عمر خالد

تہاڑ جیل سے عمر خالد کا خط

اس بار عبوری ضمانت کے بعد جب میں(عمر خالد) تہاڑ واپس آیا تو یہاں بہت کچھ بدل چکا تھا۔ ہماری بیرک میں، جو پہلے ہی بھری ہوئی تھی، مزید تقریباً پچاس قیدی ٹھنس دیے گئے تھے۔ یعنی اب خاموشی اور بھی کم ہو گئی تھی۔ سپریم کورٹ سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد یہ کمی اور تکلیف دہ لگنے لگی۔ میں میڈیا کے طوفان سے ابھی ابھی نکل رہا تھا کہ ٹی وی اور اخباروں کی مسلسل رپورٹنگ کی وجہ سے اب پہلے سے زیادہ قیدی مجھے جاننے لگے تھے۔ اب ہر کوئی مجھ سے کچھ دیر بات کرنا چاہتا ہے—تجسس کی وجہ سے یا حیرت کی وجہ سے، کہنا مشکل ہے۔ میں تو بس تنہائی چاہتا ہوں، سب سے زیادہ۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے تازہ خبر ملے

میری کوٹھری بھی اب اجنبی سی لگتی ہے۔ عبوری ضمانت پر گھر جاتے وقت دل میں کہیں امید تھی کہ شاید فیصلہ ہمارے حق میں آ جائے، اسی لیے میں نے اپنی ساری کتابیں، نوٹس، خطوط، تصاویر، کارڈز سب سمیٹ کر گھر لے گیا تھا۔ اب ضمانت مسترد ہو چکی ہے اور کم از کم ایک سال تک یہاں سے نکلنے کا کوئی امکان نہیں، تو کوٹھری خالی تختی جیسی لگ رہی ہے۔ شاید یہ اچھی بات ہے۔ نئی اننگز ہے آخر کار۔

فیصلے کے پہلے چند دن ہمیشہ بہت بھاری ہوتے ہیں۔ دراصل جس دن سپریم کورٹ نے ضمانت مسترد کی، میں فوراً 2022 میں واپس چلا گیا جب ٹرائل کورٹ نے پہلی بار میری ضمانت خارج کی تھی۔ وہ خبر ویسے ہی پیٹ میں چھری کی طرح لگی تھی۔ لیکن پانچ سال سے زیادہ یہاں گزارنے اور تین مختلف عدالتوں سے پانچ بار ضمانت مسترد ہونے کے بعد، اب میں اس بے بسی سے اچھل کر واپس آنے کا عادی ہو گیا ہوں۔ موسمِ سرما مگر اداسی کو اور بڑھا دیتا ہے۔ رات کو لوہے کی سلاخوں سے تیز ہوا آتی ہے، شال اور کئی تہوں والے گرم کپڑوں میں لپٹ کر بھی سیمنٹ کے تختے پر سونا مشکل ہو جاتا ہے۔ صبح ابھی ٹھیک ہوتی ہے، جب دھوپ میں گھومنے دیا جاتا ہے۔ لیکن دوپہر تین بجے کے بعد جب دوبارہ تالا لگنے کا وقت قریب آتا ہے، دماغ نیچے کی طرف گرنے لگتا ہے۔ سیاہ گڑھے میں گرتا چلا جاتا ہے اور سوچنے لگتا ہوں کہ کیا کبھی آزاد آدمی بن کر باہر نکل بھی پاؤں گا؟ اور اگر ضمانت مل بھی جائے تو؟ جن لوگوں کو ضمانت ملی ہے ان پر لگائی گئی شرائط اتنی سخت ہیں کہ باہر کی زندگی بھی جیل جیسی ہی لگے گی، آزادی بھی ویسی ہی گھٹی گھٹی۔ اس اندھیرے سے نکلنا اکثر مشکل ہو جاتا ہے۔

اس بار ایک اور پریشانی یہ ہے کہ میرا پرانا ٹی وی بالآخر ہار مان گیا۔ آج کل جو فلمیں آتی ہیں وہ زہریلی ہیں، خبریں اور بھی زیادہ۔ جو مجھے سہارا دے رہا تھا وہ اندر بنا ہوا ریڈیو تھا اور چند گانے۔ موسیقی اور خاموشی میرے قید کے مستقل ساتھی رہے ہیں۔ امید ہے جلد ہی کوئی سادہ سا ٹی وی لے آؤں گا—بس ریڈیو والا۔

تہاڑ کے جانوروں نے بھی مجھے بہت سہارا دیا ہے۔ میں دو بلیوں—شلپا اور شیام لال—کو کھلاتا تھا۔ آخرِ کار شلپا نے دو بچے دیے جن کا نام میں نے بلیک پینتھر اور اسٹوارٹ لٹل رکھا۔ ان کی روزمرہ کی شرارتیں دیکھنا اور ان میں شریک ہونا دل کو خوش بھی کرتا ہے اور گرم بھی۔ مجھے لگتا ہے میں اب انسانوں سے زیادہ ان کی سنگت کو ترجیح دینے لگا ہوں۔

یہ عجیب مگر دلچسپ بات ہے کہ باہر کتنے ہی جرم کے الزام میں قید لوگ اندر بلیوں، پرندوں، چھپکلیوں اور چیونٹیوں تک کو کھلاتے پھرتے ہیں۔ یہاں مانا جاتا ہے کہ جانوروں کو کھلانے سے ثواب ملتا ہے اور آزادی نصیب ہوتی ہے۔ اسی لیے بیرک کے فرش پر روٹی یا چینی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بکھرے رہتے ہیں تاکہ چیونٹیاں کھا سکیں۔ صفائی والا شکایت کرتا ہے مگر قیدی باز نہیں آتے۔ ایک قیدی کئی ہفتوں سے ایک درخت کو پانی دے رہا تھا، اسے ضمانت مل گئی۔ اگلے دن جب وہ گیا تو تین اور قیدیوں نے اس درخت کی ذمہ داری سنبھال لی کہ شاید انہیں بھی رہائی مل جائے۔ دیکھئے نا، قید میں بھی امید کتنی ضدی شے ہے۔

اب میں دوبارہ پڑھائی شروع کرنے کا ارادہ کر رہا ہوں، حالانکہ ضمانت مسترد ہونے سے تھوڑا پٹڑی سے اتر گیا تھا۔ کئی کتابوں کی فہرست ذہن میں ہے، اب ان پر کام شروع کرنا ہے۔ آزادی کا انتظار اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ لمبا لگ رہا ہے۔ اس لیے مجھے خود کو سنبھالے رکھنا ہے، خاص طور پر ایک ایسے ماحول میں جہاں شک کو یقین میں بدل دیا گیا ہے، میرے خلاف لگائے گئے الزامات کے بارے میں۔ مین اسٹریم میڈیا میں میرے لیے اب “ملک دشمن” نہیں، “دہشت گرد” لفظ رائج ہے۔

جو لوگ ریاست کی بات مانتے ہیں وہ مجھے جیسے بھی دیکھیں، میں اسے بدل نہیں سکتا۔ لیکن جو میرے ساتھ کھڑے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ وہ یہ سمجھیں کہ میں اس شکار (victim) والے لیبل کو مسترد کرتا ہوں جو اکثر مجھ پر چسپاں کیا جاتا ہے۔ اس بظاہر لامتناہی انتظار میں درد تو ہے ہی، مگر اس درد میں ایک خوبصورتی بھی ہے۔ میں مطمئن ہوں جہاں ہوں، اس سب کے باوجود جو مجھ پر ڈھایا جا رہا ہے، کیونکہ یہ جان کر خوبصورتی ہے کہ یہ صرف میرا معاملہ نہیں۔ میری قید کا مقصد صرف مجھے نشانہ بنانا نہیں بلکہ میرے ساتھیوں کو سبق سکھانا ہے کہ جو کوئی طاقتوروں سے تکلیف دہ سوال پوچھے گا، اسے بغیر کسی رحم کے خاموش کر دیا جائے گا۔ اس لیے یہ لڑائی جو میں لڑ رہا ہوں، وہ مجھ سے بڑی ہے۔ اسی لیے میرے حامیوں کو بھی میری اور دوسروں کی بات کرنے کا انداز بدلنا چاہیے۔ ہم ایک خواب کے لیے لڑ رہے ہیں—ایک ایسے معاشرے کا جہاں کوئی دوسروں سے زیادہ برابر نہ ہو۔ یہی یقین اس درد کو سہنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ تقریباً مسیح جیسا ہے، یا بھگت سنگھ جیسا۔ دونوں نے مظلوموں کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اور یہ جان کر خوبصورتی ہے کہ میں بھی اسی سلسلے کا حصہ ہوں، اس تاریخ کا جو آنے والا کل لکھے گا۔

اس لیے میں ہر صبح ان سطروں کو دیکھ کر اٹھتا ہوں جو میں نے اپنی جیل کی دیوار پر کندہ کی ہیں:

”راکھ کا ہر ذرہ میری حرارت سے حرکت میں ہے میں اتنا پاگل ہوں کہ جیل میں بھی آزاد ہوں۔“

یہ خط OutLook میں شائع کیا گیا ہے اور اردو قارئین کی دلچسپی کے پیش نظر اس کو ترجمے کے ساتھ شائع کیا گیا ہے

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے