کیا شرک کے ارتکاب سے کوئی مسلمان مشرک ہو جاتا ہے

کیا شرک کے ارتکاب سے کوئی مسلمان مشرک ہو جاتا ہے ؟

میں نے جس قدر بھی قرآن مجید کا مطالعہ کیا ہے، اس کی بنا پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر وہ شخص جو شرک کا ارتکاب کرے، یا جس کے عقیدہ و عمل میں شرک پایا جائے، اس کو نہ اصطلاحاً ’’مشرک‘‘ کا خطاب دیا جا سکتا ہے اور نہ اس کے ساتھ مشرکین کا سا معاملہ کیا جا سکتا ہے۔ اس خطاب اور اس معاملے کے مستحق وہ لوگ ہیں جن کے نزدیک شرک ہی اصل دین ہے، جو توحید کو بنیادی عقیدے کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتے اور وحی و نبوت اور کتاب اللہ کو سرے سے ماخذِ دین ہی ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

اس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے خود یہود و نصاریٰ کے ارتکابِ شرک کا ذکر فرمایا ہے، مثلاً:
وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللّٰهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللّٰهِ (التوبہ: 30)
اور:
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ… لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ (المائدہ: 72-73)۔
لیکن اس کے باوجود قرآن مجید میں ان کے لیے ’’مشرکین‘‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی بلکہ ایک دوسری اصطلاح ’’اہلِ کتاب‘‘ ان کے لیے الگ وضع فرمائی گئی۔ پھر ان میں اور مشرکین میں صرف یہ لفظی فرق ہی نہیں رکھا گیا بلکہ ان کے ساتھ اہلِ ایمان کا معاملہ بھی مشرکین سے مختلف تجویز فرمایا گیا۔ اگر ان کو واقعی مشرک قرار دیا گیا ہوتا تو وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ کے تحت ان کی عورتوں سے نکاح آپ سے آپ حرام ہو جاتا، مگر اللہ تعالیٰ نے کتابیات کا حکم مشرکات سے بالکل الگ رکھا اور ان سے نکاح کی مسلمانوں کو اجازت دے دی۔ اسی طرح ان کے ذبائح کا حکم بھی مشرکین کے ذبائح سے مختلف رکھا۔ اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے کہ شرک میں مبتلا ہو جانے کے باوجود وہ توحید ہی کو اصل دین مانتے تھے اور نبوت و کتاب ہی کو ماخذِ دین تسلیم کرتے تھے۔ اسی بنا پر ان سے فرمایا گیا:
تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّنْ دُونِ اللّٰهِ (آلِ عمران: 64)،
اور:
وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنزِلَ إِلَيْنَا وَأُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلٰهُنَا وَإِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ (العنکبوت: 46)۔

اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ’’مشرک‘‘ کی اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال فرمائی جو شرک ہی کو اصل دین مانتے تھے، جن کا اعتراض ہی نبی ﷺ پر یہ تھا کہ: أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلٰهًا وَاحِدًا إِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ (صؔ: 5)، اور جنہیں یہ بات سرے سے تسلیم ہی نہ تھی کہ دین کے عقائد و اعمال وحی و رسالت سے ماخوذ ہونے چاہییں۔ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللّٰهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا (البقرہ: 170)۔ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ ’’مشرک‘‘ کا نام دیا بلکہ اہلِ ایمان کا معاملہ ان کے ساتھ اہلِ کتاب سے مختلف رکھا۔

یہ حقائق چونکہ میری نگاہ میں ہیں، اسی لیے میں یہ بات قطعی جائز نہیں سمجھتا کہ ان لوگوں کو ’’مشرک‘‘ کہا جائے اور مشرکین کا معاملہ ان کے ساتھ کیا جائے جو کلمہ لا إله إلا الله محمد رسول الله کے قائل ہیں، قرآن کو کتاب اللہ اور سند و حجت مانتے ہیں، ضروریاتِ دین کا انکار نہیں کرتے، شرک کو اصل دین سمجھنا تو درکنار اپنی طرف شرک کی نسبت کو بھی بدترین گالی سمجھتے ہیں اور اس کے باوجود تاویل کی غلطی کے باعث کسی مشرکانہ عقیدے یا عمل میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ وہ شرک کو شرک سمجھتے ہوئے اس کا ارتکاب نہیں کرتے بلکہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان کے یہ عقائد و اعمال عقیدۂ توحید کے منافی نہیں ہیں۔ اس لیے ہمیں ان پر کوئی برا لقب چسپاں کرنے کے بجائے حکمت اور استدلال سے ان کی یہ غلط فہمی رفع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

آپ خود سوچیں کہ جب آپ اس طرح کے کسی آدمی کے سامنے اس کے کسی عقیدے یا عمل کو توحید کے خلاف ثابت کرنے کے لیے قرآن و حدیث سے استدلال کرتے ہیں تو کیا آپ کے ذہن میں یہ نہیں ہوتا کہ وہ قرآن و حدیث کو سند و حجت مانتا ہے؟ کیا یہ استدلال آپ کسی ہندو، سکھ یا عیسائی کے سامنے بھی پیش کرتے ہیں؟ پھر جب آپ اس سے کہتے ہیں کہ دیکھو، فلاں بات شرک ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہیے، تو کیا آپ اس وقت یہ نہیں سمجھ رہے ہوتے کہ وہ شرک کے گناہِ عظیم کا قائل ہے؟ اگر یہ بات نہ ہوتی تو آخر آپ اس کو شرک سے ڈرانے کا خیال ہی کیوں کرتے؟

مزید خبریں:

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے