھوٹ اور دھوکے کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے اور اس عمل کو پیشہ بنا چکا ہے، تو معاشرے کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا بھی ایک طرح کی سماجی ذمہ داری ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف لوگوں کو دھوکے سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ زکوٰۃ اور صدقات کا مال حقیقی مستحقین تک پہنچے۔ اس طرح ایک مسلمان نہ صرف اپنی مالی عبادت کو صحیح مصرف میں ادا کرتا ہے بلکہ معاشرے میں دیانت، عدل اور ذمہ داری کے اصولوں کو بھی مضبوط کرتا ہے
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی