لیشیا رونزولی: حوصلہ مند ماں، باوقار رہنما اور نظام کی خاموش کمزوریوں کا آئینہ
اطالوی سیاست دان اور یورپی پارلیمنٹ کی رکن Licia Ronzulli کا اپنی 44 دن کی نومولود بچی کو ساتھ لے کر European Parliament کے اجلاس میں شریک ہونا محض ایک ذاتی عمل نہیں تھا، بلکہ اس نے دنیا بھر میں کام کرنے والی ماؤں کے مسائل اور ادارہ جاتی نظام کی خامیوں کو نمایاں کر دیا۔
سب سے پہلے اگر لیشیا رونزولی کی شخصیت پر بات کی جائے تو وہ حقیقی معنوں میں خراجِ تحسین کی مستحق ہیں۔ ایک طرف وہ ایک ذمہ دار ماں ہیں، جو اپنی نومولود بچی کی بنیادی ضروریات سے غافل نہیں ہو سکتیں، اور دوسری طرف ایک منتخب عوامی نمائندہ، جو اپنی پارلیمانی ذمہ داریوں سے منہ نہیں موڑتیں۔ انہوں نے نہ تو کسی ہمدردی کی اپیل کی، نہ ہی اسے کسی سیاسی ڈرامے میں بدلا، بلکہ خاموشی اور وقار کے ساتھ اپنا فرض ادا کیا۔ یہی عمل ان کی شخصیت کو مضبوط، باخبر اور حقیقت پسند ثابت کرتا ہے۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے تازہ خبر ملے
لیشیا رونزولی کا یہ اقدام اس سوچ کو بھی چیلنج کرتا ہے کہ قیادت صرف مردانہ دائرے میں ہی ممکن ہے یا یہ کہ ماں بننے کے بعد عورت کو پیشہ ورانہ زندگی سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔ انہوں نے عملی طور پر ثابت کیا کہ ماں ہونا کمزوری نہیں بلکہ ایک اضافی ذمہ داری ہے، جس کے ساتھ بھی قیادت ممکن ہے۔
دوسری جانب، یہ واقعہ یورپی پارلیمنٹ جیسے ترقی یافتہ اور جدید ادارے کے نظام پر ایک سنجیدہ سوال بھی اٹھاتا ہے۔ اگر ایک منتخب رکن کو اس بات پر مجبور ہونا پڑے کہ وہ اپنی نومولود بچی کو ایوان میں لے آئے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ادارہ والدین، خاص طور پر ماؤں، کے لیے مناسب سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسے اداروں میں بچوں کی دیکھ بھال کے مراکز، والدین کے لیے وقفہ، یا لچکدار حاضری کا نظام موجود نہیں ہونا چاہیے؟
یہ خامی صرف یورپی پارلیمنٹ تک محدود نہیں، بلکہ دنیا بھر کے دفاتر، اداروں اور حکومتوں میں یہی مسئلہ پایا جاتا ہے، جہاں کام کرنے والی خواتین کو اکثر ماں ہونے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ نظام عورت سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ یا تو مکمل ماں بنے یا مکمل پیشہ ور، جبکہ حقیقت میں زندگی ان دونوں کرداروں کا امتزاج ہے۔
لیشیا رونزولی کا یہ عمل بغیر کسی نعرے یا احتجاج کے، نظام کی بے حسی کو بے نقاب کر گیا۔ انہوں نے خاموشی سے یہ دکھا دیا کہ ادارے انسانوں کے لیے ہوتے ہیں، انسان اداروں کے لیے نہیں۔ اگر نظام حقیقی معنوں میں منصف اور جامع (inclusive) ہو، تو کسی ماں کو اس طرح کے غیر معمولی فیصلے کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ لیشیا رونزولی نہ صرف ایک مضبوط اور باوقار خاتون رہنما کے طور پر سامنے آئیں، بلکہ انہوں نے دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اگر ہم واقعی برابری، انسانی وقار اور جدید اقدار پر یقین رکھتے ہیں، تو ہمیں اپنے نظام کو بھی حقیقی زندگی کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ یہ واقعہ ایک فرد کی عظمت کے ساتھ ساتھ ایک نظام کی کمزوریوں کی خاموش مگر مؤثر گواہی ہے۔
دیگر مضامین:
مولانا سیدابوالحسن علی ندوی ؒ نے عرب و عجم کو متاثر کیا تھا
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
ایران اسرائیل جنگ کے بیچ شیعہ سنی اختلافات بھڑکانے کی کوششیں زوروں پر ؟
ایران اسرائیل جنگ کے بیچ شیعہ سنی اختلافات بھڑکانے کی کوششیں زوروں پر ؟ قسط :2