مناظرہ

ندوۃ العلماء اور مناظرے کی روایت سے احتراز — علمی، تاریخی اور فکری بنیادوں کی وضاحت

سوال: ایک عالم نے استفسار كيا:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
بعد از تقدیمِ ادب و احترام، گزارش ہے کہ اہلِ علم کے حلقوں میں یہ سوال بارہا زیرِ بحث آتا رہا ہے کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء نے اپنے تعلیمی و فکری منہاج میں مناظروں کی روایت کو کیوں پسند نہیں کیا، یا اس سے کس وجہ سے احتراز برتا ہے؟
خدمتِ عالیہ میں مؤدبانہ استفسار ہے کہ ندوہ کے اس نقطۂ نظر کی علمی، تاریخی اور فکری بنیادیں کیا ہیں؟ کیا یہ موقف اس کے مخصوص مقاصدِ تعلیم، حکمتِ دعوت، یا اعتدالِ فکر سے متعلق ہے؟
التماس ہے کہ اس پورے مسئلے پر تفصیل اور وضاحت کے ساتھ روشنی فرمائیں، تاکہ اہلِ علم و طلبہ کے لیے یہ پہلو پوری طرح منکشف ہو سکے ۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

جواب:
الحمدُ للّٰہ ربِّ العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وآلہ وصحبہ أجمعین۔ أمّا بعد:
آپ کا استفسار بڑی اہمیت رکھتا ہے، خصوصاً اس دور میں جب مناظرہ بازی کو دینی حمیت اور علمی غیرت کا لباس پہنا کر اسے عوامی سرگرمی بنا دیا گیا ہے۔ میں اس موضوع پر تفصیلی اور مستقل تحریر لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں، کیونکہ بعض حضرات قرآنِ کریم کی آیتِ کریمہ "وَجَادِلْهُم بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ” سے مناظرہ کے جواز پر دلیل قائم کرتے ہیں، حالانکہ یہ آیت دعوت کے باب میں نرمی، حکمت، صبر، اعراض اور حسنِ اخلاق کے ساتھ گفتگو کی تعلیم دیتی ہے۔ اس سے چیخ و پکار، منفی مقابلہ آرائی، اور تحقیر و تمسخر پر مبنی مناظرہ بازی کا کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح بعض لوگ حضرتِ ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے درمیان گفتگو کو بھی مناظرہ قرار دیتے ہیں؛ جب کہ وہ درحقیقت ایک نبی کی طرف سے اتمامِ حجّت تھا، نہ کہ تماشا بین مجمع میں لفظی جنگ کا منظر۔ ان نکات پر ان شاء اللہ آئندہ مزید توضیح پیش کی جائے گی۔
جہاں تک دارالعلوم ندوۃ العلماء کے موقف کا تعلق ہے، تو اس کی اصل روح اور بنیادی مزاج اصلاحِ بین المسلمین پر قائم تھا۔ ندوہ کی پوری تحریک اسی حکمت پر استوار تھی کہ مسلمان اپنی توانائیاں فرقہ وارانہ جھگڑوں، گروہی کشمکش اور فروعی اختلافات میں ضائع کرنے کے بجائے اپنی علمی، اخلاقی اور معاشرتی تعمیر کی طرف متوجہ ہوں۔ ندوہ کا مقصد یہ تھا کہ امت انتشار سے نکل کر وحدت، وقار اور ترقی کی راہ اختیار کرے۔ ظاہر ہے کہ ایسا مقصد رکھنے والا ادارہ اُن تمام طریقوں سے فطری طور پر گریز کرے گا جن سے مزید انتشار، جذباتی تصادم اور فکری بے سمتی پیدا ہوتی ہو۔
مناظرہ بازی کی حقیقت یہ ہے کہ اس کا محرک حق کی دریافت نہیں ہوتا، بلکہ غلبۂ نفس، شہرت، اور گروہی سرخروئی کا جذبہ اس کے پیچھے کارفرما ہوتا ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ مناظرہ ختم ہوتے ہی ہر فریق اپنی فتح کا اعلان کرتا ہے، اپنے گروہ کے آگے نعرے لگتے ہیں، اور دونوں جانب جشن برپا ہوتا ہے۔ اگر مناظرہ حق کے اظہار کا ذریعہ ہوتا تو حق صرف ایک طرف ظاہر ہوتا، دونوں نہیں؛ لیکن مناظروں کا نتیجہ ہمیشہ دوہری ’’فتح‘‘ کی صورت میں سامنے آتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مقصود حق نہیں بلکہ ہیجان اور گروہی ساکھ ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ مناظروں میں قرآن و حدیث کے معانی کی تحریف، غیر علمی تاویلات، بے اصول استدلال، اور مخالف پر کھلم کھلا طنز و تشنیع عام ہو جاتی ہے۔ یہ اسلوب نہ علم کا ہے نہ دیانت کا۔ اس کے نتیجے میں عوام کے دلوں سے دین کی وقعت کم ہونے لگتی ہے، کیونکہ دین کی باتیں جب شور و غوغا، چیخ و پکار، اور جذباتی نعروں کے ساتھ مل جائیں تو ان کا تقدس مجروح ہو جاتا ہے۔ دین تماشا بن کر رہ جاتا ہے، اور دیکھنے والے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ مذہب بھی تفریحِ طبع کا ایک سامان ہے۔
ایک اور سنگین پہلو یہ ہے کہ مناظرے میں شبہات تو پوری قوت کے ساتھ سامنے آ جاتے ہیں، مگر ان کے جوابات علمی، دقیق اور باریک ہوتے ہیں، جو عوام کی سمجھ میں کم ہی آتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شبہات ذہنوں میں جگہ پکڑ لیتے ہیں، اور ان کا ازالہ اُن کے فہم سے باہر رہ جاتا ہے۔ یوں مناظرے حق پھیلانے کے بجائے شبہات عام کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں، اور ذہنی انتشار میں اضافہ ہوتا ہے۔
دعوتِ دین کا صحیح طریقہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ غیر مسلمین سمیت سب کے ساتھ نرمی، حلم اور حسنِ اخلاق کے ساتھ گفتگو کی جائے۔ ان کے دلوں تک پہنچنے کا راستہ سخت کلامی اور مقابلہ آرائی سے نہیں بلکہ حکمت، شفقت اور مکارمِ اخلاق سے ہے۔ اس لیے غیر مسلمین کے ساتھ بھی مناظرے کے بجائے دعوتِ حکیمانہ ہی مطلوب ہے۔
یہ دعویٰ بھی بعض لوگ کرتے ہیں کہ ’’سنجیدہ مناظرہ‘‘ ممکن ہے؛ مگر جو حضرات سنجیدگی کے مدعی ہیں، ان کے مناظروں اور تحریروں کا مطالعہ بھی کر لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی مخالف کی تحقیر، الزام تراشی، اور جذباتی لب و لہجہ نمایاں ہوتا ہے۔ اگر سنجیدہ مناظرہ بھی یہی صورت رکھتا ہے تو پھر سطحی مناظرے سے کیا فرق باقی رہ جاتا ہے؟
خلاصۂ کلام یہ کہ مناظرہ آج کے دور میں دین کے نام پر ایک تماشا بن چکا ہے، جس میں بڑے کبیرہ گناہوں، باہمی اہانت، تکبر، غیبت، تہمت اور تحقیر کی ترغیب پائی جاتی ہے۔ یہ نہ اسلامی طرزِ عمل ہے، نہ شریفانہ گفتگو کا طریقہ، نہ اصلاح کا ذریعہ، نہ علم کا منہج۔ یہ زیادہ سے زیادہ مسلکی جوش، نفسیاتی غلبے اور عوامی ہیجان کا کھیل ہے، جو امت کے لیے نفع سے زیادہ نقصان کا باعث ہے۔
امتِ مسلمہ کی موجودہ ضرورت یہ ہے کہ وہ علم و عمل، اخلاق و تربیت، تحقیق و تدبر، اور تعمیری و اصلاحی سرگرمیوں کی طرف متوجہ ہو، نہ کہ شور و شرابے، جذباتی جھگڑوں اور مناظرانہ تمسخر کے میدانوں کی طرف۔ دین کے اصل ثمرات علمی گہرائی، روحانی بالیدگی اور اخلاقی پاکیزگی میں پوشیدہ ہیں، نہ کہ لفظی کشتیوں اور چیخ پکار میں۔
واللّٰہ وَلِیُّ التوفیق، وعلیہ الاعتماد والتکلان۔

Dr Akram Nadwi

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے