محمد اکرم ندوی

ظلم وجبر میں صبر اور امید کا پیغام وہ تحریر جو دلوں کو حوصلہ دیتی ہے

بیکسوں کی چیخ و پکار کی جو آواز آج جہاں نے سنی، موت کے سناٹے کی ہیبت ناک خاموشی کا جو تنفس دور دراز انسانیت تک پہنچا، ایسا نغمۂ غم زا و اندوہ افزا، وحشت ناک، پر ہول اور مہیب جنگلوں میں نہیں۔ ایسی دلدوز چیخیں محاکمِ تفتیش کے داروغوں کے رونگٹے کھڑے کر دیں۔ ہائے وہ بے آسرا پن کے مناظر جاں گداز! ہائے دل جل اٹھے اور دل دہی کرنے والا کوئی نہیں! تم پر ظلم روا رکھا گیا اور تمہیں ظالم کہا گیا۔ سچائی چھپائی گئی اور جھوٹ پھیلایا گیا۔ سحر کو گل کیا گیا اور سورج کو پھونکوں سے بجھایا گیا۔ جان لی گئی، عزت لوٹی گئی، گھر جلائے گئے، جائیداد برباد کی گئی، اور یہ فرمان جاری کیا گیا کہ کوئی صدا نہ اٹھے، آنسو نہ بہے، ہوائیں حرارتِ نفس سے مشکبار نہ ہوں، اور انصاف قائم کرنے والے اداروں کو تاکید کی گئی کہ کسی کی فریاد نہ سنی جائے۔

خواب و خیال و وہم و گماں، کچھ نہیں بچا
کیا پوچھتے ہو دل کا زیاں، کچھ نہیں بچا
اب کیا دکھاؤں فردِ حسابِ نبود و بود
بس مختصر یہ ہے کہ میاں، کچھ نہیں بچا

غرورِ طاقت کا زمانہ ہے، نشۂ اقتدار کا دور ہے، فراعنہ و نمرود جنتِ شداد پر نازاں ہیں، اور دشمنانِ انسانیت وحوش و سباع کے ہم عناں۔ حالات حوصلہ شکن ہیں، دشمنوں کی دشمنی عروج پر ہے، نفرت کرنے والوں کی نفرتوں سے سارے پردے اٹھ گئے۔ جن پر بھروسا تھا وہ دغا دے گئے، جنہوں نے ساتھ دینے کے وعدے کیے تھے وہ کنارہ کش ہو گئے، جو اسٹیجوں پر تمہارے آس پاس نظر آتے تھے وہ تمہیں تنہا چھوڑ گئے۔ تم نے مشاہدہ کر لیا کہ تمہارے مولا کے سوا تمہارا کوئی نہیں۔ تم پر دل دہلانے والی آزمائشیں آئیں، تم نے اپنے رب پر بھروسا کیا اور صبرِ جمیل سے مصائب و آلام کا سامنا کیا۔ تمہاری ثابت قدمی ہی تمہاری جیت ہے۔

دنیا کی قوموں نے اگر تم سے بے وفائی کی تو مایوسی سے دوستی نہ کرو۔ انہوں نے تمہاری پروا نہیں کی، مگر تم ان کی پروا کرو۔ تم مظلوموں سے ہمدردی کرو، انہیں ساتھ لے کر چلو۔ کمزور و ناتواں اگر تمہاری رفاقت سے کترائیں تو تم ان سے روگردانی نہ کرو۔ تمہیں ایک ہی سبق سکھایا گیا ہے کہ دوسروں کے غموں کا مداوا کرو اور اپنا غم اپنے رب کے حوالے کرو۔ تمہیں یاد نہیں کیا کہ تم وادیِ غم کے خوش خرام ہو، اور تم خوش نفسانِ تلخ جام ہو۔

نہ بھولو کہ تم پر ہر دور میں سنگین حالات آئے ہیں، اور آتے رہیں گے۔ نحوست و لؤم کی سیاہی سے لکھی گئی پرستارانِ صلیب کی سفاکیوں کی داستانیں پڑھو، تاتاریوں کے مظالمِ روح فرسا کا جائزہ لو، استعماری طاقتوں کی درندگیوں پر ایک نظر ڈالو۔ تم پر اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، اسی امتحانِ صبر آزما کے مقدس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مکانوں کے کھنڈر، در و دیوار کی خونی نشانیاں، گلی کوچوں میں بکھرے جسمانی اعضا کے ٹکڑے تمہاری مظلومیت کے شاہد ہیں۔

تمہارے رب کو تم پر فخر ہے کہ تم ان حالات میں بھی وفادار ثابت ہوئے۔ کیا تمہارے لیے یہ صلہ کافی نہیں کہ وہ تم سے خوش ہے، اور اس نے دنیا کی ساری قوموں کے مقابلے میں تمہیں منتخب کیا ہے؟ تم دوسروں سے ان کا حال پوچھو، تم اس کا انتظار نہ کرو کہ کوئی تم سے کہے کہ تمہارا حال کیا ہے۔ تم جریدۂ عالم پر ثبت کر دو کہ تمہیں سو قرینوں سے زہر پینا آتا ہے۔ جو زندگانی گزاری نہ جا سکے، تم وہ زندگانی گزار کر دکھا دو۔ تم دنیا کو دوا پیے بغیر جینے کا ہنر سکھا دو۔

جب حالات حوصلہ شکست ہوں تو حوصلہ بلند تر کرو۔ جب ہمّتیں پست ہو رہی ہوں تو دلوں کو صبر و ثبات کی حرارت سے تیز کرو۔ فرو مایگان کے عروج سے ہراساں نہ ہو۔ وہ تمہیں دکھ دیں، تم انہیں دوا دو۔ وہ تمہیں گالی دیں، تم انہیں دعا دو۔ تمہارے لیے گردشِ خون کا حکم ہو تو تم گردشِ پیمانہ کی سنت عام کرو۔ غم نہ کر کہ تمہارے سکوت سے آمروں کا غرور ٹوٹے گا، تمہارے آنسوؤں سے جور و ستم کی آگ بجھے گی، تمہارے خون کے قطروں سے ایک جہانِ عدل و انصاف طلوع ہوگا، اور تمہاری آہوں سے حق و صداقت کی کھیتی سیراب ہوگی۔ نہ گھبرا کہ تاریکی رخصت ہوگی اور نور کی سلطنت قائم ہوگی۔

قلمکار: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى
آكسفورڈ لندن

مزید خبریں:

طالبان کی جانب سے افغانستان میں انٹرنیٹ پر پابندی ایک نیا چیلنج

مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ حیات و خدمات

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے