سر سید احمد خان برِصغیر کی تاریخ کے اُن عظیم مصلحین میں سے ہیں جنہوں نے زوال کے دور میں مسلمانوں کے اندر نئی روح پھونک دی۔ وہ ایک مصلح، مفکر، معلم، ادیب اور قوم کے سچے رہنما تھے۔ جب برِصغیر کے مسلمان پستی، جہالت اور مایوسی کا شکار تھے، اُس وقت سر سید نے علم و تعلیم کی شمع جلائی اور مسلمانوں کو ترقی و بیداری کی راہ دکھائی۔
ابتدائی زندگی
سر سید احمد خان 17 اکتوبر 1817ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک معزز اور علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کے والد سید متقی مغل دربار سے وابستہ تھے، جبکہ والدہ عزیز النسا نہایت نیک، دیندار اور تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔
ابتدائی تعلیم میں سر سید نے قرآن پاک، عربی، فارسی، ریاضی اور طب کی تعلیم حاصل کی۔ بچپن ہی سے اُنہیں علم و تحقیق سے گہرا شغف تھا۔ اُن کی تربیت نے اُنہیں رواداری، اخلاق اور علم دوستی کی راہ پر گامزن کیا۔
سرکاری خدمات
1838ء میں سر سید نے ایسٹ انڈیا کمپنی میں قاضی (جج) کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی۔ ملازمت کے دوران وہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں تعینات رہے اور اُنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کی تعلیمی و معاشرتی پسماندگی کو قریب سے دیکھا۔
1857ء کی جنگِ آزادی کے دوران سر سید نے وفاداری، ہمدردی اور انصاف کا مظاہرہ کیا۔ جنگ کے بعد مسلمانوں کو بغاوت کا ذمہ دار ٹھہرا کر سخت سزائیں دی گئیں۔ مسلمانوں کی اس حالتِ زار نے سر سید کی سوچ کو یکسر بدل دیا اور اُنہوں نے اپنی زندگی قوم کی خدمت کیلئے وقف کر دی۔
1857ء کے بعد کی جدوجہد
جنگِ آزادی کے بعد مسلمان ہر میدان میں پیچھے رہ گئے۔ انگریزی تعلیم سے دوری، خوف، اور حکومتی ناانصافیوں نے اُنہیں مزید کمزور کر دیا۔
ایسے وقت میں سر سید نے مسلمانوں کی اصلاح اور فکری بیداری کیلئے قلم اٹھایا۔ اُنہوں نے مشہور کتاب "اسبابِ بغاوتِ ہند” لکھی جس میں اُنہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ 1857ء کی جنگ مذہبی نہیں بلکہ انتظامی غلطیوں اور ناانصافیوں کا نتیجہ تھی۔ اُن کی یہ کتاب ایک جری، منصفانہ اور حقیقت پر مبنی تجزیہ تھی۔
Image Credit To News Of Kashmir
تعلیمی خدمات اور علی گڑھ تحریک
سر سید کا یقین تھا کہ قوم کی ترقی کا واحد راستہ تعلیم ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان انگریزی زبان، سائنس اور جدید علوم سیکھیں تاکہ وہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق ترقی کر سکیں۔
1864ء میں اُنہوں نے سائنٹیفک سوسائٹی قائم کی تاکہ انگریزی علمی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا جا سکے۔ یہ اقدام مسلمانوں میں علمِ جدید کا دروازہ کھولنے کا باعث بنا۔
اُن کی سب سے بڑی خدمت 1875ء میں محمدن اینگلو اورینٹل کالج (علی گڑھ) کا قیام تھا، جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (AMU) بن گیا۔ اس ادارے نے جدید تعلیم اور اسلامی اخلاقیات کا حسین امتزاج پیش کیا۔ علی گڑھ تحریک نے مسلمانوں کو ایک نئی فکری اور تعلیمی سمت عطا کی۔
سماجی و مذہبی اصلاحات
سر سید صرف ایک تعلیمی رہنما نہیں تھے بلکہ ایک عظیم سماجی مصلح بھی تھے۔ وہ مسلمانوں میں پھیلی ہوئی جہالت، خرافات اور غیر اسلامی رسوم کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔
1870ء میں اُنہوں نے "تہذیب الاخلاق” نامی رسالہ جاری کیا، جس کے ذریعے اُنہوں نے اخلاقی، معاشرتی اور فکری اصلاحات کا پیغام دیا۔ وہ عورتوں کی تعلیم کے حامی اور غیر ضروری فضول خرچی کے سخت مخالف تھے۔
مذہب کے حوالے سے سر سید کا نظریہ یہ تھا کہ اسلام اور علمِ جدید ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ اُنہوں نے عقل و وحی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی اور مذہب کو علم و تحقیق کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔
سیاسی نظریات
سر سید سیاسی لحاظ سے نہایت دوراندیش تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کو سیاست میں کودنے سے پہلے تعلیمی طور پر مضبوط ہونا چاہئے۔
جب انڈین نیشنل کانگریس 1885ء میں قائم ہوئی، تو سر سید نے مسلمانوں کو نصیحت کی کہ وہ فی الحال اس میں شامل نہ ہوں، کیونکہ اُنہیں خدشہ تھا کہ مسلم مفادات پسِ پشت ڈال دیے جائیں گے۔ اُنہوں نے مسلمانوں کو اپنی سیاسی شناخت قائم کرنے اور منظم ہونے پر زور دیا۔
بعد میں اُن کی یہ سوچ علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح جیسے رہنماؤں کیلئے فکری بنیاد ثابت ہوئی۔
آخری ایام اور وفات
سر سید اپنی زندگی کے آخری ایام علی گڑھ میں گزارنے لگے جہاں وہ اپنے تعلیمی مشن میں مصروف رہے۔ اُنہوں نے اپنی آخری سانس تک علی گڑھ کالج کی خدمت کی۔
وہ 27 مارچ 1898ء کو وفات پا گئے اور اُنہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے احاطے میں دفن کیا گیا۔ اُن کی قبر آج بھی اُن کے خوابوں کی تعبیر کا گواہ ہے۔
وراثت اور اثرات
سر سید احمد خان کی خدمات نے برصغیر کے مسلمانوں کو جہالت کے اندھیروں سے نکالا۔ اُن کی علی گڑھ تحریک نے ایک نئی تعلیم یافتہ نسل پیدا کی جس نے بعد میں تحریکِ پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اُن کی فکر، علم اور اصلاحات نے مسلمانوں کو خودی، شعور اور ترقی کی راہ دکھائی۔ وہ آج بھی جدید مسلم تعلیم اور فکری بیداری کے بانی کے طور پر یاد کئے جاتے ہیں۔
نتیجہ
سر سید احمد خان کی زندگی قربانی، علم اور خدمت کا پیکر تھی۔ اُنہوں نے ثابت کیا کہ قوموں کی ترقی تعلیم، اتحاد اور اخلاق سے ممکن ہے۔ اُن کی تعلیمات آج بھی ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اگر ہم علم کو اپنائیں اور اخلاقی اقدار پر قائم رہیں تو ہم دوبارہ عروج حاصل کر سکتے ہیں۔
یقیناً سر سید احمد خان کی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی — وہ ایک ایسی شمع تھے جو آج بھی روشنی پھیلا رہی ہے۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں