ہندوستانی مسلمان
|

نمازِ جمعہ کی فضیلت: قرآن و حدیث کی روشنی میں جمعہ کا مقام، اہمیت اور برکتیں

نمازِ جمعہ کی فضیلت: احادیث میں یہ بات مذکور ہے کہ دنوں میں سب سے افضل دن اگر کوئی ہے تو وہ جمعہ کا دن ہے کیونکہ یہی وہ مبارک دن ہے جس میں حضرت آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے اور یہی وہ دن ہے جس میں آپ علیہ السلام کو جنت میں داخل کیا گیا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

عن أَبَي هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ , فِيهِ خُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام , وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ , وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا”.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اور اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا“
[سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1374]

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

وضاحت: ۱؎: اس سے جمعہ کے دن کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے کیونکہ اس میں بڑے بڑے امور سر انجام پائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

نماز جمعہ کی اہمیت اور فضیلت کسی سے مخفی نہیں ہے
خود رب العالمین نے فرمایا

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹﴾فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانۡتَشِرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ ابۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۰﴾

اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو[9]پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پالو
[سورة الجمعة 10]

جاہ و منصب اور دولت حاصل کرنے کے اس مادی دور میں لوگ اس قدر منہمک ہو گئے ہیں کہ اپنے دین دھرم کو اکثر فراموش کرتے جا رہے ہیں لیکن رب العالمین کا شکر و احسان ہے کہ اس نے مسلمانوں کو ایک دینی ماحول مہیا کرتے ہوئے ، اتحاد و اتفاق کو قائم رکھنے کے لیے نماز جمعہ کو فرض قرار دیا ،
یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں ابھی بھی دینی غیرت و اہمیت باقی ہے اور مسلمان اپنے دین و دھرم سے جڑے ہوئے ہیں یہ چیز دشمنان اسلام کو کبھی رشک میں ڈالتی ہے تو کبھی بغض و عناد میں مبتلا کر دیتی ہے

لہذا کسی بھی مسلمان کو جس کے اندر رائی دانے برابر ایمان ہو اس کو چاہیے کہ وہ نماز جمعہ سے ہرگز روگردانی نہ کرے،

کیونکہ یہی وہ دن ہے جس میں خطبہ جمعہ سے ایمان میں تازگی پیدا ہوتی ہے ،امت مسلمہ میں اتحاد قائم ہوتا ہے بندے کو بخشش و مغفرت کی سوغات ملتی ہے حتی کہ روشن مستقبل کے لیے آدمی کی دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں

لہذا امت مسلمہ کے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ نماز جمعہ کی اہمیت اور اس کے فضائل کو معلوم کرے، اس دن کی سنتوں کو اپنائے اور رب العالمین کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرے

نماز جمعہ کی فضیلت

نماز جمعہ پڑھنے کی فضیلت کے لیے اتنی ہی بات کافی ہے کہ کوئی شخص نماز جمعہ کی پابندی کرتا ہے تو اگلے جمعہ تک اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے

الصلوات الخمس و الجمعة إلى الجمعة و رمضان الى رمضان مكفرات ما بينهن إذا إجتنب الكبائر ،
(مسلم ، 233)

جمعہ کے دن دعا قبول ہونے کی گھڑی (ساعت)

نماز جمعہ کی ان تمام فضائل اور برکتوں کے ساتھ ساتھ رب العالمین نے جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ( ساعت )مقرر کی ہے کہ بندہ اس میں جو بھی دعا کرے گا وہ مقبول ہوگی جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَسَأَلَ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ”،

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے جو مسلمان بھی اس وقت کھڑا نماز پڑھے اور اللہ سے کوئی خیر مانگے تو اللہ اسے ضرور دے گا۔
[صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5294]

البتہ وہ ساعت کونسی ہے اس سلسلے میں دو راجح قول ہیں

١ بعض کے نزدیک وہ ساعت امام کے منبر پر بیٹھنے سے لیکر نماز جمعہ کے اختتام تک ہے
جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث ہے

عن عبدالله بن عمر رضى الله عنه يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول هي مابين أن يجلس إلامام الي تقضي الصلاة ،

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے سے لیکر نماز جمعہ کی اختتام تک ہے
( مسلم : 853 )

٢ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ ساعت عصر کے بعد کی ہے

حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
فالتمسوها آخر ساعة بعد العصر ،
اس گھڑی کو عصر کے بعد تلاش کرو،
( نسائي : 1389)

اور دوسری حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کو مؤمنین کے لیے عید کا دن قرار دیا ہے

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” إِنَّ هَذَا يَوْمُ عِيدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ، فَمَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ، وَإِنْ كَانَ طِيبٌ فَلْيَمَسَّ مِنْهُ، وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ”.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عید کا دن ہے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اسے عید کا دن قرار دیا ہے، لہٰذا جو کوئی جمعہ کے لیے آئے تو غسل کر کے آئے، اور اگر خوشبو میسر ہو تو لگا لے، اور تم لوگ اپنے اوپر مسواک کو لازم کر لو“

[سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1098]

وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ غسل نماز جمعہ کے لئے مسنون ہے نہ کہ جمعہ کے دن کے لئے، اور بعضوں نے کہا: جمعہ کے دن کے لئے مسنون ہے، پس جس پر جمعہ فرض نہ ہو، جیسے عورت، مریض، مسافر یا نابالغ اور وہ جمعہ کی نماز کے لئے آنے کا ارادہ بھی نہ رکھتا ہو تو اس کو بھی غسل کرنا مستحب ہو گا، اور پہلے قول کے لحاظ سے جن پر جمعہ فرض نہیں ہے ان پر غسل نہیں ہے۔

جمعہ کے دن قرآن پاک کی تلاوت کا حکم

یوں تو جمعہ کا دن مبارک اور برکتوں والا دن ہے مگر مزید اس شخص کے کیا کہنے جو اس مبارک دن میں قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے خاص کر سورۃ الکہف کی تلاوت کرنے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید کی ہے اس کا اجر و ثواب یہ بتلایا کہ جو شخص جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت کرے یا کم از کم ایک رکوع کی تلاوت کرے تو وہ دجال کے فتنوں سے محفوظ ہوگا

من حفظ عشر آيات من اول سورة الكهف عصم من الدجال ،

جو شخص سورہ کہف کی دس آیات بھی یاد کرلے تو وہ دجال کے فتنوں سے محفوظ ہوگا

( مسلم ، حدیث 809 )

جمعہ کے دن کثرت سے درود پڑھنے کی فضیلت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کثرت سے درود پڑھنے کا حکم دیا ہے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں مذکور ہے

عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ قُبِضَ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ” قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ؟ يَقُولُونَ: بَلِيتَ، فَقَالَ:” إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ”.

اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے سب سے بہتر دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا اسی دن چیخ ہو گی ۱؎ اس لیے تم لوگ اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے“۔ اوس بن اوس کہتے ہیں: لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جب کہ آپ (مر کر) بوسیدہ ہو چکے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے زمین پر پیغمبروں کے بدن کو حرام کر دیا ہے“۔

[سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1047]

وضاحت: ۱؎: جس کی ہولناکی سے سارے لوگ مر جائیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

اور درود پڑھنے اہمیت اور فضیلت کا اندازہ آپ اس حدیث سے لگا سکتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

جو شخص مجھ پر کثرت سے درود پڑھنے کا تو اللہ تعالیٰ اس کے سارے غم کو ختم کردیں گے

جیسا کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں مذکور ہے

عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ قَامَ , فَقَالَ: ” يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا اللَّهَ، اذْكُرُوا اللَّهَ جَاءَتِ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ "، قَالَ أُبَيٌّ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلَاتِي؟ فَقَالَ: ” مَا شِئْتَ "، قَالَ: قُلْتُ: الرُّبُعَ؟ قَالَ: ” مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ” , قُلْتُ: النِّصْفَ؟ قَالَ: ” مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ” , قَالَ: قُلْتُ: فَالثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ: ” مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ” , قُلْتُ: أَجْعَلُ لَكَ صَلَاتِي كُلَّهَا , قَالَ: ” إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ وَيُغْفَرُ لَكَ ذَنْبُكَ ” , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب دو تہائی رات گزر جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے اور فرماتے: لوگو! اللہ کو یاد کرو، اللہ کو یاد کرو، کھڑکھڑانے والی آ گئی ہے اور اس کے ساتھ ایک دوسری آ لگی ہے، موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے۔ موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ پر بہت صلاۃ (درود) پڑھا کرتا ہوں سو اپنے وظیفے میں آپ پر درود پڑھنے کے لیے کتنا وقت مقرر کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو“، میں نے عرض کیا چوتھائی؟ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے“، میں نے عرض کیا: آدھا؟ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا دو تہائی؟“ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا: وظیفے میں پوری رات آپ پر درود پڑھا کروں؟۔ آپ نے فرمایا: ”اب یہ درود تمہارے سب غموں کے لیے کافی ہو گا اور اس سے تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے

نماز جمعہ کے لیے مستحب اعمال

نماز جمعہ کو اللہ تعالی نے مؤمنین کے لیے عید کا دن قرار دیا ہے لہذا جو شخص نماز جمعہ کا قصد کرے اس کے لیے مسنون ہے کہ وہ غسل کرے اچھا عمدہ لباس زیب تن کرے اچھی خوشبو لگائے اور وقت مقررہ سے پہلے مسجد جا کر سنن و نوافل و تلاوت قران میں مشغول رہے
جیسا کہ حدیث رسول میں مذکور ہے

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” إِنَّ هَذَا يَوْمُ عِيدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ، فَمَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ، وَإِنْ كَانَ طِيبٌ فَلْيَمَسَّ مِنْهُ، وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ”.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عید کا دن ہے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اسے عید کا دن قرار دیا ہے، لہٰذا جو کوئی جمعہ کے لیے آئے تو غسل کر کے آئے، اور اگر خوشبو میسر ہو تو لگا لے، اور تم لوگ اپنے اوپر مسواک کو لازم کر لو“

[سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1098]

اور دوسری حدیث میں مذکور ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:”مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَزِيَادَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا”.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر جمعہ کے لیے آئے اور غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ ۱؎ بخش دئیے جائیں گے اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو حرکت کی“۔

[سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1050]

وضاحت: ۱؎: مراد گناہ صغیرہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
:صحيح مسلم (758)

نماز جمعہ کے لیے جلدی کرنا
نماز جمعہ کے لیے جلدی جانا باعثِ اجر وثواب ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:” مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ”.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کر کے نماز پڑھنے جائے تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی دی (اگر اول وقت مسجد میں پہنچا) اور اگر بعد میں گیا تو گویا ایک گائے کی قربانی دی اور جو تیسرے نمبر پر گیا تو گویا اس نے ایک سینگ والے مینڈھے کی قربانی دی۔ اور جو کوئی چوتھے نمبر پر گیا تو اس نے گویا ایک مرغی کی قربانی دی اور جو کوئی پانچویں نمبر پر گیا اس نے گویا انڈا اللہ کی راہ میں دیا۔ لیکن جب امام خطبہ کے لیے باہر آ جاتا ہے تو فرشتے خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 881]


آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ رب العالمین ہم تمام مسلمانوں کو نماز جمعہ کی اہمیت اور فضیلت کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین

✒️ ڈی محمد خالد جامعی سلفی ندوی
ہری ہر ، کرناٹک ،

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے