hijab

حجاب، غیرت اور ایمان: ہماری شناختی دینداری کا تلخ محاسبہ

آج اگر کوئی حجاب کے تقدس کو چیلنج کر دے تو ملتِ اسلامیہ کے جذبات میں طوفان برپا ہو جاتا ہے، غیرت کی لہریں مچل اٹھتی ہیں، سوشل میڈيا پر نعرے بلند ہوتے ہیں، گویا اسلام کی بنیادیں لرز گئیں۔ مگر جب ہم اپنے معاشره کی پاکیزہ فضاؤں میں اپنی بہن یا بیٹی کو بے حجابی کی راہوں پر چلتا دیکھتے ہیں، يا عفت وطہارت كى خلاف بغاوت ہوتى ہے، تو دل میں نہ غیرت کی آگ بھڑکتی ہے، نہ ایمان کی چنگاری جاگتی ہے۔ یہ تضاد کیوں؟ يه دو رخى كيسى؟اگر حجاب کا تقدس واقعی دل میں ہوتا، تو اس کی حرمت گھر کی دہلیز پر بھی قائم رہتی۔ ہميں ایمان کا غم نہیں، ہميں قومی شناخت کا زخم ہے۔ ہم غیرت نہیں رکھتے، ہم غیرت کی تصویر بن کر دکھائی دیتے ہیں۔ ہم حجاب کے مدافع نہیں؛ ہم اپنے مسلكی اور قومى فخر کے محافظ ہیں۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
یہی تضاد ہمارے زوالِ ایمانی کی اصل جڑ ہے۔ ہم نے اسلام کو ايمان اور عمل کی بنیاد پر نہیں، بلکہ گروہ، قوم، مسلكـ اور قبیلے کی علامت کے طور پر اپنایا ہے۔ ایمان کا چراغ بجھ چکا ہے، مگر قومی عصبیت کی مشعلیں ابھی تک روشن ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے جس جاہلی عصبیت کو منتن — بدبو دار — فرمایا تھا، ہم نے اسی کو خوشبو سمجھ کر اپنے ماتھے کا جھومر بنا لیا ہے۔ ہم نے دین کو عصا نہیں بنایا کہ کجی کو سیدھا کرے، بلکہ پرچم بنایا کہ ہماری تصویر سنور جائے۔
مسئلہ صرف حجاب کا نہیں۔ کسی خاص مسلکی رہنما پر تنقید ہو تو محفلیں لرز جاتی ہیں؛ آنکھوں میں سرخی دوڑ آتی ہے؛ گویا کائنات کا مرکز متزلزل ہو گیا۔ ہم اس لیے نہیں شورکرتے کہ حق زخمی ہوتا ہے؛ ہم اس لیے جھنجھلا اٹھتے ہیں کہ ہمارا گروہ مجروح ہوتا ہے، امام سفیان ثوریؒ، لیث بن سعدؒ اور اوزاعیؒ جیسی عظیم شخصیات کا ذکر ہمارے دل سے اجنبی ہو چکا ہے۔ آج کے مسلمان کو اپنے مدرسے کی نسبت تو ازبر ہے، مگر صحابه اور امت کے اماموں کا نام تک نہیں آتا۔ یہ محبتِ دین نہیں، یہ تعصبِ مسلک ہے۔ یہ ایمان کی غیرت نہیں، یہ قبیلے کی نگہداشت ہے۔ یہ شعور نہیں، یہ پرستشِ شخصیت ہے۔
ہم عمامے، جبّے اور وضع قطع کے اسیر ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ یہی اسلام کی روح ہے۔ ہم شکل میں سنت تلاش کرتے ہیں، مگر کردار میں نہیں۔ ہم عمامے کی شکن پر پریشان ہوتے ہیں، مگر ايمان کی شکست پر خاموش۔ نظریۂ ارتقاء، دہریت، سیکولرازم اور مادہ پرستی جب ہمارے بچوں کی روحوں میں سرایت کر جائے، ان کے دل سے خدا کا نور بجھا دے، اور آخرت کا یقین متزلزل کر دے تو ہم بےحس و بےپروا رہتے ہیں۔ ہم نے دین کو علامت ونشان بنایا، نظام وصراط نہیں؛ ہم نے شریعت کو لباس سمجھ لیا، حیات نہیں؛ ہم نے مذہب کو جشن سمجھا، جدوجہد نہیں۔
ہماری قوم کو اپنی زبان، اپنے ہیرو، اپنی تاریخ، اپنے قومیت کے نغموں پر فخر ہے؛ مگر قرآن کے معانی اجنبی ہیں، سیرتِ مصطفی ﷺ كے تئيں جہالت ہے، اور تاریخِ امت کے اوراق نئى نسلوں کے لئے ماضی کی دھول بن چکے۔ ہم قومی ترانے پر رو پڑتے ہیں، مگر نوحۂ ملت کے لئے ہمارے دلوں میں سنگینی ہے۔
مساجد فانوسوں سے جگمگا رہی ہیں، مگر دل تاریکیوں میں ڈوبے ہیں۔ منابر پر خطابت کے شور ہیں، مگر کردار میں سکوتِ مرگ۔ اجتماعات میں نعرے ہیں، مگر اعمال میں سناٹا۔ عبادت رسم بن گئی ہے، اور شریعت محض نعرہ۔ ہم نے قرآن كو تجويد ولحن سمجهـ ليا، ہدايت ونور نہيں، اذان کو آواز سمجھ لیا، پیغام نہیں؛ ہم نے نماز کو حرکت سمجھ لیا، خشوع نہیں؛ ہم نے روزے کو بھوک سمجھ لیا، تقویٰ نہیں۔
ہم ایمان کو وراثت سمجھ بیٹھے، حاصل کردہ حقیقت نہیں، ہم نے اسلام کو پرچم تو بنا لیا، مگر دستورِ حیات نہیں، ہم نے مذہب کو فخر کا زیور تو بنا لیا، مگر تعمیرِ کردار کا ذریعہ نہیں۔ ہم دین کو اپنی پہچان بناتے ہیں، مگر اپنا کُل نہیں۔
یہ سب علامتیں ہیں کہ ہماری نسبت اسلام سے: شعوری نہیں، شناختی ہے، روحانی نہیں، قومی ہے، اخلاقی نہیں، جذباتی ہے، ایمانی نہیں، نمائشی ہے، اور سب سے بڑھ کر — زندہ نہیں، مردہ ہے۔
اور یاد رکھو: جب مذہب نعرہ بن جائے تو ایمان رخصت ہو جاتا ہے؛ جب ایمان رخصت ہو جائے تو قوم کی تاریخ قبرستان بن جاتی ہے؛ اور جب تاریخ قبرستان بن جائے تو مستقبل ویرانی بن جاتا ہے۔
ہم جب تک اسلام کو اپنے نفس کی تسکین کے بجائے اپنے رب کی رضا سمجھ کر نہ اپنائیں گے؛ جب تک اسے شناخت کے بجائے، دستورِ عمل نہ بنائیں گے؛ جب تک نعرے سے زیادہ عمل کو اہمیت نہ دیں گے، تب تک ہماری مسجدیں تعمیر ہوتی رہیں گی، مگر ایمان کی بنیادیں منہدم ہوتی رہیں گی۔
اور اس دن تک، ہم مسلمان تو رہیں گے، مگر اسلام باقی نہ رہے گا۔

Dr Akram Nadwi

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے