اخلاقِ حسنہ

موجودہ دور کے مسائل اور ان کا حل: اخلاقِ حسنہ کی روشنی میں

موجودہ دور میں مسلمانوں کو ہر چہار جانب سے مشق ستم بنایا جا رہا ہے کہیں پر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے تو کہیں پر نت نئے ذرائع سے مسلمانوں کو پریشان کیا جا رہا ہے اور مسلمان اس بات کو لے کر کشمکش میں مبتلا ہیں کہ ان تمام مصائب اور مشکلات سے کیسے چھٹکارا پایا جائے اور ان پریشانیوں کا مداویٰ کیا ہے

تعلیم سے دوری اور غربت ، مسلمانوں کی جہالت میں روز افزوں اضافہ کر رہی ہے اور جہالت کے سبب مسلمانوں کی زندگی سے امن و امان ختم ہوتا جا رہا ہے، دنیا ہماری دشمن بن رہی ہے اور ہم کو نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے
جبکہ دیکھا جائے تو اسلام نے ہمیں ہر چیز کی تعلیم دی ہے زندگی کا کوئی گوشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں چھوڑا جس میں تشنہ گی باقی ہو

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے تازہ خبر ملے

اگر اس دور میں ہمیں اپنی حالت بہتر کرنی ہے تو ہمیں صرف اور صرف ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کو اپنانا ہوگا اخلاق حسنہ سے ہی آپ دنیا والوں کا دل جیت سکتے ہیں اور اچھے اخلاق کو اختیار کر کے ہی ہم اپنی حالت اور شبیہ کو بہتر بنا سکتے ہیں اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے وزنی اعمال میں اخلاق حسنہ ہوں گے
جیسا کہ حدیث مبارکہ میں مذکور ہے
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَثْقَلَ شَيْءٍ يُوضَعُ فِي ميزانِ الْمُؤمن يومَ الْقِيَامَة خُلُقٌ حسنٌ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: حَدِيث حسن صَحِيح.

ابودرداء رضی اللہ عنہ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”روز قیامت مومن کی میزان میں حسن خلق سے زیادہ بھاری چیز کوئی نہیں رکھی جائے گی،

ذرا آپ غور فرمائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سال کی عمر میں نبوت کا دعویٰ کیا ،چالیس سال ایک بہت بڑی مدت ہوتی ہے بچپن سے لے کر جوانی تک آپ کی زندگی کو لوگوں نے قریب سے دیکھا تھا آپ کے قول و کردار کے لوگ چشم دید گواہ تھے مجال تھی کہ کوئی آپ کے اخلاق حسنہ پر انگلی اٹھاتا ، لے دے کر کسی نے آپ کو نعوذ باللہ پاگل کہا تو کسی نے جادوگر، کسی نے کاہن کہا تو کسی نے کچھ اور، مگر کسی نے آپ کے اخلاق حسنہ پر کوئی بھی حرف نکیر نہیں کی اپنے، غیر ، دشمن ، دوست سب کے سب بیک زبان کہتے

مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا

( انہوں نے کہا کہ ہمیں جھوٹ کا آپ سے تجربہ کبھی بھی نہیں ہے )

اسی لیے کہا جاتاہے

الفضل ما شهدت به الأعداء

: فضیلت وہ ہے جس کا اقرار دشمن بھی کریں” یا "اچھائی وہ ہے جس کی گواہی دشمن بھی دیں”

اسی لیے رب العالمین نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کی تعریف کی فرمایا

وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ [القلم : 3]
اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے

لہذا آپ دیکھ لیں با اخلاق انسان ہمیشہ لوگوں کے درمیان محبوب اور پسندیدہ ہوتا ہے اس کو سماج میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے یقین نہ ہو تو آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سیرت دیکھ لیں
آپ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی زندہ مثال تھے آپ رحیم و کریم اور مشفق وہ مہربان تھے ہر کس و ناکس کی مدد کرنا آپ کا طرۂ امتیاز تھا یہی وجہ ہے کہ آپ صرف اللہ کی خاطر اپنے محبوب وطن مکہ مکرمہ کو چھوڑ کر رخت سفر باندھنے لگے تو راستے میں ابن الدغنہ سے ملاقات ہوئی ابن الدغنہ نے اپ کو مکہ چھوڑ کر جانے سے روکا اور ابن الدغنہ نے آپ کے متعلق جو الفاظ کہے وہ تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں ابن الدغنہ نے کہا

فقال : أينَ تُريدُ يا أبا بكرٍ ؟ فقال أبو بكرٍ : أخرَجني قومي فأُريدُ أنْ أسيحَ في الأرضِ فأعبُدَ ربِّي فقال ابنُ الدَّغِنَةِ : إنَّ مِثْلَك يا أبا بكرٍ لا يخرُجُ ولا يُخرَجُ إنَّكَ تَكسِبُ المَعدومَ وتصِلُ الرَّحِمَ وتحمِلُ الكَلَّ وتَقري الضَّيفَ وتُعينُ على نوائبِ الحقِّ وأنا لك جارٌ فارجِعْ فاعبُدْ ربَّك ببلدِك فارتحَل ابنُ الدَّغِنَةِ فرجَع مع أبي بكرٍ فطاف ابنُ الدَّغِنَةِ في كفَّارِ قُرَيش ٍوقال : إنَّ أبا بكرٍ لا يُخرَجُ مِثْلُه وتُخرِجونَ رجُلًا يَكسِبُ المَعدومَ ويصِلُ الرَّحِمَ ويحمِلُ الكَلَّ ويَقري الضَّيفَ ويُعينُ على نوائبِ الحقِّ ؟ ! فأنفَذَتْ قُرَيشٌ جِوارَ ابنِ الدَّغِنَةِ وأمَّنوا أبا بكرٍ رضِي اللهُ عنه

( بخاری: حدیث نمبر 2297 )

پھر جب مسلمانوں کو بہت زیادہ تکلیف ہونے لگی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت حبشہ کا ارادہ کیا۔ جب آپ برک غماد پہنچے تو وہاں آپ کی ملاقات قارہ کے سردار مالک ابن الدغنہ سے ہوئی۔ اس نے پوچھا، ابوبکر! کہاں کا ارادہ ہے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا جواب یہ دیا کہ میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے۔ اور اب تو یہی ارادہ ہے کہ اللہ کی زمین میں سیر کروں اور اپنے رب کی عبادت کرتا رہوں۔ اس پر مالک بن الدغنہ نے کہا کہ آپ جیسا انسان (اپنے وطن سے) نہیں نکل سکتا اور نہ اسے نکالا جا سکتا ہے۔ کہ آپ تو محتاجوں کے لیے کماتے ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں۔ مجبوروں کا بوجھ اپنے سر لیتے ہیں۔ مہمان نوازی کرتے ہیں۔ اور حادثوں میں حق بات کی مدد کرتے ہیں۔ آپ کو میں امان دیتا ہوں۔ آپ چلئے اور اپنے ہی شہر میں اپنے رب کی عبادت کیجئے۔ چنانچہ ابن الدغنہ اپنے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لے کر آیا اور مکہ پہنچ کر کفار قریش کے تمام اشراف کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ ابوبکر جیسا نیک آدمی (اپنے وطن سے) نہیں نکل سکتا۔ اور نہ اسے نکالا جا سکتا ہے۔ کیا تم ایسے شخص کو بھی نکال دو گے جو محتاجوں کے لیے کماتا ہے اور جو صلہ رحمی کرتا ہے اور جو مجبوروں اور کمزوروں کا بوجھ اپنے سر پر لیتا ہے۔ اور جو مہمان نوازی کرتا ہے اور جو حادثوں میں حق بات کی مدد کرتا ہے۔ چنانچہ قریش نے ابن الدغنہ کی امان کو مان لیا۔ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امان دے دی

اخلاق حسنہ کیا ہے ؟
ہماری کم ظرفی دیکھیے کہ امت مسلمہ کے اکثر لوگوں کو یہی پتہ نہیں کہ اخلاق حسنہ کس چیز کا نام ہے لہذا عام اور سہل الفاظ میں اگر میں آپ کو بتاؤں تو

اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا اخلاق حسنہ ہے

اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جن باتوں کا حکم دیا ہے ان کو بجا لانا اخلاق حسنہ ہے

اپنے آپ کو گناہوں سے بچانا اخلاق حسنہ ہے

ماں باپ کی خدمت کرنا اخلاق حسنہ ہے

غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرنا اخلاق حسنہ ہے

مظلوموں کی مدد کرنا اخلاق حسنہ ہے
غریب اور بے سہارا لوگوں کے کام انا اخلاق حسنہ ہے

بیواؤں اور یتیموں کا خیال رکھنا اخلاق حسنہ ہے

اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نا پہنچانا اخلاق حسنہ ہے

ہر فرد بشر کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اخلاق حسنہ ہے

اپنے بھائی بہن اور خویش و اقارب کا احترام کرنا اخلاق حسنہ ہے

پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اخلاق حسنہ ہے

حتٰی کہ چوپائیوں اور بھائم کے ساتھ اچھا سلوک کرنا بھی اخلاق حسنہ ہے

یہ وہ مؤمنانہ صفات ہیں جن کو اختیار کرنے کا ہم کو رب العالمین اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جملے میں باخلاق انسان کا مقام و مرتبہ بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ”.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مومن اپنی خوش اخلاقی سے روزے دار اور رات کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4798]

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود ان تمام اوصاف حمیدہ کے پیکر تھے حدیث پاک مذکور ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا سے پہلی وحی لے کر واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت زار پریشان کن تھی اس وقت مائی خدیجہ رضی اللہ عنہا نے انہیں اوصاف حمیدہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ بالکل نہ گھبرائیں کیونکہ آپ تو ایک با اخلاق انسان ، اخلاق حسنہ کے پیکر ہیں آپ لوگوں کی مدد کرتے ہیں، بے سہارا لوگوں کی امداد کرتے ہیں ، غریبوں اور مسکینوں کا خیال رکھتے ہیں ، بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں ، ننگوں کو کپڑا پہناتے ہیں
چنانچہ آپ بھی حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمالیں

فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ، فَدَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَ: زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي، فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، فَقَالَ لِخَدِيجَةَ، وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ: لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي، فَقَالَتْ خَدِيجَةُ: كَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ،

آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام سے سن کر اس حال میں غار حرا سے واپس ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل اس انوکھے واقعہ سے کانپ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ کے ہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کمبل اڑھا دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈر جاتا رہا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو تفصیل کے ساتھ یہ واقعہ سنایا اور فرمانے لگے کہ مجھ کو اب اپنی جان کا خوف ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈھارس بندھائی اور کہا کہ آپ کا خیال صحیح نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! آپ کو اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ تو اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں، آپ تو کنبہ پرور ہیں، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، مفلسوں کے لیے آپ کماتے ہیں، مہمان نوازی میں آپ بےمثال ہیں اور مشکل وقت میں آپ امر حق کا ساتھ دیتے ہیں۔ ایسے اوصاف حسنہ والا انسان یوں بے وقت ذلت و خواری کی موت نہیں پا سکتا۔

[صحيح البخاري/كتاب بدء الوحى/حدیث: 3]

اسی لیے دوسری حدیث میں مذکور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الأَخْلاقِ‏.‏“

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے ہی مبعوث کیا گیا۔“
[الادب المفرد/كتاب/حدیث: 273]

اور تجربات سے یہ بات ثابت ہے کہ با اخلاق انسان دنیا کی کسی بھی گوشے میں چلا جائے امن و امان کی زندگی بسر کرتا ہے

لہذا ہم پر ضروری ہے کہ ہم سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کو اپنی زندگی میں نافذ کریں اور اسلام اور اسلامی تعلیمات کی ایک بہترین مثال پیش کریں

✒️ ڈی محمد خالد جامعی سلفی ندوی، ہری ہر، کرناٹک

خالد جامعی

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے