اسراء و معراج

اسراء و معراج کا سفر حالت بیداری میں پیش آیاتھایا صرف اک خواب تھا؟ (قسط : دوم)

آج اس مضمون کی آپ دوسری قسط پڑھنے جا رہے ہیں ، اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس کو خود بھی بغور پڑھیں گے اور اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر بھی ضرور کریں گے ۔

_______________________

لیکن مولانا امین احسن اصلاحی اور جاوید غامدی نے مولانا حمید الدین فراہی کی تحقیق پر اعتبار کرکے اسراء و معراج کے اس عظیم واقعہ کو رویا صادقہ ( یعنی سچا خواب ) قرار دے دیا ہے ، اس کے لئے انہوں نے قرآن کی اس آیت سے استدلال کیا ہے ۔

وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِىٓ اَرَيْنَاكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ ۔

( بنی اسرائیل: 60)

اور ہم نے تم کو ( اس شب اسراء و معراج میں ) جو نظّارہ دکھایا ہے ، اسے لوگوں کے لئے صرف ایک آزمائش بنایا ہے (تاکہ ایمان والے مان جائیں اور ظاہر بین الجھ جائیں)

مولانا حمید الدین فراہی اس آیت میں لفظ ” الرُّؤْيَا ” کے بارے میں لکھتے ہیں ۔

” رویا کا مشاہدہ چشم سر کے مشاہدہ سے زیادہ قطعی ، زیادہ وسیع اور اس سے ہزارہا درجہ عمیق اور دور رس ہوتا ہے۔ آنکھ کو مغالطہ پیش آسکتا ہے لیکن رویائے صادقہ مغالطہ سے پاک ہوتی ہے، آنکھ ایک محدود دائرہ ہی میں دیکھ سکتی ہے ، لیکن رویا بیک وقت نہایت وسیع دائرہ پر محیط ہو جاتی ہے، آنکھ حقائق و معانی کے مشاہدے سے قاصر ہے، اس کی رسائی مرئیات ہی تک محدود ہے۔ لیکن رویا معانی و حقائق اور انوار و تجلیات کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے "

( لغات القرآن : ص 250)

یہی تفسیری نوٹ مزید تفصیل کے ساتھ مولانا امین احسن اصلاحی اور جاوید احمد غامدی نے بھی نقل کیا ہے ۔

( دیکھئے تدبر قرآن : ج 4 ، ص 476 / البیان : ج 3 ، ص 62 )

دراصل اس طرح کی گفتگو جمہور کے موقف اور حقائق پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے ، لفظ ” الرُّؤْيَا ” کی یہ تعبیر کہ ” رویا کا مشاہدہ چشم سر کے مشاہدہ سے زیادہ قطعی ، زیادہ وسیع اور اس سے ہزارہا درجہ عمیق اور دور رس ہوتا ہے ” محض سخن سازی کے سوا کچھ نہیں ہے ، کیونکہ آج تک کسی بھی مفسر قرآن نے رویا کے اس طرح کے معنی نہیں لکھے ہیں ، کیونکہ جو شخص کھلی آنکھوں سے حالت بیداری میں مشاہدہ کرسکتا ہے ، تو وہ کیسے خواب میں نیند کی نیم مردہ حالت میں اس طرح کا مشاہدہ کرسکتا ہے ؟ اور پھر کیا خواب کا مشاہدہ بھی لوگوں کے لئے قابل اعتراض یا آزمائش کا باعث ہوسکتا ہے ؟ اس لئے مولانا حمید الدین فراہی کی لفظ ” الرؤیا ” کے بارے میں یہ تاویل بھی ان کی دوسری بہت ساری تاویلات باطلہ میں سے ایک ہے ۔

صحیح بخاری میں لفظ ” الرُّؤْيَا ” کے معنی سیدنا عبداللہ بن عباس سے اس طرح مروی ہیں ۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ { وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ } قَالَ : هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ . الخ

(صحيح البخارى : كِتَابُ التَّفْسِيرِ : سُورَةُ بَنِي إِسْرَائِيلَ : بَابٌ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ : رقم الحديث 4716)

سیدنا عبداللہ بن عباس نے اس آیت { وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ } کے بارے میں فرمایا ہے ، یہ چشم سر کا نظارہ تھا ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء و معراج کی رات کو کرایا گیا ۔

امام فخر الدین رازی لکھتے ہیں ۔

و اختلفوا في معنى هذه الرؤيا فقال الاكثرون لا فرق بين الروية و الرؤيا في الغة ، يقال رأيت بعيني رؤية و رؤيا ، وقال الاقلون ، هذا يدل على أن قصة الاسراء إنما حصلت في المنام ، و هذا القول ضعيف باطل على ما قررناه في أول هذه السورة و قوله ، إلا فتنة للناس, معناه ، انه عليه الصلاة و السلام لما ذكر لهم قصة الاسراء كذبوه و كفر به كثير ممن كان آمن به و ازداد المخلصون إيمانا فلهذا السبب كان المنتحاناً ؟

( التفسير الكبير : ج 20 ، ص 189)

اور اس لفظ ، رؤیا ، کے معنی میں اختلاف ہے ، تو اکثروں نے یہ کہا ہے کہ لغت کے اعتبار سے رویت اور رؤیا میں کوئی فرق نہیں ہے ، جیسے کہا جاتا ہے ، رأيت بعيني رؤية و رؤيا ( میں نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا اور دیکھا) اور کم لوگوں نے کہا کہ یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ معراج کا پورا واقعہ خواب میں دیکھا گیا تھا ، لیکن یہ قول ضعیف اور باطل ہے ، جس کا ذکر ہم نے اس ( سورہ بنی اسرائیل) کے آغاز میں کیا تھا ۔ اور اس مشاہدہ کے آزمائش ہونے کے معنی یہ ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا واقعہ لوگوں کے سامنے بیان کیا تو مشرکین نے اس کا انکار کیا اور جو مسلمان تھے ، وہ اپنے ایمان پر قائم رہے ، بلکہ ان کا ایمان اور زیادہ مضبوط ہوگیا ، ( اور اگر یہ واقعہ صرف خواب ہوتا تو پھر کسی کو اس کے انکار کرنے کی کیا ضرورت تھی ) اور یہ واقعہ لوگوں کی آزمائش کس طرح ہوتا ؟

سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے امام خازن لکھتے ہیں ۔

والحق الذی علیه اکثر الناس ومعظم السلف و عامة الخلف من المتأخرین من الفقھاء والمحدثین والمتکلمین انه اسری بروحه وجسدہ صلی الله علیه وسلم ، ویدل علیه قوله سبحانه وتعالیٰ( سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا ) و لفظ العبد عبارۃ عن مجموع الروح والجسد ۔

(تفسیر الخازن : ج 3 ، ص149)

حق وہی ہے جس پر اکثر لوگ اور اکابرین سلف اور خلف کے متأخرین میں سے عام فقہاء، محدثین اور متکلمین ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اسراء و معراج کی رات میں) جسم اور روح کے ساتھ سیر فرمائی ، اور اس پر اللہ تعالی کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : ” پاکی ہے اس ذات کے لئے جو رات کے ایک حصہ میں اپنے بندے کو لے گیا ” ( سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا ) کیونکہ لفظ عبد روح اور جسم دونوں کے مجموعے کا نام ہے ۔

علامہ آلوسی لفظ ، رؤیا ، کے معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔

و جماعة عن ابن عباس وهي عند كثير بمعني الرؤية مطلقاً .

( روح المعانى : ج 9 ، ص 152)

ایک جماعت عبداللہ بن عباس سے روایت کرتی ہے کہ اکثریت کے نزدیک اس ( الرؤیا) سے مراد مطلقاً آنکھوں دیکھا نظارہ ہے ۔

علامہ ابن منظور لفظ ” رؤیا ” کے ایک معنی یہ بھی لکھتے ہیں ۔

الرؤیا في اليقظ

( لسان العرب : ج 4 ، ص 16)

یعنی بیداری کی حالت میں دیکھنا ۔

علامہ ابن منظور نے زمانہ جاہلیت کے شاعر راعی کا یہ شعر بطور سند پیش کیا ہے ۔

فكبر للرؤيا و هش فؤاده

و بشر نفساً كان نفساً يلومها

( أيضا : ص 16)

سو اس نے تکبیر کہی ، اور اس کا دل خوش ہوا ، اور اس نے اپنے نفس کو پہلے ملامت کی تھی ، خوشخبری دی اس منظر کو دیکھ کر جس کا اس نے عینی مشاہدہ کیا ۔

اسی طرح انہوں نے ابو طیب متنبی کے اس مصرعہ کو بھی بطور تائید نقل کیا ہے ۔

و رویاك احلي في العيون من الغمض

( أيضا : ص 16)

اور تیرا دیدار ( میری ) آنکھوں میں نیند سے بھی زیادہ لذیذ ہے ۔

علامہ ابن قیم کے نزدیک بھی یہی صحیح ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء و معراج کے واقعہ میں جسمانی سیر کرائی گئی تھی ، جیساکہ وہ تحریر فرماتے ہیں ۔

أُسْرِىَ برسول الله صلى الله عليه وسلم بجسده على الصحيح من المسجد الحرام إلى بيت المقدس ، راكباً على البُرَاق ، صحبة جبريل عليهما الصلاة والسلام، فنزل هناك وصلى بالأنبياء إماماً ، وربط البراق بحلقة باب المسجد‏، ثم عرج به تلك الليلة من بيت المقدس إلى السماء الدنيا .

( زاد المعاد في هدى خير العباد : ص 419/ 2008ء ، لبنان )

صحیح یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے جسد مبارک سمیت براق پر سوار کرکے جبریل (علیہ السلام) کی معیت میں مسجد حرام سے بیت المقدس تک سیر کرائی گئی ، پھر آپ نیچے اترے ، اور انبیا کرام کی امامت فرماتے ہوئے نماز پڑھائی ، اور براق کو مسجد کے دروازے کے حلقے سے باندھ دیا تھا ، چنانچہ اس کے بعد پھر اسی رات آپ کو بیت المقدس سے آسمان دنیا تک لے جایا گیا ۔

اسی طرح عالم عرب کے جید مفسر قرآن علامہ محمد بن شامی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں ۔

سبحان الله وتقدس (لا إله إلا هو) الذي أسرىٰ بعبده ورسوله محمد صلى الله عليه وسلم في جنح الليل بروحه وبدنه في يقظته من مسجد مكة إلى المسجد الأقصىٰ ببيت المقدس، الذي باركنا حوله في الزروع والثمار والفواكه والمياه وغيرها ، لنري نبينا محمدا صلى الله عليه وسلم و آياتنا العظام الدالة على القدرة الربانية العظيمة التي لا يقدر عليها غير الله، وعلى وحدانيته، وأنه لا يستحق العبادة إلا هو، إنه سبحانه السميع لأقوال عباده البصير بهم لا تخفى عليه خافية منهم ، وسيعطي كلا منهم ما يستحقه في الدنيا والآخرة.

(التفسير الموجز : ص 513)

اللہ پاک ہے، نہایت پاکیزہ اور برتر ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی ذات نے اپنے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے ایک حصے میں بیداری کی حالت میں، روح اور جسم کے ساتھ، مسجدِ حرام (مکہ) سے مسجدِ اقصیٰ (بیت المقدس) تک سیر کرائی۔ وہ مسجد جس کے اردگرد ہم نے کھیتوں، پھلوں، میووں، پانیوں اور دیگر نعمتوں کے ذریعے برکت رکھی ہے۔ یہ سب اس لئے ہوا تاکہ ہم اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں، جو اس ربانی قدرتِ عظیمہ پر دلالت کرتی ہیں، جس پر اللہ کے سوا کوئی قادر نہیں، اور جو اس کی وحدانیت پر دلیل ہیں، اور اس بات پر کہ عبادت کا مستحق صرف وہی ہے۔ بیشک وہی پاک ذات اپنے بندوں کی باتیں خوب سننے والی ہے، انہیں خوب دیکھنے والی ہے، ان میں سے کسی کی کوئی بات اس سے مخفی نہیں، اور وہ عنقریب ان میں سے ہر ایک کو دنیا اور آخرت میں اس کے مستحق بدلے سے ضرور نوازے گا۔

امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ تفسیری نوٹ بھی قابل غور ہے ۔

” ہجرت مدینہ سے تقریباً ایک سال پہلے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اسریٰ کا معاملہ پیش آیا جو عام طور پر معراج کے نام سے مشہور ہے ، اس سورت کی ابتداء اسی واقعہ کے ذکر سے کی گئی ہے اور واضح کیا ہے کہ اس معاملے سے مقصود کیا تھا ” لِنُرِيَهٝ مِنْ اٰيَاتِنَا ” تاکہ اللہ کی نشانیاں ان کے مشاہدہ میں آجائیں ، یعنی دلائل حقیقت کا آئینی مشاہدہ کر لیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ معاملہ وحی کی تکمیل تھا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد فرمایا ” وَاٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتَابَ” (اور اسی طرح ہم نے موسیٰ کو کتاب (شریعت) دی /بنی اسرائیل : آیت 2) اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کا معاملہ وحی بھی کوہ طور کے اعتکاف میں مکمل ہوا تھا کہ "وَلَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَهٝ رَبُّهٝ ” ( اور جب موسٰی ہمارے مقرر کردہ وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا / الأعراف : 143) اور انہیں کتاب شریعت دی گئی تھی ۔

” اِنَّهٝ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْـرُ ” وہی ہے جو سننے والا دیکھنے والا ہے ۔ پس جسے چاہے اس سے زیادہ سنا دے جتنا سب سن رہے ہیں اور اس سے زیادہ دکھا دے جتنا سب دیکھ رہے ہیں ۔

( ترجمان القرآن : ج 2 ، ص 408)

نیچے جو عربی پوسٹ کی تصویر دیکھ رہے ہیں اور اس میں سورہ بنی اسرائیل کی پہلی کے تحت جو عربی عبارت ہے ، اس کو یہاں پر اردو ترجمہ کے ساتھ بھی لکھا جاتا ہے ، تاکہ کوئی تشنگی نہ رہے کہ اس پر کیا لکھا گیا ہے ۔

المعجزة الخالدة على مر الزمان سطرها الحق في آيات القرآن رحلة عظيمة أعدتها القدرة الإلهية فتحت فيها السماء أبوابها في وجه المعصوم صلى الله عليه وسلم على بعد تعب ومشقة وحزن وهموم.

” یہ وہ دائمی معجزہ ہے جو زمانوں کے تسلسل کے ساتھ باقی رہنے کے لیے حق تعالیٰ نے قرآن کی آیات میں رقم فرمایا۔ یہ ایک عظیم الشان سفر تھا جسے قدرتِ الٰہی نے خود تیار کیا، ایسا سفر کہ جس میں آسمان نے معصوم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنے دروازے کھول دئے، اس حال میں کہ آپ تھکن، مشقت، غم اور فکروں کے ایک سخت دور سے گزر چکے تھے۔”

مزید خبریں:

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے