تفسیر ابن کثیر کے مآخذ و مصادر ( تیسری و آخری قسط )
فقہ اور اصول فقہ کی کتابیں
امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے فقہ اور اصول فقہ کی کتابوں سے بھی خوب استفادہ کیا ہے جن میں سر فہرست امام شافعی رحمہ اللہ کی کتاب الام ہے
مثلاً الاستعاذة کی تفسیر میں ایک مسٔلہ چھیڑتے ہیں کہ کیا الاستعاذة سرا درست ہے یا جھرا ،
پھر اس سلسلے میں امام شافعی رحمہ اللہ کی دو مشہور کتابیں الإملاء اور الام کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
وقال الشافعى فى الإملاء
يجهر بالتعوذ و إن اسر فلا يضر ، وقال فى الأم بالتخيير، لأنه اسر ابن عمر و جهر ابو هريرة رضى الله عنه
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ تعوذ جھرا پڑھنا چاہئے اور اگر سرا پڑھ لے تو مضائقہ نہیں ،مزید امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام کے اندر اس مسئلہ میں اختیار دیا ہے کیونکہ تعوذ کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے سرأ پڑھا ہے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جهرأ بھی پڑھا ہے
٢ الإستذكار لإبن عبد البر
آپ کا نام یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبداللہ القرطبی ہے
آپ کی ولادت ٣٥٨ ھ ہے اور تاریخ وفات ٤٦٣ ھ ہے
آپ نے بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں
الإستيعاب فى معرفة الأصحاب اور الإستذكار کافی مشہور ہیں
امام ابن کثیر نے امام ابو عمر بن عبدالبر کی تقریبا تمام کتب سے استفادہ کیا ہے اور فقہی مسائل میں آپ کی الإستذكار پیش نظر رہی اور کبھی کبھی امام ابن کثیر رحمہ اللہ فقہی مسائل میں امام ابن عبدالبر کا قول نقل کر کے ان سے مناقشہ بھی کرتے نظر آتے ہیں جیسے قران مجید کی اس ایت کریمہ
حٰفِظُوۡا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الۡوُسۡطٰی ٭ وَ قُوۡمُوۡا لِلّٰہِ قٰنِتِیۡنَ
( نمازوں کی حفاﻇت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے باادب کھڑے رہا کرو[ البقرة : 238] )
کی تفسیر میں دیکھ سکتے ہیں اس آیت کریمہ کی تفسیر میں امام ابن کثیر نے صلاۃ وسطى سے مراد کیا ہے اس سلسلے میں کئ علماء کے اقوال ذکر کے ہیں ان میں ایک قول یہ نقل کیا ہے کہ کسی نے کہا صلوۃ وسطی سے مراد پانچوں نمازیں مراد ہیں پھر اس کے بعد امام ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس حدیث سے یہ قول لیا گیا ہے وہ حدیث ضعیف ہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اس قول کو امام ابن عبدالبر نے بھی اختیار کیا ہے
٣ الشامل لإبن الصباغ
آپ کا نام عبد السید بن محمد بن عبد الواحد ابو نصر بن الصباغ ہے ، آپ کی ولادت ٤٠٠ ھ اور ٤٧٧ ھ تاریخ وفات ہے
آپ کی مشہور کتابوں میں الشامل فقہ میں اور العدة اصول فقہ میں مشہور ہیں
امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے آیات کی تفسیر میں فقہی مسائل میں امام ابن الصباغ کے اقوال ذکر کرتے ہیں ، مگر مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے کہیں کہیں کتاب کا حوالہ نہیں دیا ہے جس سے یہ معلوم کرنا دشوار ہوتا ہے کہ آیا ابن الصباغ کا یہ قول الشامل سے لیا گیا ہے یا العدة سے
والله اعلم
ان کے علاوہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے جن فقہی اور اصول فقہ کی کتابوں سے استفادہ کیا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں
١: الأموال الشرعية و بيان جهاتها و مصارفها
لإبى عبيد القاسم بن سلام متوفى ٤٢٢ھ
٢: الإيجاز لإبن اللبان متوفى ٤٠٢ھ
٣: المحلى لإبن حزم متوفى ٤٥٦ ھ
٤: النهاية و الإرشاد للجوينى متوفى ٤٧٨ ھ
٥: الهداية للمرغيناني متوفى ٥٩٣ وغیرہ ہیں
كتب السير و المغازى
سیرت اور مغازی کی جن کتابوں سے امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے استفادہ کیا ہے ان میں سے چند اہم کتابیں مندرجہ ذیل ہیں
١, سيرة ابن اسحاق
آپ کا نام محمد بن اسحاق المطلبی ہے،آپ کی مشہور تصانیف میں السيرة النبوية ہے جس سے ابن ھشام رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور آپ کی کتاب كتاب الخلفاء اور كتاب المبدا بھی کافی مشہور ومعروف ہیں
قرآن مجید کی یہ آیت کریمہ
وَ لَوۡ اَرَادُوا الۡخُرُوۡجَ لَاَعَدُّوۡا لَہٗ عُدَّۃً وَّ لٰکِنۡ کَرِہَ اللّٰہُ انۡۢبِعَاثَہُمۡ فَثَبَّطَہُمۡ وَ قِیۡلَ اقۡعُدُوۡا مَعَ الۡقٰعِدِیۡنَ ﴿۴۶﴾لَوۡ خَرَجُوۡا فِیۡکُمۡ مَّا زَادُوۡکُمۡ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَا۠اَوۡضَعُوۡا خِلٰلَکُمۡ یَبۡغُوۡنَکُمُ الۡفِتۡنَۃَ ۚ وَ فِیۡکُمۡ سَمّٰعُوۡنَ لَہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۷﴾
(التوبة: ٤٦-٤٧)
( اگر ان کا اراده جہاد کے لئے نکلنے کا ہوتا تو وه اس سفر کے لئے سامان کی تیاری کر رکھتے لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسند ہی نہ تھا اس لئے انہیں حرکت سے ہی روک دیا اور کہہ دیا گیا کہ تم بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے ہی رہو[46]اگر یہ تم میں مل کر نکلتے بھی تو تمہارے لئے سوائے فساد کے اور کوئی چیز نہ بڑھاتے بلکہ تمہارے درمیان خوب گھوڑے دوڑا دیتے اور تم میں فتنے ڈالنے کی تلاش میں رہتے ان کے ماننے والے خود تم میں موجود ہیں، اور اللہ ان ﻇالموں کو خوب جانتا ہے،
کی تفسیر کرتے ہوئے امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں
قال : وقال محمد ابن اسحاق! كان الذين استاذنوا فيما بلغنى من ذوي الشرف منهم عبدالله ابن بي بن سلول والجد بن قيس» وكانوا أشراقًا في قومهم فثبطهم الله – لعلمه بهم -ا ن یخرجوا معه فیفسدوا عليه جنده» وکان في جنده قوم أهل محبة لهم وطاعة» فيما يدعونهم إليه لشرف فيهم ،
امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اجازت طلب کرنے والوں میں عبداللہ بن ابی بن سلول اور جد بن قیس بھی تھا اور یہی بڑے بڑے رؤسا اور ذی اثر منافق تھے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم تھا اس لیے اللہ تعالٰی نے انہیں دور ڈال دیا، اگر یہ ساتھ ہوتے تو ان کی منہ دیکھی ماننے والے وقت پر ان کے ساتھ ہو کر مسلمانوں کے نقصان کا باعث بن جاتے محمدی لشکر میں ابتری پھیل جاتی کیونکہ یہ لوگ وجاہت والے تھے اور کچھ مسلمان ان کے حال سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ان کے ظاہری اسلام اور چرب کلامی پر مفتون تھے اور اب تک ان کے دلوں میں ان کی محبت تھی،
٢,مغازى الواقدى ( متوفى ٢٠٧ ھ )
سیر اور مغازی کی کتابوں میں جس کتاب کا دوسرا نمبر آتا ہے جس سے امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے استفادہ کیا ہے وہ امام محمد بن عمر الواقدی کی کتاب المغازى النبوية ہے اس سے آپ رحمہ اللہ نے خاصا استفادہ کیا ہے
آیت کریمہ
اِذۡ تُصۡعِدُوۡنَ وَ لَا تَلۡوٗنَ عَلٰۤی اَحَدٍ وَّ الرَّسُوۡلُ یَدۡعُوۡکُمۡ فِیۡۤ اُخۡرٰىکُمۡ فَاَثَابَکُمۡ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّکَیۡلَا تَحۡزَنُوۡا عَلٰی مَا فَاتَکُمۡ وَ لَا مَاۤ اَصَابَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ
( جب کہ تم چڑھے چلے جا رہے تھے اور کسی طرف توجہ تک نہیں کرتے تھے اور اللہ کے رسول تمہیں تمہارے پیچھے سے آوازیں دے رہے تھے، بس تمہیں غم پر غم پہنچا تاکہ تم فوت شده چیز پر غمگین نہ ہو اور نہ پہنچنے والی (تکلیف) پر اداس ہو، اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے خبردار ہے[آل عمران: 153] )
کی تفسیر میں آپ لکھتے ہیں
و قال الواقدى وکان ابن عمر يقول مات ابي ابن خلف ببطن رابغ» فإني لأسير ببطن رابغ بعد هوي من الليل فإذا آنا بنار تتأجج لي فهبتهاء وإذا رجل يخرج منها في سلسلة يجتذبها يهيج به العطش» وإذا رجل يقول لا تسقهء فإن هذا قتيل رسول الله َة هذا بي بن خلف» وقال في موضع آخر : «قال الواقدي : والذي ثبت عندنا
أن الذي دمی وجنتی رسول الله صلى الله عليه وسلم ابن قمئة والذي دمى شفته وأصاب رباعيته عتبة بن أبي وقاص»”.
واقدی نے بیان کیا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ بطن رابغ میں اس کافر کو موت آئی، ایک مرتبہ میں پچھلی رات یہاں سے گزرا تو میں نے ایک جگہ سے آگ کے دہشت ناک شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے اور دیکھا کہ ایک شخص کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس آگ میں گھسیٹا جا رہا ہے اور وہ پیاس پیاس کر رہا ہے اور دوسرا شخص کہتا ہے اسے پانی نہ دینا یہ پیغمبر کے ہاتھ کا مارا ہوا ہے یہ ابی بن خلف ہے۔
امام واقدی کہتے ہیں ثابت شدہ بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار کو خون آلود کرنے والا ابن قمیہ اور ہونٹ اور دانتوں پر صدمہ پہنچانے والا عتبہ بن ابی وقاص تھا
٣, دلائل النبوة للأصبهانى
آپ کا نام احمد بن عبد اللہ بن أحمد الاصبھانی ہے آپ ایک بڑے مؤرخ بھی تھے آپ کی تصانیف میں دلائل النبوة اور حلية الاولياء کی مشہور کتابیں ہیں آپ کی تاریخ وفات ٤٣٠ ھ ہے
وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَسۡتَ مُرۡسَلًا ؕ قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ۙ وَ مَنۡ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ الۡکِتٰبِ
( الرعد : ٤٣ )
( یہ کافر کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول نہیں۔ آپ جواب دیجئے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ گواہی دینے واﻻ کافی ہے اور وه جس کے پاس کتاب کا علم ہے,
آیت کریمہ کی تفسیر میں امام ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں
قال الحافظ أبونعيم الأصبهاني في كتاب «دلائل النبوة» وهو كتاب جليل: حدثنا سليمان بن أحمد الطبراني» حدثنا عبدان بن أحمد» حدثنا محمد بن مصفى» حدثنا الوليد بن مسلم عن محمد بن حمزة بن يوسف بن عبدالله بن سلام» عن أبيه» عن جده عبدالله بن سلام أنه قال لأحبار اليهود: إني اردت أن أحدث بمسجد أبينا إبراهيم وإسماعيل عهدًا فانطلق إلى رسول الله – وهو بمكة فوافاهم وقد انصرفوا من الحج فوجد رسول الله – بمنى والناس حوله فقام مع الناس» فلما نظر إليه رسول الله قال «آنت عبدالله بن سلام»؟ قال: قلت نعم قال: (ادن) قال: فدنوت منه قال : «أنشدك بالله يا عبدالله بن سلام أما تجدني في التوراة رسول الله؟» فقلت له: انعت ربنا قال: فجاء جبریل حتی وقف بین يدي رسول الله فقال له: قل هو الله احد إلى آخرها،
فقراها علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم
فقال ابن سلام : اشهد ان لا اله الا الله و انك رسول الله : ثم انصرف ابن سلام إلى المدينة فكتم إسلامه» فلما هاجر رسول الله الى المدينة وانا فوق نخلة لي أجذها فألقيت نفسي فقالت امي : لله أنت لو کان موسی بن عمران ما كان لك أن تلقي نفسك من راس النخلة› فقلت والله لأنا اسر بقدوم رسول الله صلى الله عليه وسلم من موسى بن عمران إذ بعث، و هذا حديث غريب جدا
ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے کہ { عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے علمائے یہود سے کہا کہ میرا ارادہ ہے کہ اپنے باپ ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام کی مسجد میں جا کر عید منائیں، مکے پہنچے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہیں تھے، یہ لوگ جب حج سے لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔
یہ بھی مع اپنے ساتھیوں کے کھڑے ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھ کر پوچھا کہ آپ ہی عبداللہ بن سلام ہیں، کہا ہاں فرمایا: { قریب آؤ } جب قریب گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میرا ذکر تورات میں نہیں پاتے؟“، انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے اوصاف میرے سامنے بیان فرمائیے۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے اور حکم دیا کہ کہو آیت «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ اللَّـهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ» ۱؎ [112-الإخلاص:4-1] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری سورت پڑھ سنائی۔ ابن سلام نے اسی وقت کلمہ پڑھ لیا، مسلمان ہو گئے، مدینے واپس چلے آئے لیکن اپنے اسلام کو چھپائے رہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینے پہنچے اس وقت آپ کھجور کے ایک درخت پر چڑھے ہوئے کھجوریں اتار رہے تھے جب آپ کو خبر پہنچی اسی وقت درخت سے کود پڑے۔ ان کی ماں کہنے لگیں کہ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی آ جاتے تو تم درخت سے نہ کودتے۔ کیا بات ہے؟ جواب دیا کہ اماں جی موسیٰ علیہ السلام کی نبوت سے بھی زیادہ خوشی مجھے ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی یہاں تشریف آوری سے ہوئی ہے }۔
ان کے علاوہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے سیر اور مغازی کی جن کتابوں سے استفادہ کیا ہے وہ بخوف طوالت مختصر بیان کی جارہی ہیں
١ الشفاء للقاضى عياض متوفی ٥٤٤ ھ
٢ ، الروض الأنف للسهيلى متوفى ٥٨١ھ
٣, دلائل النبوۃ لأبى زرعة الرازى متوفی ٢٦٤ ھ
٤, دلائل النبوۃ للبيهقى متوفی ٤٥٨ ھ
٥, التنوير فى مولد السراج المنير لابن دحية مت فی ٦٣٣ ھ
كتب التراجم
تاريخ دمشق للحافظ ابن عساكر
آپ کا نام علی بن الحسن بن هبة الله ابن عساكر الدمشقى ہے
تاریخ ولادت ٤٩٩ ھ اور تاریخ وفات ٥٧١ ھ ہے
آپ کی کئ مشہور کتابیں ہیں جن میں تاریخ دمشق اور تراجم میں الصحابة کو غیر معمولی شہرت حاصل ہے
امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے تاریخ دمشق سے کافی استفادہ کیا ہے مثلاً
وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ۚ وَ اِنۡ یُّرِدۡکَ بِخَیۡرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضۡلِہٖ ؕ یُصِیۡبُ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۰۷﴾
( یونس :١٠٧ )
( اور اگر تم کو اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو بجز اس کے اور کوئی اس کو دور کرنے واﻻ نہیں ہے اور اگر وه تم کو کوئی خیر پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کا کوئی ہٹانے واﻻ نہیں، وه اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نچھاور کردے اور وه بڑی مغفرت بڑی رحمت واﻻ ہے
کی تفسیر میں فرماتے ہیں
و روى الحافظ ابن عساكر في (ترجمة صفوان بن سليم) من طريق عبدالله بن وهب» أخبرني يحیى بن أيوب»› عن عیسی بن موسى» عن صفوان بن سليم» عن آنس بن مالك أن رسول الله قال : «اطلبوا الخير دهركم كله وتعرضوا لنفحات ربكم» فان لله نفحات من رحمته يصیب بها من يشاء من عباده» واسألوه آن يستر عوراتكم ويؤمن روعاتکم» ثم رواه من طريق الليث» عن عیسى بن موسى» عن صفوان» عن رجل من أشجع» عن أبي هريرة مرفوعا بمثله سواء،
امام ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام ابن عساکر رحمہ اللہ نے صفوان بن سليم کے ترجمہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث روایت کی ہے کہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیر و بھلائی ہر وقت طلب کرو اور اللہ عزوجل کی رحمت کی خوشبودار ہواؤں کے پیچھے پڑے رہو بے شک اللہ عزوجل اپنی رحمت کی خوشبودار ہوائیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہے پہنچاتا ہے اور اللہ سے یہ سوال کرو کہ وہ تمہارے عیوب چھپائے اور تمہیں تمہارے خوف کی چیزوں سے محفوظ و مامون رکھے
اور اسی طرح دیگر تراجم اور انساب کی کتابوں سے بھی امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے استفادہ کیا ہے مگر وہ بہت کم ہیں
مثلاً
الطبقات الكبرى لإبن سعد متوفی ٢٣٠ ھ
الإكليل للهمدانى متوفی ٢٣٤ ھ
معرفة الصحابة لإبن منده متوفی ٣٩٥ ھ
الاستيعاب لإبن عبد البر متوفی ٤٦٣ ھ
تاريخ الخطيب البغدادى متوفی ٤٦٣ ھ
أسد الغابة لإبن الأثير متوفی ٦٣٠ ھ وغیرہ
فن تفسیر ، حدیث ،عقائد، تاریخ ،لغت اور فقہ و اصول فقہ میں امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے جن کتابوں سے استفادہ کیا ہے ان کا تفصیلی ذکر ہم نے بیان کردیا ہے
ان کے علاوہ کچھ اور عمومی کتابیں ہیں جن سے امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے استفادہ کیا ہے اور وہ کتابیں مختلف موضوعات پر ہیں جن کو بہت ہی اختصار کے ساتھ یہاں پر ذکر کیا جارہا ہے
«الزهد» للإمام أحمد” «الفكاهة» للزبير بن بكار” «المعارف» لابن قتيبة”»
«التفكر والاعتبار» لابن أبي الدنيا“
«العجائب الغريبة» لابن المنذر «مكارم الأخلاق» و«مساويء الأخلاق» للخرائطي»
«الأذكار للنووى»
«المشهور في أسماء الأيام و الشهور ، للسخاوى »
اپنے اساتذہ سے استفادہ
١ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
یہ بات جگ ظاہر ہے کہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحم اللہ کے مشہور شاگردوں میں سے ایک ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے کافی حد تک متاثر نظر آتے ہیں جس کی ایک جھلک ہم کو امام ابن کثیر رحمہ اللہ کے مقدمہ میں نظر آتی ہے خاص کر جو جھلک ہم کو صاف نظر آتی ہے
وہ مندرجہ ذیل امور پر مشتمل ہے
١ قرآن کی تفسیر قرآن سے پھر حدیث اور اقوال صحابہ و تابعین سے کرنا یہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اہم خوبی اور خصوصی امتیاز ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ طریقہ کار شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی ہی دین ہے
٢ اسرائیلی روایات کا حکم کیا ہوگا ؟ کن آحادیث کی تصدیق کی جائے گی اور کن روایات کو قبول نہیں کیا جائے گا اور کن اسرائیلی روایات پر خاموشی اختیار کی جائے گی یہ سبق بھی شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے لیا گیا ہے
٣ قرآن کی تفسیر اپنی ذاتی رائے اور مطالعہ پر مشتمل نہیں ہونا چاہیے یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے تفسیر قرآن کو قرآن سے پھر حدیث اور اقوال صحابہ و تابعین سے کی ہے جبکہ بعض مفسرین تفسیر قرآن میں اپنی ذاتی رائے سے بھی باز نہیں آتے ،
ان کے علاوہ عقائد و نظریات اور اخلاق و کردار میں بھی امام ابن کثیر رحمہ اللہ کے اندر شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا عکس صاف نظر آتا ہے
٢ ابو الحجاج المزی رحمہ اللہ
اپنے اساتذہ میں جس سے امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے استفادہ کیا ہے ان میں امام مزی رحمہ اللہ بھی ہیں تفسیر کے کئی مقامات میں آپ اپنے استاذ محترم امام مزی رحمہ اللہ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے اقوال بھی ذکر کرتے ہیں مثلآ قرآن مجید کی یہ ایت کریمہ
یَوۡمَ نَطۡوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلۡکُتُبِ ؕ کَمَا بَدَاۡنَاۤ اَوَّلَ خَلۡقٍ نُّعِیۡدُہٗ ؕ وَعۡدًا عَلَیۡنَا ؕ اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیۡنَ
( الانبیاء: ١٠٤ )
اس دن ہم آسمان کو یوں لپیٹ لیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں، جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوباره کریں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعده ہے اور ہم اسے ضرور کر کے (ہی) رہیں گے،
کی تفسیر میں علماء کے اقوال پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں
«السجل» وذكر ماذهب إليه بعضهم من أن المراد به كاتب للنبي وما روي عن ابن عباس في هذا» وبعد أن أورد هذه الآثار أورد ما رواه الخطيب البغدادي في تاريخه : «أنبانا أبو بكر البرقاني عن ابن عمر قال : السجل كاتب للنبي قال ابن کثیر: «وهذا منکر جدا من حدیث نافع عن ابن عمر لا يصح أصلاًء وقد صرح جماعة من الحفاظ بوضعه» وإن كان في سنن أبي داود» منهم شيخنا الحافظ الكبير ابو الحجاج المزي فسح الله في عمره ونساً في أجله وختم له بصالح عمله» وقد أفردت لهذا الحديث جزءًا على حدة و لله الحمد
« سِّجِلِّ» سے مراد کہا گیا ہے کہ یہ نام اس صحابی کا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب یعنی وحی لکھنے والے تھے
لیکن یہ روایت ثابت نہیں اکثر حفاظ حدیث نے اس کو موضوع کہا ہے خصوصا ہمارے استاد حافظ کبیر ابو الحجاج مزی رحمہ اللہ نے۔ اس کو موضوع کہا ہے
میں نے اس حدیث کو ایک الگ کتاب میں لکھا ہے۔
٣ امام ذهبى رحمہ اللہ
امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنے استاذ محترم امام ذھبی رحمہ اللہ سے بھی اقوال نقل کئے ہیں مثلآ قرآن مجید کی یہ آیت کریمہ
اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا
( الاحزاب: ٥٦ )
( اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو,
کی تفسیر میں کہتے ہیں
وقد استحب اهل الكتابة ان يكرر الكاتب الصلاة على النبى صلى الله عليه وسلم كلما كتبه
و قد ورد بالحديث عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من صلى على فى كتاب لم تزل الصلاة جارية له ما دام اسمي فى ذلك الكتاب ،
وليس هذا الحديث بصحيح من وجوه كثيرة و قد روي من حديث ابي هريرة رضى الله عنه ولا يصح أيضا قال الحافظ أبو عبد الله الذهبي شيخنا : أحسبه موضوعا
اہل علم اس بات کو مستحب جانتے ہیں کہ کاتب جب کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھے تو صلی اللہ علیہ وسلم لکھے۔ ایک حدیث میں ہے { جو شخص کسی کتاب میں مجھ پر درود لکھے اس کے درود کا ثواب اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک وہ کتاب رہے }۔
لیکن کئی وجہ سے یہ حدیث صحیح نہیں بلکہ ہمارے شیخ امام ذھبی رحمہ اللہ نے تو اسے موضوع کہا ہے ۔ یہ حدیث بہت سے طریق سے مروی ہے لیکن ایک سند بھی صحیح نہیں۔
تفسیر ابن کثیر کے مآخذ و مصادر سے متعلق یہ کچھ بنیادی باتیں تھی جن کو حوالہ قرطاس کیا گیا ہے
اللہ تعالیٰ تمام مفسرین کی خدمات جلیلہ کو شرف قبولیت بخشے اور ہم کو قرآن و علوم قرآن سے فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین
✒️ ڈی محمد خالد جامعی سلفی ندوی ، ہری ہر ،کرناٹک
استاذ جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !