داعی بن کر بھی داعیانہ اوصاف پیدانہیں کر سکا اپنی کمزوری کا کھلا اعتراف
میں اعتراف کرتا ہوں کہ حقیقت یہ ہے میں نے پچھلے پچاس سالوں میں ہزاروں لوگوں تربیت کی ، لاکھوں درس قرآن اور خطبے دیے، انکے اخلاق کو سدھارا لیکن خود اپنے اخلاق کو اس معیار پر نہیں سدھار سکا جو کہ ہونا چاہیئے تھا
ابھی بھی وہ صبر نہیں جو ہونا چاہئے ، وہ برداشت نہیں جو ہونا چاہئے ، جلد غصہ آجاتا ہے ، مشتعل ہوجاتا ہوں ، پھر زبان تو قابو ہی میں نہیں رہتی
کل پرسوں ہی کی مثال ہے، پرسوں ایک ادارے سے ایک بزنس ڈیل ہوئ ، پہلے میسیجز اور کالز پر بات چیت ہوتی رہی ، دوسری طرف والے صاحب پاکستانی نکل آئے ، لہذا کمیونیکیشن انگلش سے اردو میں منتقل ہوگئ ،
پھر شام گئے سینٹرل لندن سے ہوتا ہوا انکے دفتر گیا ، بات چیت تحریری طور پر ڈیل میں تبدیل ہوئ ، انہوں نے انوائس بنوائ , میں نے اعتماد کرتے ہوئے فورا ہی پیمنٹ بھی کردی انہوں نے کہا اگلے دن گیارہ بجے آپ کو آپ کی چیز مل جائے گی۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
اگلے دن میں نے دس بجے سے انتظار کرنا شروع کردیا ، گیا رہ بجے جب وہ چیز نہ پہنچی تو فورا فون کیا ، دوسری طرف فون بند ، میرا پارہ چڑھ گیا ، اور دل میں برے برے خیالات آنا شروع ہوگئے ، گالی کے ساتھ کہ یہ پاکستانی تو بھروسے کے قابل ہی نہیں ،کیوں ان پر بھروسہ کیا ، عجیب بے وقوف آدمی ہو اس کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر حاتم طائ کی قبر پر لات مار سارے پیسے اتنی بڑی رقم بھی یکمشت سارے دے دی
تھوڑی دیر بعد ان کے آفس سے فون آیا کہ “سر اب ایک گھنٹے میں آپ کو پہنچ جائے گی “
ایک گھنٹے بعد بھی نہیں پہنچی ، میں نے پھر فون کیا تو ادھر سے بیچارہ یہی کہے جارہا کہ “ سر بس ایک گھنٹہ اور دے دیجیئے”
گھنٹہ پھر گزر گیا ، میں نے اس کے دوسرے آفس فون کیا ، وہاں سے بھی نرمی اور اخلاق سے وہی جواب ملا کہ سر تھوڑا انتظامی مسئلہ ہوا”
اس کے بعد تو میں بپھر گیا تیسری چوتھی دفعہ فون کر کے اور میسیجز کرکے بے نقط سنائ اور گالی کے قریب الفاظ استعمال کرکے کہا “ تم پاکستانی سب ایسے ہی ہوتے ہو، دھوکہ باز ، فراڈی
اس دوران میں نے اپنے پولیس ، انٹیلجنس ، scam and fraud شعبوں کے ریسورسز، نمبر ، ای میلز تلاش کرنا شروع کئیے کہ ان کو سبق سکھایا جائے اور انکو دھمکی دی کہ اگر دو گھنٹوں میں یہ کام نہیں ہوا تو میں خود آتا ہوں تمہارے دفتر تمام متعلقہ ڈیپارٹمنٹس کو رپورٹ کرکے اور ان کے ساتھ ، یہ پاکستان نہیں برطانیہ ہے کہ تم یہاں فراڈ کرو
وہ بیچارے سارے لوگ باری باری سب گھگیاتے رہے ، معافیاں مانگتے رہے ، اور میں آگ بگولہ رہا
بہرحال دو گھنٹے کے اندر میری ڈیل کی ہوی چیز پہنچ گئ اور مجھے قرار آیا
بعد میں مجھے اپنے رویئے ، الفاظ پر افسوس ہوا ، اللہ سے دعائیں پڑھ پڑھ کر معافی مانگی ، ان پاکستانی لوگوں سے بھی معذرت کی
اور یہی سوچنے لگا حقیقت یہ ہے میں نے پچھلے پچاس سالوں میں ہزاروں لوگوں کی تربیت کی ، انکے اخلاق کو سدھارا لیکن خود اپنے اخلاق کو اس معیار پر نہیں سدھار سکا جو کہ ہونا چاہیئے تھا
ابھی بھی وہ صبر نہیں جو ہونا چاہئے ، وہ برداشت نہیں جو ہونا چاہئے ، جلد غصہ آجاتا ہے ، مشتعل ہوجاتا ہوں ، پھر زبان تو قابو ہی میں نہیں رہتی
اللہ تعالیٰ معاف فرمائے اور اپنی اصلاح کی مسلسل توفیق دئیے رکھے
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ”
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !