Dr Akram Nadwi

ایک داعیہ اور معلمہ کا اہم سوال انسان اور بشر سے متعلق ؟

سوال: ایک داعیہ اور معلمہ نے درج ذیل سوال کیا ہے:
السلام علیکم
قرآن مجید میں انسان کے لیے بشر کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔ انسان اور بشر کے معانی میں کیا فرق ہے۔ یہ دو الفاظ الگ الگ حقیقت کا پتا دے رہے ہیں یا مترادف ہیں۔
ان الفاظ کی تفصیلی وضاحت فرمائیے۔

جواب:
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
قرآنِ کریم عربی زبان کی اُس اعلیٰ سطح پر نازل ہوا ہے جہاں ہر لفظ اپنے اندر معنی، حکمت اور بلاغت کی کئی جہتیں سموئے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کتابِ ہدایت میں متعدد ایسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو بظاہر مترادف دکھائی دیتے ہیں، مگر اہلِ لغت، اہلِ تفسیر اور اہلِ بیان کے نزدیک ان کے درمیان باریک مگر نہایت معنی خیز فرق پایا جاتا ہے۔ عربی زبان میں اسم محض کسی ذات کا نام نہیں ہوتا، بلکہ وہ اکثر اس ذات کی کسی نمایاں صفت، حالت یا پہلو کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔ اسی اصول کے تحت قرآنِ مجید میں انسان کے لیے مختلف تعبیرات اختیار کی گئی ہیں، مثلاً انسان، بشر، ابنِ آدم وغیرہ۔ اگرچہ یہ الفاظ بعض مواقع پر ایک دوسرے کی جگہ استعمال کیے جا سکتے ہیں، تاہم ہر لفظ اپنے ساتھ ایک خاص مفہومی رنگ اور معنوی دلالت رکھتا ہے۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے تازہ خبر ملے
یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ قرآنِ کریم ایک ہی واقعہ یا قصے کو مختلف مقامات پر بیان کرتے ہوئے الفاظ میں تبدیلی اختیار کرتا ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد ہمیشہ محض معنوی فرق پیدا کرنا نہیں ہوتا، بلکہ بسا اوقات بلاغتِ کلام، حسنِ اسلوب، سیاق و سباق کی رعایت، یا مخاطب کے ذوق و فہم کو پیشِ نظر رکھ کر الفاظ منتخب کیے جاتے ہیں۔ چونکہ قرآن ایسی کتاب ہے جس کا پڑھنا اور سننا دونوں ہی لطف اور تاثیر کا باعث ہیں، اس لیے بعض مواقع پر ایک لفظ دوسرے کے مقابلے میں زیادہ موزوں، زیادہ فصیح اور زیادہ اثر انگیز ہوتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کئی مقامات پر الفاظ کے انتخاب کے پیچھے گہری معنوی حکمت کارفرما ہوتی ہے، اور انسان اور بشر کا فرق اسی حکمت کی ایک روشن مثال ہے۔
اہلِ لغت کی تحقیق کے مطابق لفظ بشر اور لفظ انسان دونوں بنی آدم کی صفات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، مگر مختلف اعتبارات سے۔ لفظ بشر عربی زبان میں انسان کی ظاہری، جسمانی اور مادی ہیئت پر دلالت کرتا ہے۔ اس کا مادہ "بَشَرَة” ہے، جس کے معنی جلد یا ظاہری سطح کے ہیں۔ چنانچہ بشر کا اطلاق انسان کی اُس جسمانی ساخت پر ہوتا ہے جو تمام بنی آدم میں مشترک ہے۔ جلد ایسی صفت ہے جو انسان سے کسی حال میں جدا نہیں ہوتی؛ انسان اپنے بعض اعضاء سے محروم ہو سکتا ہے، مگر وہ اپنی بشریت سے محروم نہیں ہو سکتا، نہ ہی اس کا بدل ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو ابو البشر کہا گیا، کیونکہ وہ انسانیت کی اس مشترک جسمانی حقیقت کے اولین مظہر ہیں۔ اس اعتبار سے بشر انسان کے حیاتیاتی، فزیولوجیکل اور مادی وجود کا نام ہے، یعنی انسان بطور ایک زندہ جسمانی مخلوق۔
اس کے برعکس لفظ انسان انسان کی ایک بالاتر، گہری اور جامع تر حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ اہلِ لغت کے نزدیک یہ لفظ "اُنس” سے ماخوذ ہے، جس کے معنی مانوس ہونے، قربت اختیار کرنے اور تعلق قائم کرنے کے ہیں۔ انسان وہ مخلوق ہے جو عقل، شعور اور نفسِ ناطقہ رکھتی ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے ماحول کو سمجھتا ہے، اس سے تعامل کرتا ہے اور اپنے جیسے دیگر افراد کے ساتھ تعلقات، رشتے اور معاشرتی روابط قائم کرتا ہے۔ یہی صفتِ اُنس انسان کو محض ایک جسمانی وجود سے بلند کر کے ایک سماجی، اخلاقی اور ذمہ دار ہستی بناتی ہے۔ تاہم یہ صفت تمام بنی آدم میں یکساں طور پر بالفعل موجود نہیں ہوتی؛ بعض افراد دوسروں کے لیے انس و راحت کا سبب بنتے ہیں، جبکہ بعض ایذا، فساد اور دشمنی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اسی بنا پر حضرت آدم علیہ السلام کو "ابو الانسان” نہیں کہا گیا، کیونکہ صفتِ اُنس ہر فرد میں یکساں طور پر متحقق نہیں۔
اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ بشر انسان کے مادی اور جسمانی وجود کی تعبیر ہے، جبکہ انسان اس کے شعوری، عقلی اور اخلاقی وجود کی ترجمانی کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، بشر انسان کی ظاہری تعریف ہے اور انسان اس کی باطنی و معنوی تعریف۔ چنانچہ یہ کہنا بجا ہے کہ ہر انسان بشر ہے، مگر ہر بشر انسان نہیں ہوتا جب تک وہ ادراک، شعور اور ذمہ داری کی صفات سے متصف نہ ہو۔
اسی نکتے کی روشنی میں قرآنِ مجید کے اسلوبِ خطاب پر غور کیا جائے تو یہ بات نمایاں ہو جاتی ہے کہ قرآن کا اصل مخاطب بشر نہیں بلکہ انسان ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ خطاب اسی ہستی سے کیا جا سکتا ہے جو سمجھنے، سوچنے، اختیار کرنے اور جواب دہ ہونے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ایمان اور کفر، اطاعت اور نافرمانی، شکر اور ناشکری، یہ سب امور شعور، ارادہ اور اخلاقی ذمہ داری سے تعلق رکھتے ہیں، اور یہی انسان کی اصل حیثیت ہے۔ لہٰذا قرآن انسان کو مخاطب بناتا ہے، کیونکہ وہی ہدایت قبول کرنے یا رد کرنے والا ہے، وہی اعمال کا مکلف ہے، اور وہی روزِ قیامت اپنے افعال کا جواب دہ ہوگا۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ قرآنِ مجید میں انسان اور بشر محض مترادف الفاظ نہیں بلکہ ایک ہی مخلوق کی دو مختلف جہات کی نشان دہی کرتے ہیں۔ بشر انسان کی جسمانی اور مادی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ انسان اس کی عقلی، نفسیاتی اور اخلاقی حقیقت کو نمایاں کرتا ہے۔ قرآن کا یہ نہایت دقیق اور بلیغ اسلوب انسان کو اس کی اصل حقیقت سے آگاہ کرتا ہے، ایک ایسی مخلوق جو مٹی سے پیدا کی گئی، مگر شعور، امانت اور ذمہ داری کے منصب پر فائز کی گئی، اور جس کی اصل قدر و منزلت اس کی بشریت میں نہیں بلکہ اس کے انسان ہونے میں مضمر ہے۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے