Sarojini Naidu

سروجنى نے مناظرہ نہيں كيا اور جيت گئى کیوں ؟

تقریباً بیس سال قبل کی بات ہے، جب انگلستان میں ایک ہندوستانی عالم اور محقق آئے۔ ان سے ملاقات ہوئی اور ان کے ساتھ نشست و برخاست کا شرف حاصل ہوا۔ وہ نہایت ذہین، سنجیدہ اور محنتی تھے۔ ہندوستانی حلقوں میں وه "گھامڑ” کے لقب سے مشہور تھے، ان كا اصل نام یاد نہیں رہا۔ ہندوستانیوں کی ایک پرانی عادت ہے کہ وہ ہر شخص کے لیے کوئی نہ کوئی لقب ضرور تراشتے ہیں، کبھی محبت و عقیدت میں، کبھی طنز میں۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
گھامڑ اپنی محافل میں ایک روایت بیان کیا کرتے تھے۔ ہندوستان کے کسی دور افتادہ گاؤں میں سورج سنگھ نامی ایک شخص رہتا تھا۔ وہ بے حد دولت مند اور زمین دار تھا، اور پورے گاؤں کا چودهری تسلیم کیا جاتا تھا۔ دستور یہ تھا کہ اگر کوئی دوسرا شخص چودهری ہونے کا دعویٰ کرے، اسے سورج سنگھ سے مناظرہ کرنا پڑتا۔ ہر مناظرہ کے بعد سورج سنگھ اپنی زمینوں کی فہرست پیش کر کے مدِّ مقابل کو شکست دے دیتا۔ ایک نوجوان نے محنت اور تجارت سے کثیر دولت کمائی اور سورج سنگھ سے زیادہ زمینیں خریدیں، مناظرہ ہوا اور سورج سنگھ نے پانچ کلو سونا پیش کر کے نوجوان کو ہرا دیا۔ ایک اور شخص آیا جس کے پاس زمین اور سونا دونوں زیادہ تھے، سورج سنگھ نے ایک بیش قیمت ہیرا پیش کر کے اسے بھی شکست دی۔ یوں، جو بھی آتا، آخرکار ہار جاتا، اور سورج سنگھ گاؤں کا بدستور چودهری رہتا۔
اسی گاؤں میں سروجنی نامی ایک نوجوان بیوہ رہتی تھی۔ وہ اسکول میں معلمہ تھی اور معمولی آمدنی کے باوجود اپنے دو یتیم بیٹوں اور دو بیٹیوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہ چھوڑتی تھی۔ اس کی محنت اور استقامت کے نتیجے میں ایک بیٹی ڈاکٹر بنی، ایک بیٹا انجینئر، دوسرا جج، اور سب سے چھوٹی بیٹی کسی یونیورسٹی میں انگریزی کی پروفیسر مقرر ہوئی۔ ان سب نے نہ صرف دولت حاصل کی بلکہ اپنی نئی نسل کو علم و ادب کی طرف راغب کیا اور گاؤں کے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے ذریعے گاؤں کو ایک مثالی گاؤں میں تبدیل کر دیا۔ یوں سروجنی کے پوتے، پوتیاں، نواسے اور نواسیاں سب تعلیم یافتہ ہو کر نہ صرف اپنے میدان میں عزت و وقار کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے بلکہ اپنے گاؤں کی ترقی اور علمی فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
ادھر سورج سنگھ کی اولاد نالائق ثابت ہوئی۔ باپ کی چھوڑی ہوئی زمینیں اور دولت بانٹ کر ضائع ہو گئیں، اور آخرکار مفلس ہو کر رہ گئیں۔ سروجنی نے بغیر کسی مناظره كے، صرف علم، محنت، اخلاق اور کردار کے بل پر گاؤں کی ہر دل عزیز رانی بن کر مثال قائم کی۔
یہی اصول علمی دنیا میں بھی برقرار ہیں۔ کوفہ اور بصرہ میں صدیوں تک یہ بحث رہتی کہ عربی زبان و نحو میں کس شہر کو برتری حاصل ہے۔ کبھی کوفہ غالب آتا، کبھی بصرہ۔ مگر سیبویہ نے خاموش محنت اور غور و فکر سے الکتاب جیسی معجزہ نما تصنیف پیش کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بارہ سو برس سے بصرہ کی علمی برتری قائم رہی، اور نحو کے میدان میں کوفہ کی حیثیت ثانوی ہو گئی۔
امام مالکؒ نے موطأ تحریر کی۔ مدینہ میں دیگر موطائیں بھی لکھی گئیں، مگر وہ سب ناپید ہو گئیں اور آج صرف امام مالکؒ کی موطأ باقی ہے۔ یہی حال صحیح بخاری، صحیح مسلم، امام شافعیؒ کے الرسالہ، ابن حزم کی المحلیٰ، ابن سینا کی الشفا اور القانون کا ہے۔ یہ سب کتابیں سنجیدگی اور جانفشانی سے لکھی گئیں۔ ان کے مصنفین نے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے کسی مناظرے یا جھگڑے کا سہارا نہیں لیا، مگر ان کی تصانیف آج تک زندہ ہیں۔
شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے حجۃ اللہ البالغہ تحریر کی، جو محض ایک کتاب نہیں بلکہ علم و فکر کی ایک تابناک میراث ہے۔ اس عظیم تصنیف میں آپؒ نے نہ صرف قرآن و سنت کے بنیادی عقائد، بلکہ امتِ مسلمہ کے اخلاقی، فقہی اور سیاسی مسائل کا جامع اور عمیق تجزیہ پیش کیا۔ آپؒ کی بصیرت اور فہمی نبوّت کے روشن چراغ کی مانند ہے، جو تاریکیِ جاہلیت اور تقلید کی دھند کو دور کر کے امت کو علم و رہنمائی کے راستے کی طرف لے جاتا ہے۔
یہ تصنیف نہ صرف ہندوستان بلکہ مشرق و مغرب میں علمی و فکری محفلوں میں چراغ کی مانند روشن ہوئی۔ جہاں بھی قرآن و سنت کی صحیح تشریح، فقہ اسلامی کی بنیادی اصولوں اور امت مسلمہ کی اصلاح کی ضرورت محسوس کی گئی، وہاں شاہ ولی اللہؒ کے فکری چراغ نے رہنمائی کی۔ ان کی کتاب نے مسلمانوں کے درمیان فکری اتحاد قائم کرنے، دین کی حقیقی روح کو اجاگر کرنے اور علمی و عملی زندگی کو ایک متوازن معیار پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا، یہ کتاب صرف ایک علمی تحریر نہیں، بلکہ امت کی فکری اور روحانی تجدید کا ذریعہ بن گئی۔
شاہ ولی اللہؒ کی فکر نے مشرق و مغرب میں علم و فضل کے چراغ روشن کیے، اور آج بھی ان کی تصنیف مسلمانوں کے لیے ایک روشن رہنما، فکری مشعل اور اخلاقی رہبری کا لازوال ماخذ ہے۔
علامہ شبلی نعمانیؒ نے شعر العجم، الفاروق، النعمان، المامون، الغزالی، علم الکلام کی تاریخ اور جدید اصولوں کی روشنی میں خاتم النبیین ﷺ کی سیرت پر بے مثال کام کیا۔ موازنۂ انیس و دبیر میں شبلی نے جو علمی و ادبی نتیجہ اخذ کیا، اس کے رد میں درجنوں کتابیں لکھی گئیں، مگر آج کس کا نام باقی ہے؟ آج بھی شبلی کا موازنہ زندہ ہے، اور اردو شاعری کے محاسن جانچنے کا معیار سمجھا جاتا ہے۔
علامہ سید سلیمان ندویؒ نے ارض القرآن، سیرت عائشہ، اور عربوں کی جہازرانی جیسی عظیم تصانیف تحریر فرمائیں، جن میں نہ صرف اسلامی تاریخ و سیرت کی جامع تصویر پیش کی گئی، بلکہ مسلمانوں کے علمی و فکری ارتقاء کے لیے رہنمائی کے ایسے معیار قائم کیے گئے جو آج بھی روشنی کا سرچشمہ ہیں۔ ان کی تحقیق و تنقید میں تاریخی وسعت، فکر کی وسعت اور بصیرت کی گہرائی واضح طور پر نظر آتی ہے۔
اسی طرح، مولانا حمید الدین فراہیؒ نے امعان فی اقسام القرآن اور الرأی الصحیح فیمن هو الذبیح جیسی كتابيں تصنیف فرمائیں، جو قرآن کی اقسام، نظام، تدبر اور شریعت کی عمیق تفہیم میں رہنمائی کرتی ہیں۔ ان کے یہ علمی کارنامے امت مسلمہ کے فکری و عملی ارتقاء کے لیے روشن چراغ کی حیثیت رکھتے ہیں اور مسلمانوں کو قرآن و سنت کی روح کو سمجھنے کا اعلیٰ معیار فراہم کرتے ہیں۔
مولانا مودودیؒ کی تفہيم القرآن نے بھی قرآن کی معانی و مفاہیم کو آج کے دور کے مسائل کے تناظر میں پیش کیا، جس سے ہر قاری کو علمی بصیرت اور عملی رہنمائی حاصل ہوتی ہے، اور مولانا امین احسن اصلاحیؒ کی تدبر القرآن نے قرآن کے معانی و مفاہیم میں غور و فکر کی راہ ہموار کی، تاکہ قاری قرآن کی حقیقی روح کو سمجھ کر اپنی زندگی میں عمل کر سکے۔
یہ تمام تصانیف اور محققین، اپنے عزم، محنت اور اخلاص کی بدولت، ایسے روشن چراغ ہیں جو آج بھی علمی محافل، مدارس اور علمی حلقوں میں راہنمائی کرتے ہیں۔ یہ علم و فکر کی وہ شمعیں ہیں جو تاریکیِ جہالت و جمود کو دور کر کے انسانی شعور و فہم کو روشنی بخشتے ہیں اور مسلمانوں کو حقیقتِ دین اور علم کی بلند ترین منزل تک پہنچانے کا سبب بنتی ہیں۔
مولانا ابو الحسن علی ندویؒ نے کبھی کوئی مناظرہ نہیں کیا، مگر دنیا سے منہ موڑ کر ماذا خسر العالم جیسی لازوال کتاب تصنیف کی، جو آج تک بے نظير اور بے مثال ہے۔ ان کے کارنامے گنے نہیں جا سکتے۔ آج 31 دسمبر ہے۔ اسی تاریخ کو 1999ء میں وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے، اور علم و وقار کی ایسی مثال چھوڑ گئے کہ یہ واضح کر دیا کہ علم، اخلاق، محنت اور استقامت ہی انسان کو حقیقی عظمت عطا کرتے ہیں۔
اے درِ رخ تو پیدا انوارِ پادشاہی
درِ فکر تو پنہاں صد حکمتِ الٰہی
وہ عمر رسیدہ تھے، مگر ان کی پیشانی ایسی تاباں اور روشن تھی کہ جوان جبینیں اس کے جلو سے عاجز ہو جائیں، اور ہر نظر خود بخود احترام و سکوت اختیار کر لے۔ چہرے کے خطوط و انشائیے ایسے نفیس اور موزوں کہ نوجوانوں کے حسن و رعنائی کو بھی مات دے دیں۔ ان پر علم کی عظمت اور روحانیت کی تقدس بھری قبا زينت نگار تھی، جو ہر دل کو عاجز اور ہر دماغ کو متحیر کر دیتی۔
جب لب کھلتے تو موتیوں کی مانند کلمات جھڑتے، اور جب مسکراتے تو دہن سے پھولوں کی خوشبو بکھرتی۔ ان کی خاموشی بھی محض خاموشی نہیں تھی؛ یہ ایک ایسا راز تھی جو بے شمار پیچیدہ گتھیوں کو کھول دیتی، دل و دماغ میں روشنی کے چراغ جلا دیتی اور ہر سننے والے کو اندر سے جھنجھوڑ کر بیدار کر دیتی۔
ان کی آنکھوں کی سحر آفرین نگاہیں نرگس کے شیوے سے مستعار معلوم ہوتیں، اور جو بھی ان کے اثر میں آتا، دل و جان سے فدائیت اور عشق محسوس کرتا۔ مشکل ترین مسائل ان کی بصیرت کی روشنی سے حل ہو جاتے، اور ہر علمی و روحانی پہلو ان کی موجودگی میں واضح ہو کر سامنے آتا۔ وہ ایسا کیمیاگر تھے کہ ساغرِ جم بھی ان کی خاکِ پا کے سامنے شفافیت اور پاکیزگی میں کہیں پیچھے رہ جائے۔
جب وہ رخصت ہوئے، تو عالم تاریک ہو گیا۔ گلزار افسرده اور بے رونق، سبزہ پژمردہ، شمع ہائے محفل مدھم اور مدھم آوازیں خاموش ہو گئیں۔ ان کی جدائی نے دلوں کو چھلنی کر دیا، اور ہر دل پر بے قرار غم کی گہری چھاپ چھوڑ گئی۔ ہر شخص کے سینے میں ایک خالی پن، ایک بے یقینی، اور ایک ان کہی حسرت نے جگہ لے لی:
سلیمی منذ حلت بالعراق
ألاقي من نواها ما ألاقي

Dr Akram Nadwi

قلمکار : ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے