maulana wahiduddin

میری زندگی کی سب سے بڑی دریافت ؟

ایک سوال مولانا وحید الدین خان کے بارے میں موصول ہوا ، سوال مناسب تھا ، اس لئے جواب دیا اور جواب لکھنا مجھے اچھا لگا ۔

خان صاحب سے میرے اختلافات بھی ہیں ، لیکن میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے اور اتنا سیکھا کہ بعض اوقات مجھے وہ اختلافات سے بڑھ کر لگتا ہے ، اس لئے میں اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اختلاف رائے میں اعتدال لانے کی کوشش کر رہا ہوں ، اور اس وقت جو مضمون آپ پڑھنے جا رہے ہیں ، اس سے پہلے اس طرح کا مضمون آپ نے کبھی نہیں پڑھا ہوگا ۔ امید کہ آپ کو ضرور پسند آئے گی۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے تازہ خبر ملے

ایک نوجوان کی طرف سے ایک سوال ان الفاظ میں موصول ہوا ہے ۔

” آپ نے اپنے کئی مضامین میں لکھا ہے کہ آپ نے مولانا وحید الدین خان کے مشن کے ساتھ بیس بائیس تک کام کیا ، تو کیا آپ ان کی کوئی خاص بتا سکتے ہیں کہ جس نے آپ کو ان سے بہت زیادہ متاثر کیا تھا ؟ "

اکرام الحق / نئی دہلی

جس زمانے میں میں مولانا وحید الدین خان کے الرسالہ مشن کے ساتھ جڑا ہوا تھا ، اس وقت بہت سے مشکلات سے گھرا ہوا تھا ، تو مجھے ان کی چند کتابوں کا مطالعہ آب حیات کی مانند لگا ۔ جیسے ” راز حیات ” اور ” راہیں بند نہیں” دو قابل ذکر کتابیں ہیں ، اور پھر الرسالہ کے علاوہ ان کی دوسری تصانیف کا بھی وقت کے ساتھ مطالعہ آگے بڑھتا گیا ۔ لیکن دین کے اعتبار سے جو چیزیں مجھے بہت زیادہ اپیل کرتی تھیں ، ان میں ایک دعوت الی اللہ کے مضامین ، دوسری ان کا سائنٹفک اسلوب اور تیسری ان کی سادہ زندگی ، کیونکہ میں نے ان کو جب بھی دیکھا سادہ کپڑوں میں دیکھا ، اور ایک بار پٹھے پرانے کوٹ میں مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا ۔ جس کے بٹن بھی ٹوٹ چکے تھے ، اور مسجد سے ان کے گھر تک میں ان سے باتیں کرتے کرتے ان کے کپڑوں کو بھی دیکھ رہا تھا ۔

لیکن یہ غالباً 1996ءکی بات ہے کہ انہوں نے ایک ملاقات کے دوران سوال کے جواب میں بتایا کہ میری زندگی کی سب سے بڑی دریافت اپنے عجز کو دریافت کرنا ہے ۔ اگرچہ اس وقت مجھے اس عجز کا کچھ خاص تصور نہیں تھا ، اور نہ انہوں نے اس کی وضاحت کی تھی کہ عجز سے کیا مراد ہوسکتا ہے ۔ بظاہر عجز کے لغوی معنی کمزوری ، ناتوانی اور کسی کام کے کرنے سے قاصر ہونا ہے ۔

لیکن اس کے بعد مطالعہ و تحقیق میں ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد مجھے خان صاحب کے اس عجز کے دریافت کرنے کے حوالے سے تجربہ ہوا اور اس کی حقیقت جاننے کے قریب ہوا ۔ دراصل اس عجز سے مراد محض کمزوری، لاچاری ، ناتوانی یا بے بسی نہیں ہے ، بلکہ یہ ایک گہرا علمی، ایمانی اور روحانی ادراک ہے۔ یعنی انسان اس مقام پر پہنچ جائے جہاں وہ دل و دماغ سے اس حقیقت کا اعتراف کر لے ۔

انسان اپنے علم میں محدود ہے،

اپنی عقل میں ناقص ہے،

اپنی قوت میں محتاج ہے۔

چونکہ جب ایک عالم عمر بھر علم، مطالعہ، تدریس اور غور و فکر کے مراحل طے کرنے کے بعد یہ کہتا ہے کہ میں نے عجز کو دریافت کر لیا، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسے یہ حقیقت منکشف ہو گئی کہ جتنا علم بڑھتا ہے، اتنا ہی اپنی لاعلمی کا احساس گہرا ہوتا جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تکبر ٹوٹ جاتا ہے اور انسان خود کو حق کا معیار سمجھنے کے بجائے، خود کو حق کا محتاج سمجھنے لگتا ہے۔

عجز کی یہ دریافت دراصل علم کا کمال ہے، اس کی نفی نہیں۔ ابتدائی مراحل میں آدمی کچھ باتیں جان کر خود کو صاحبِ علم سمجھنے لگتا ہے، مگر جب علم پختہ ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت کا دائرہ عقل سے کہیں وسیع ہے، اور بہت سے امور ایسے ہیں جن کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے اہلِ علم زیادہ محتاط، نرم گفتار، کم دعویٰ کرنے والے اور زیادہ “واللہ اعلم” کہنے والے ہوتے ہیں۔ اور ان کا عملی و فکری احساس ان آیات کی عملی تفسیر میں ڈھلا ہوا ہوتا ہے ۔

وَفَوْقَ كُلِّ ذِىْ عِلْمٍ عَلِيْـمٌ ۔

( یوسف : 76)

اور علم والے سے اوپر ایک علم والا ہوتا ہے ۔

اِنَّمَا يَخْشَى اللّـٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَآءُ ۗ”

( فاطر 28)

بلاشبہ اللہ سے اس کے بندوں میں صرف علم والے ہی ڈرتے ہیں ۔

یہ عجز انسان کو تین بڑی آفات سے بچاتا ہے:

خود پسندی سے،

علمی غرور سے،

اور دوسروں کو حقیر سمجھنے سے۔

اور اسی عجز سے تین بڑی نعمتیں جنم لیتی ہیں:

اخلاص،

تواضع،

اور حق کے سامنے جھک جانے کی صلاحیت۔

دراصل یہی وہ مقام ہے جہاں پر ایک دیدہ ور بندہ خود کو نہیں، بلکہ اللہ کے علم، حکمت اور فیصلے کو اصل مان لیتا ہے۔ یہی وہ عجز ہے جو بندگی کی روح ہے، اور یہی وہ دریافت ہے جو انسان کو عالم نہیں بلکہ عبد بنا دیتی ہے۔

کسی فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؛

آنکس کہ نداند و بداند کہ نداند

لنگان خرک خویش به منزل برساند

آنکس کہ نداند و نداند کہ نداند

در جهل مرکب ابد الدهر بماند

یعنی جو شخص نہیں جانتا، مگر جانتا ہے کہ وہ نہیں جانتا، وہ لنگڑاتے ہی سہی، مگر اپنے گدھے پر سوار ہو کر منزل تک پہنچ جاتا ہے۔

اور جو شخص نہ جانتا ہے، اور نہ یہ جانتا ہے کہ وہ نہیں جانتا، وہ ہمیشہ جہلِ مرکب میں مبتلا رہتا ہے۔

مطلب یہ کہ جہل مرکب ایک ایسی ذہنی حالت ہے جہاں انسان کسی غلط بات کو سچ سمجھتا ہے، یعنی وہ نہ صرف جاہل ہوتا ہے، بلکہ اسے اپنی جہالت کا بھی ادراک نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے غلط علم پر پختہ یقین رکھتا ہے اور اسے شک سے بھی زائل نہیں کر سکتا، جو کہ حقیقت کے بالکل الٹ ہوتی ہے.

یہ جہل کی وہ بدتر حالت ہے کہ ایک انسان کو کسی چیز کا علم تو نہیں ہوتا، لیکن وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے اس کا پورا علم ہے۔

دراصل علمی یا روحانی سفر میں بہت سے انسان شروع میں علم یا عمل کے زعم میں مبتلا ہوتے ہیں ، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کو احساس ہوتا ہے کہ ان کا علم درحقیقت بہت محدود ہے۔ اور یہ احساس ایک "کشف” یا "دریافت” کی طرح ہوتا ہے ، جیسے کوئی حقیقت پہلی بار سامنے آئی ہو۔

علم کے سامنے عجز کی کیفیت اس طرح طاری ہوتی ہے کہ ایک انسان کا علم جتنا بڑھتا ہے، اتنا ہی یہ احساس گہرا ہوجبتا ہے کہ میں کچھ نہیں جانتا ۔ اور اللہ کے سامنے یہ عجز بندے کے اندر یہ احساس جگاتا ہے کہ وہ اپنی ہر صلاحیت و کامیابی میں محض اللہ کا محتاج ہے۔ اسی طرح انسانیت کے سامنے عجز: دوسروں کو کمتر سمجھنے کے بجائے ہر انسان کی قدر و منزلت کا اقرار ہے۔

عجز کی یہ دریافت درحقیقت ایک بالغ نظری اور روحانی پختگی کی علامت ہے۔ یہ اعلان نہیں بلکہ اعتراف ہے، فخر نہیں بلکہ انکساری ہے۔ ایسا شخص اپنے علم کے باوجود "جاہلِ حقیقی” بن جاتا ہے ، یعنی اسے اپنی ناواقفیت کا پورا احساس ہو جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اپنی زندگی میں عجز کی دریافت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے زندگی بھر کے مطالعہ، تجربات، غور و فکر، اور علم کی تلاش کے بعد یہ سمجھ لیا کہ انسان کی سب سے بڑی اور قیمتی "دریافت” عاجزی (عجز) ہے۔

یعنی:

جتنا علم بڑھتا ہے، انسان کو اتنا ہی زیادہ احساس ہوتا ہے کہ وہ درحقیقت بہت کم جانتا ہے۔

علم کے شروع میں انسان کو لگتا ہے کہ وہ بہت کچھ جان گیا ہے، جو تکبر کا باعث بن سکتا ہے۔

لیکن حقیقی علم کی گہرائی میں اترنے پر انسان اپنی محدودیت، کم مائیگی اور اللہ کی عظمت کے سامنے اپنی بے بسی ("عجز”) کو پوری طرح سمجھ لیتا ہے۔

یہ عاجزی تکبر کے مقابلے میں سب سے بڑی کامیابی ہے، کیونکہ یہ انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے اور اسے بہتر انسان بناتی ہے۔

بہت سے بڑے علماء نے یہی بات مختلف انداز میں بیان کی ہے کہ علم کی انتہا عجز ہے۔ یہ جملہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زندگی کی سب سے قیمتی چیز علم نہیں، بلکہ اس علم سے پیدا ہونے والا عجز ہے۔

عاجزی بخشی گئی تمکنت فقر کے ساتھ

دینے والے نے ہمیں کون سی دولت نہیں دی

kashafi

قلم کار : غلام نبی کشافی آنچار سری نگر

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے