مناظرے

مناظرے کی قباحت اور خدا کے وجود پر فلسفیانہ بحث — وضاحت اور پس منظر

کل "ندوۃُ العلم والأدب” كى بزم میں مناظرے کی قباحت کے تناظر میں مَیں نے عرض کیا تھا: "دنیا میں کوئی انسان نہیں جو یہ ثابت کر سکے کہ خدا موجود ہے، اور نہ کوئی یہ ثابت کر سکتا ہے کہ خدا موجود نہیں ہے، اگر ایسا ممکن ہوتا تو سارے فلاسفہ خدا کے وجود کے قائل ہوتے، جبکہ خدا کے وجود میں سب سے زیادہ شک فلاسفہ ہی کو ہے، اس موضوع پر مناظرہ سے ہمیشہ منکرین خدا کو فائدہ ہوتا ہے، اور شک وانکار کی بیماری مزید بڑھتی ہے”۔
بعض صاحبانِ علم نے اس تحریر کی مزید توضیح کی درخواست کی، چنانچہ انہی کی خواہش کے احترام میں درج ذیل سطور سپردِ قرطاس کر رہا ہوں۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

دنیا کے آفاقِ فکر پر تا امروز کوئی ایسی شخصيت نمودار نہیں ہوئی جس نے عقلِ محض کے بل پر یہ آہنی مقدمہ قائم کیا ہو کہ وجودِ باری تعالیٰ تجرباتی یقینیات کی مانند ثابت شدہ حقیقت ہے، اسی طرح کوئی ایسی ذہانت بھی سامنے نہیں آئی جس نے دلائلِ حتمیہ کی روشنی میں یہ آخری حکم صادر کر دیا ہو کہ عالمِ ہستی کا خالق و صانع سرے سے موجود ہی نہیں۔ اگر یہ مسئلہ فی نفسہٖ ایسی نوعیت رکھتا کہ انسانی عقل اسے طبیعیات کے مسلّمات یا ریاضیات کے بدیہیات کی طرح طے کر سکتی تو فلسفہ و حکمت کی پوری دنیا ایک ہی سمت میں مجتمع ہو جاتی، اور تمام حکماء، فلاسفہ اور متکلمین یا تو اثبات کے جاہ و جلال سے معمور ہوتے یا پھر نفی کے پرچم بردار۔
لیکن فلسفہ کی پوری تاریخ ایک گواہِ عدل کی طرح یہ اعلان کرتی دکھائی دیتی ہے کہ وجودِ خدا کا سوال عقلِ انسانی کے لیے وہ سربستہ راز ہے جسے نہ صدیوں کی جہدِ پیہم نے حل کیا، نہ ہزاروں اذہان کی ریاضت اسے سلجھا سکی۔ فلسفی جب اس مسئلے کو ہاتھ لگاتا ہے تو محسوسات و مشاہدات کی روشن وادیوں سے نکل کر ایک ایسی سرمدی دنیا میں قدم رکھتا ہے جہاں عقل کی روشنی دھندلانے لگتی ہے، اور مجردات کا پیچ در پیچ سلسلہ اسے اپنے ہی دائرے میں محصور کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلاسفہ کی صفوں میں سب سے زیادہ اضطراب، حیرت اور تشکیک اسی مسئلے کے گرد گردش کرتی ہے۔ ان کے نزدیک یہ سوال نہ صرف دشوار بلکہ ایسی وسعتوں کا حامل ہے جس کے آگے عقل کا دامن تنگ پڑ جاتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ وجودِ خدا کی راہ عقلِ محض کی سیدھی شاہراہ نہیں، بلکہ ایک ایسا سفر ہے جس میں عقل ہمراہ تو ضرور ہوتی ہے مگر رہبرِ اوّل فطرت، وجدان، بصیرت اور تجربۂ باطن ہوتے ہیں۔ عقل کا میدان کُلّیات ہے، جزئیاتِ حقیقی نہیں۔ عقل ذہن میں کلی مفہوم تو قائم کر سکتی ہے، مگر عالمِ خارج میں کسی مخصوص، متعین اور حقیقی فرد کا اثبات اس کے بس میں نہیں۔ مثال کے طور پر یہ کلیہ کہ "ہر تعمیر کا کوئی بانی ہوتا ہے” ایک کلی مفہوم ہے، جس پر ان گنت اعتراضات قائم کیے جا سکتے ہیں۔ بالفرض اسے صحیح بھی مان لیا جائے تو بھی یہ ایک ذہنی تصور ہے۔ اس کلیے کو تاج محل جیسی عمارت پر منطبق کرنا صرف عقلی انطباق ہے، نہ کہ جزئی حقیقت کا براہِ راست اثبات۔ تاج محل کا بانی شاہجہان تھا، یہ عقل نہیں، تاریخی شواہد اور انسانی نقل و روایت بتاتے ہیں۔
اسی تناظر میں، عقل اپنی ہزار کوششوں سے اس نتیجے تک تو پہنچ سکتی ہے کہ اس عالمِ رنگ و بو کا کوئی نہ کوئی خالق ضرور ہے؛ مگر عقل یہ طے کرنے سے عاجز رہتی ہے کہ وہ خالق ایک ہے یا متعدد، یا یہ کہ وہی ذات ہے جس پر مسلمان ایمان رکھتے ہیں۔ کسی معین، صاحب صفات اور حقیقی ذات کا اثبات عقل کے حدود میں ممکن نہیں؛ اس کے دروازے دوسری راہوں فطرت کی پکار، قلب کی گواہی، وجدان کے نغمے اور ایمانی ذوق کی روشنی سے کھلتے ہیں۔ اس کی تفصیل میں اپنے دیگر مضامین میں بیان کر چکا ہوں۔
لیکن مناظروں کے ہنگامے میں عقل کو تنہا کھڑا کر دیا جاتا ہے، اور فطرت و وجدان کی تمام باطنی شہادتیں عمداً پسِ پشت ڈال دی جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں منکرینِ خدا محض جدلی موشگافیوں، لسانی بازی گری اور ظاہری استدلال کی چمک سے فائدہ اٹھاتے ہیں؛ اور یوں تشکیک کی آگ بجھنے کے بجائے اور زیادہ بھڑک اٹھتی ہے۔
مناظرہ اپنے جوہر میں کشمکشِ افکار اور تصادمِ آراء کا میدان ہے، یہاں جستجوئے حقیقت کی جگہ غلبۂ کلام، فتحِ بیان، اور سخن سازی کا دبدبہ غالب رہتا ہے۔ دلیل کی اصل قدر کم اور اس کی نمود و نمائش زیادہ اہمیت اختیار کر لیتی ہے۔ چنانچہ دلوں میں پہلے سے موجود شبہات مزید گہرے ہو جاتے ہیں، اور یقین کی روشنی بجھتی چلی جاتی ہے۔ یوں طالبِ حقیقت معرفت کی سمت بڑھنے کے بجائے تشکیک کے گرداب میں اور زیادہ دھنس جاتا ہے۔
اسی لیے اہلِ بصیرت ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ وجودِ حق کی معرفت عقل کی نوکِ قلم سے نہیں بلکہ قلب کے نور اور فطرت کے مشاہدے سے حاصل ہوتی ہے۔ عقل دہلیز تک تو ضرور پہنچاتی ہے، مگر اس دہلیز سے آگے کا راستہ قدمِ یقین اور نگاہِ ایمان ہی طے کرتے ہیں، جو لوگ محض عقل کے چراغ سے لامحدود حقیقت کو پا لینے کے آرزومند ہوتے ہیں وہ اکثر حیرت کے اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں۔
پس یہ کہنا بجا ہے کہ اس مسئلے پر مناظرانہ بحث ہمیشہ انکار کے شعلوں کو ہوا دیتی ہے، اور ایمان کی دنیا میں اضطراب پیدا کرتی ہے۔ حقیقت تک رسائی کے لیے جس لطیف باطن، جس سکوتِ دل اور جس اندرونی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے وہ مناظروں کے ہنگامے، جدل اور کشاکش میں میسر نہیں آ سکتی۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں عقل کی سرحدیں ختم ہو جاتی ہیں اور معرفتِ الٰہی کی وادیِ جلال و جمال آغاز پذیر ہوتی ہے۔

Dr Akram Nadwi

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے