اضافی ذمہ داریاں

اضافی ذمہ داریاں، مالی معاملات اور بغیر اجازت رقم رکھنا: شریعت کی روشنی میں رہنمائی

سوال:
السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔ محترم ڈاکٹر صاحب ایک جاننے والے کا سوال ہے کہ اگر وہ کسی ادارے میں اپنے مقررہ وقت افرائض کے علاوہ کئی دیگر تفویض شدہ ذمہ داریاں ادا کر رہے ہوں اور وقت بھی زیادہ دے رہے ہوں جبکہ ان کا کوئی معاوضہ بھی نہ ہو۔ صرف ایڈیشنل چارج ہوں۔ تو کیا ایسے میں اگر کوئی مالی امور بھی ان کے سپرد ہوں اور وہ کوشش کرکے مالی ذمہ داریاں اچھی طرح ادا کر رہے ہوں بلکہ اس سے ادارے کے بہت سے پیسوں کی بچت ہوتی ہو تو کیا وہ ان معاملات میں سے کچھ رقم رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟ اس سوال کا جواب مطلوب ہے۔

جواب:
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
یہ سوال دراصل دیانت، امانت اور معاہدے کی پابندی سے متعلق ایک نہایت اہم مسئلہ ہے۔ شریعتِ اسلامیہ میں اس باب کا ایک واضح اور بنیادی اصول ہے، اور وہ یہ کہ ہر معاہدہ اپنی طے شدہ شرائط کے مطابق لازم ہوتا ہے۔ ملازمت بھی ایک معاہدہ ہے جو ادارے اور ملازم کے درمیان طے پاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ملازم مخصوص اوقات میں مخصوص کام انجام دینے کا پابند ہوتا ہے اور اس کے بدلے میں ادارہ ایک متعین تنخواہ یا اجرت دینے کا ذمہ لیتا ہے۔
اگر کوئی ملازم اپنے مقررہ فرائض کے علاوہ اضافی ذمہ داریاں بھی ادا کر رہا ہو، زیادہ وقت دے رہا ہو، یا ادارے کے فائدے کے لیے غیر معمولی محنت کر رہا ہو، تب بھی شرعاً اس کا حق صرف وہی اجرت ہے جو معاہدے میں طے ہوئی ہو، یا جو ادارہ اپنی خوش دلی سے بعد میں بطور انعام، اعزازیہ یا اضافی معاوضہ دے دے۔ محض اس بنیاد پر کہ میں زیادہ کام کر رہا ہوں یا ادارے کو مالی فائدہ پہنچا رہا ہوں، ملازم کو یہ حق حاصل نہیں ہو جاتا کہ وہ اپنی طرف سے کسی رقم کو رکھ لے۔
خصوصاً جب کسی ملازم کے سپرد مالی امور ہوں، جیسے حساب کتاب، خرید و فروخت، یا اخراجات کا انتظام، اور وہ اپنی محنت اور سمجھ داری سے ادارے کے لیے پیسے بچا رہا ہو، تو یہ یقیناً قابلِ تحسین بات ہے اور اخلاقی طور پر اس کی قدر ہونی چاہیے۔ لیکن اگر وہ اس بچت میں سے آجر یا ادارے کے علم اور اجازت کے بغیر کچھ رقم اپنے لیے رکھ لیتا ہے، تو شریعت کی نظر میں یہ درست نہیں۔ نیت چاہے کتنی ہی اچھی ہو، ایسا کرنا امانت میں خیانت اور دھوکے کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ یہ رقم ملازم کی ملکیت نہیں بلکہ ادارے کی ہے، اور اس میں تصرف صرف مالک کی اجازت سے ہی جائز ہوتا ہے۔
اسلام میں یہ اصول بہت واضح ہے کہ جو چیز جس کی ملکیت ہو، اس میں بلا اجازت تصرف جائز نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے صاف الفاظ میں بتایا کہ جس شخص کو کسی کام پر مقرر کر کے اس کی اجرت طے کر دی جائے، اس کے بعد وہ جو کچھ بھی اپنی طرف سے لے، وہ خیانت شمار ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ میں نے ادارے کو فائدہ پہنچایا ہے، اس بنیاد پر خود سے کچھ رقم رکھ لینا شرعاً درست نہیں۔
ایسی صورت میں ملازم کے لیے صحیح اور جائز راستہ یہ ہے کہ وہ ادارے کے ذمہ دار افراد سے صاف اور مہذب انداز میں بات کرے، اپنی اضافی ذمہ داریوں اور خدمات کو سامنے رکھے، اور مناسب اضافی معاوضے یا الاؤنس کا مطالبہ کرے۔ اگر ادارہ اس پر راضی ہو جائے تو جو کچھ بھی دیا جائے گا وہ حلال اور جائز ہوگا۔ لیکن اگر ادارہ اضافی معاوضہ دینے پر آمادہ نہ ہو اور ملازم یہ محسوس کرے کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، تو پھر اس کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اس ملازمت کو چھوڑ دے اور کسی بہتر موقع کی تلاش کرے۔ البتہ کسی بھی حال میں خفیہ طور پر رقم لینا یا مالی فائدہ اٹھانا جائز نہیں۔
یہ اصول صرف ملازمت تک محدود نہیں بلکہ شریعت میں ہر قسم کے معاہدے پر لاگو ہوتا ہے، چاہے وہ دینی ادارہ ہو یا دنیاوی، نجی ہو یا سرکاری۔ معاہدے کی پابندی اور امانت داری اسلام کے بنیادی اخلاقی اصولوں میں سے ہیں، اور ان میں کوئی استثنا نہیں کیا جا سکتا۔
البتہ اس عمومی قاعدے سے ایک خاص اور معروف استثنا ضرور ہے، اور وہ ہے بیوی کا نفقہ۔ اگر شوہر اپنی بیوی اور بچوں کا واجب خرچ ادا نہیں کر رہا، حالانکہ وہ اس پر شرعاً لازم ہے، تو ایسی صورت میں بیوی کو اجازت ہے کہ وہ شوہر کے مال میں سے اتنا لے لے جو معروف طریقے سے اس کی اور بچوں کی ضروریات کے لیے کافی ہو، چاہے شوہر کو اس کا علم نہ بھی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شوہر خود اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کر رہا ہوتا ہے، اور بیوی کے لیے نہ تو فوراً نکاح سے نکلنا آسان ہوتا ہے اور نہ ہی یہ خاندان کے لیے مفید ہوتا ہے۔ اس لیے شریعت نے یہاں مظلوم فریق کو بقدرِ ضرورت حق دیا ہے۔
اس ایک استثنا کے علاوہ، باقی تمام معاملات میں یہی اصول برقرار رہتا ہے کہ انسان کو صرف وہی لینا جائز ہے جس کا وہ معاہدے یا صریح اجازت کی بنیاد پر حق دار ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے تمام معاملات میں دیانت، امانت اور تقویٰ کے ساتھ چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور حلال و حرام کے معاملے میں ہمیں محتاط رہنے والا بنائے۔ آمین۔

Dr Akram Nadwi

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے