امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”کی رہائی کے بعد پھر گرفتاری

سبرامنیم سبو ویدم

ایک ایسا شخص جو بچپن سے امریکہ کا شہری سمجھا جاتا تھا، 20 سال کی عمر میں قتل کے جھوٹے الزام میں گرفتار ہوا۔ 43 سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے—تعلیم حاصل کی، قیدیوں کو پڑھایا، فلاحی کام کیے—اور بالآخر بے گناہ ثابت ہوا۔ مگر رہائی کی خوشی کی جگہ تباہی کا خطرہ! یہ ہے سبرامنیم سبو ویدم (Subramanyam "Subu” Vedam) کی داستان، جو امریکہ کی تاریخ کا سب سے لمبا exoneree (بے گناہ ثابت ہونے والا) کیس ہے۔ پنسلوانیا کی عدالت نے 2 اکتوبر 2025 کو انہیں بے گناہ قرار دیا، مگر اگلے ہی دن ICE (امریگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) نے گرفتار کر لیا۔ اب 63 سالہ سبو کو بھارت جلاوطن کرنے کا خطرہ ہے—ایک ایسے ملک جہاں وہ ہندی بھی نہیں بولتے!

یہ مضمون سبو کی مکمل کہانی بیان کرتا ہے: جھوٹے الزام سے لے کر بے گناہی کی ثابت شدگی، رہائی کی تاخیر، اور اب ڈپورٹیشن کی تباہی۔ یہ نہ صرف امریکی انصاف اور امیگریشن سسٹم کی خامیوں کی عکاسی کرتا ہے، بلکہ پاکستان، بھارت اور دیگر ممالک میں غلط مقدمات کے شکار بے گناہوں کے لیے بھی سبق ہے۔


1. پس منظر: ایک روشن مستقبل کی تباہی (1980)

سبو ویدم کی پیدائش 1961 میں بھارت کے حیدرآباد میں ہوئی، مگر صرف 9 ماہ کی عمر میں والدین کے ساتھ امریکہ پہنچ گئے۔ پنسلوانیا کے سٹیٹ کالج میں بڑھے، انگریزی ان کی مادری زبان بنی۔ 1980 میں، 19 سالہ سبو پنسلوانیا سٹیٹ یونیورسٹی کے طالب علم تھے—کمپیوٹر سائنس پڑھ رہے تھے، نوکری کی تلاش میں۔ ان کے روم میٹ تھامس کنسر (Thomas Kinser)، 19 سالہ، کے ساتھ رائیڈ کی بات ہوئی۔ سبو نے رائیڈ کی، کار واپس آ گئی—مگر کنسر غائب!

20 جولائی 1980: کنسر کی لاش ملی—سر میں گولی کا زخم۔ پولیس نے سبو کو گرفتار کر لیا۔ شواہد؟ صفر! نہ ہتھیار، نہ فنگر پرنٹس، نہ گواہ۔ صرف "حالات”: سبو نے رائیڈ مانگی تھی، کنسر کی گاڑی سبو کے پاس ملی۔ سبو نے کہا: "میں نے کار واپس کی تھی، مجھے پتہ نہیں کیا ہوا۔” مگر پولیس نے انہیں قتل کا الزام لگا دیا۔

1982: مقدمہ چلا۔ سبو کا وکیل کمزور، شواہد کی چھپاؤ ہوئی۔ جیوری نے عمر قید بغیر پیرول کی سزا سنائی۔ سبو کی عمر: 21 سال۔ ان کا گرین کارڈ ضبط، پاسپورٹ چھین لیا گیا۔ "فرار ہونے والا غیر ملکی” کا لیبل لگا—ضمانت نہ ملی۔


2. جیل کی 43 سالہ جدوجہد: روشنی کی تلاش

جیل نے سبو کو توڑا نہیں، بنایا۔ ہنٹنگڈن سٹیٹ کوریکشنل انسٹی ٹیوشن میں:

سالکارنامےتاثیر
1985GED (ہائی اسکول) مکملتعلیم کی بنیاد
1990ایسوسی ایٹ ڈگری (کمپیوٹر)قیدیوں کو پڑھانا شروع
2005بیچلرز (لبرل آرٹس)4.0 GPA—ٹاپ گریجویٹ
2015ماسٹرز (لاء اینڈ جسٹس)فلاحی کام: بگ بردرز فنڈز ($50,000+)
2020قیدیوں کا مینٹور200+ کو تعلیم دی

سبو نے کہا: "جیل نے مجھے کتابیں دیں، میں نے انہیں زندگی بنایا۔” وہ بگ بردرز بگ سسٹرز کے لیے فنڈ ریزنگ کرتے، خطوط لکھتے: "میں بے گناہ ہوں، مگر خدمت سے ثابت کروں گا۔” فیملی—بہن ساراسوتی اور بھانجی زوئی—نے ہر سال اپیل کی۔ مگر قانون نے روکا۔


3. بے گناہی کی ثابت شدگی: انصاف کا آغاز (2021-2025)

2021: نیشنل رجسٹری آف ایکسونریشنز (NRE) نے کیس دوبارہ کھولا۔ نئے شواہد:

  • بلیسٹک رپورٹ: کنسر کی سر کی ہڈی پر گولی کا زخم .25 کیلبر پستول سے مماثل نہ تھا (جو الزام میں تھی)۔
  • شواہد کی چھپاؤ: پولیس نے 3 گواہوں کے بیان دبائے، جو سبو کو کلیئر کرتے تھے۔
  • نئی تحقیق: کنسر کی موت خودکشی یا دوسرے شخص سے ہوئی—سبو جائے وقوع پر ہی نہ تھے۔

اگست 2025: جج جان گرائن کا فیصلہ: "شواہد کی چھپاؤ سے سبو کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔ جیوری کا فیصلہ غلط تھا۔”

2 اکتوبر 2025: سینٹر کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی برنی کانتورنا نے تمام الزامات خارج کیے۔ سبو: بے گناہ! NRE کے مطابق، یہ امریکہ کا سب سے لمبا exoneree کیس (43 سال)—گلین سیمنز (48 سال) کے بعد دوسرا۔

سبو نے عدالت میں کہا: "43 سال کی جدوجہد کا صلہ ملا۔ اب زندگی واپس لوٹ آئی۔”


4. رہائی… اور تباہی: ڈپورٹیشن کا وحشت ناک موڑ

3 اکتوبر 2025: سبو رہا! فیملی نے خوشی سے گلے لگایا۔ مگر فوری طور پر ICE نے گرفتار کر لیا۔ مو شینن ویلی پروسیسنگ سینٹر میں بند۔ وجہ؟ 1980 کی دہائی کا لیگیسی ڈپورٹیشن آرڈر:

  • قتل کی سزا (اب ختم) + 19 سالہ عمر میں LSD تقسیم (غیر تشدد آمیز جرم)۔
  • ICE کا موقف: "سبو شہری نہیں (نیشنلائز نہ ہوئے)، لہٰذا ڈپورٹ ایبل۔”

وکیل اوا بی نیچ: "قتل کی بے گناہی سے آرڈر ختم ہونا چاہیے۔ سبو ‘کیریئر کرمنل’ نہیں—وہ تعلیم اور خدمت کا symbol ہیں!”

بھارت واپسی کا خطرہ:

  • سبو ہندی/تامل نہیں بولتے—انگریزی ان کی زبان۔
  • پوری فیملی: امریکہ + کینیڈا۔ بھارت میں کوئی رشتہ دار نہیں۔
  • زوئی ملر ویدم (بھانجی): "43 سال بے گناہ قید کے بعد، اجنبی ملک میں تباہی؟ یہ ظلم پر ظلم ہے!”

مہم: FreeSubu.com پر 50,000+ سائن، احتجاج پنسلوانیا میں۔ گوورنر جاش شاپیرو سے اپیل۔


5. موجودہ صورتحال: انصاف یا تباہی؟ (19 اکتوبر 2025)

حالتتفصیلاگلا قدم
قیدICE سینٹر، الینور، PAامیگریشن کورٹ میں سماعت (نومبر 2025)
معاوضہ$50 ملین دعویٰ (پنسلوانیا کے خلاف)سناٹ (2026)
امیگریشننیشنلائزیشن درخواستICE سے لڑائی
صحت63 سالہ، جیل کی وجہ سے کمزورفیملی کی دیکھ بھال

سبو کا پیغام: "میں زندہ ہوں، مگر وطن سے دور ہونے کا خوف ہے۔”


6. سبق: پاکستان اور بھارت کے لیے آئینہ

امریکہ میں 3,500+ exoneree، 25,000+ سال ضائع (NRE)۔ پاکستان میں؟ مشال خان (2017، قتل کے جھوٹے الزام)، عاصفہ بی بی (20 سال قید، بے گناہ)۔ بھارت میں بیلکھیاں جیسے کیسز۔ حل:

  • ڈی این اے ٹیسٹنگ لازمی۔
  • شواہد کی چھپاؤ پر سخت سزا۔
  • امیگریشن اصلاحات—بے گناہوں کو شہریت۔
  • تعلیم جیل میں—سبو کی طرح تبدیلی۔

سبو کی بہن ساراسوتی: "ان کی کہانی ہر بے گناہ کی آواز ہے۔”


ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے