الحاد

عصرِ حاضر میں الحاد کے چیلنجز اور فہمِ دین کا بحران — ایک فکری مکالمہ اور تلخ حقائق کی نشاندہی

ایک نوجوان کی طرف سے ایک سوال ان الفاظ کے ساتھ موصول ہوا ہے ۔

” میں پچھلے چند برسوں کے دوران آپ کو مسلسل پڑھتا آرہا ہوں ۔ البتہ ایک دفعہ میں اپنی لاعلمی یا جہالت کی وجہ سے چند قاسمی دوستوں کے بہکاوے میں آکر آپ کی مخالفت کرنے لگا تھا ، اور آپ کے خلاف ایک کمنٹ بھی کیا تھا ، تو آپ نے بنا جواب دئے نہ صرف کمنٹ ڈلیٹ کیا تھا ، بلکہ بعد میں جب آپ کا کوئی مضمون نظر نہیں آرہا تھا ، تو میں سمجھ گیا کہ آپ نے مجھے اپنے فرینڈ لسٹ سے ہٹا دیا ہے ۔‌ لیکن اس کے بعد مجھے اپنے موبائل سے نفرت سی ہونے لگی ، اور میں سوچنے لگا کہ یہ میں نے کیا غلطی کردی کہ روزانہ مجھے گھر بیٹھے علمی مضامین پڑھنے کو ملتے ، اور میں ان سے محروم ہوگیا ۔

لیکن اس سال سنتور ہوٹل میں چنار فیسٹیول میں آپ سے ملاقات ہوگئی ، اور اپنی شرمندگی کا اظہار کرکے آپ سے معافی مانگی ، اور تب سے میں نے بڑی راحت محسوس کی ۔

اس وقت عرض ہے کہ حالیہ دنوں میں ایک مفتی ۔۔۔۔ صاحب اور جاوید اختر کے درمیان ڈبیٹ کے بعد آپ کے لگاتار مضامین اور خطوط آرہے ہیں ، جو انتہائی علمی اور فکر انگیز ہوتے ہیں ، اور میں اس طرح کی تحریروں سے پہلی بار محظوظ ہو رہا ہوں ، اللہ تعالی آپ کو اس کا جزائے خیر دے ۔

میرا آپ سے ایک سوال ہے کہ کیا آج کے دور میں اس درجہ قابل علماء دین کی کوئی جماعت موجود ہے جو ملحدین کے اعترضات کے معقول جوابات دے سکے کہ وہ دوران گفتگو ہی میں اس قدر لاجواب اور بے بس ہوں کہ ان کو انکار خدا کی کوئی وجہ باقی نہ رہے ؟ "

ناصر احد / پلوامہ

میں ذاتی طور پر ڈبیٹ یا مناظرہ بازی کو بالکل بھی پسند نہیں کرتا کہ دائیں بائیں اپنے اپنے لوگ ہوں ، جو جوابی کارروائی میں لفاظی کے چھکے چوکے لگا کر تالیاں اور سیٹیاں بجانا شروع کر دیں ۔ میں اس کو صریحاً غیر شرعی طریقہ سمجھتا ہوں ۔

علماء کے حوالے سے میں کیا بات کروں ، ہمارے یہاں ہندوستان میں بڑے بڑے علماء ہیں ، جن میں خاص طور پر مسلم پرسنل لا بورڈ کے موجودہ صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ایک بہت ہی زیرک اور تجربہ کار عالم دین ہیں ، اور وہ سینکڑوں کتابوں کے مصنف بھی ہیں ، وہ اگر چاہیں تو مضامین کی صورت میں جاوید اختر صاحب کے جیسے منکرین خدا کے اٹھائے گئے اعتراضات کے مدلل جوابات دے سکتے ہیں ۔ میں ذاتی طور پر ان کی تحریروں سے بہت زیادہ استفادہ کرتا ہوں ۔

اسی طرح جاوید احمد غامدی صاحب ، اگرچہ ان سے مجھے علم حدیث یا حجیت حدیث کے حوالے سے شدید اختلافات و تحفظات ہیں ، لیکن بہر حال ان کا انداز بیان اور طرز گفتگو انتہائی مہذبانہ اور مؤثر ہوتا ہے ، وہ خدا کے وجود کے بارے میں سامنے بیٹھے منکر خدا کو نہ صرف خاموش کراسکتے ہیں ، بلکہ وہ اقرار کرانے کی بھی اہلیت رکھتے ہیں ، اور ان کی علمی ، فکری اور ذہنی صلاحیتیں قابل رشک ہوں ، لیکن ان سے اختلاف کی اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ صرف حجیت حدیث کا معاملہ ہے ۔

ماضی قریب میں ملحدین کے اعتراضات کے جوابات کی بدرجہ اتم صلاحیت مولانا وحید الدین خان کو بھی حاصل تھی ، اور ان سے پہلے مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا سید مودودی متکلم اسلام تھے ۔ میں نے تقریباً ایک دہائی قبل ایک مضمون پڑھا تھا کہ فیض احمد فیض کہا کرتے تھے کہ پاکستان میں مولانا سید مودودی نہ ہوتے تو ہم پاکستان کو کمیونسٹ اسٹیٹ بنا لیتے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ماضی میں کس قدر علماء کا پلہ غالب اور بلند ہوتا تھا۔

ایک شیعہ عالم دین علامہ طالب جوہری مجھے بچپن سے پسندیدہ خطیب رہے ہیں، اللہ تعالی نے ان کو بے پناہ قوت گویائی اور قرآنی استدلال سے نوازا تھا ، ان کا چند سال پہلے 2020ء میں انتقال ہوا تھا اور ان کا تعلق پاکستان سے تھا ۔ مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں ٹی ہر سال دسویں محرم میں ٹی وی پاکستان پر ایک گھنٹہ کا مجلس وعظ ہوتا تھا ، اور میں ہر سال ان کی تقریر سننے کے لئے بے تاب اور منتظر رہتا تھا ، اور میرا معاملہ عجیب ہے کہ میں نے اپنی شعوری زندگی میں صرف انہی کو بطور مقرر پسند کیا اور ان کا انداز گفتگو بہت پیارا اور اثر انگیز ہوتا تھا اور وہ جب کسی موضوع پر گفتگو کرتے تھے تو قرآنی کا ایسا انتخاب کرتے تھے کہ سننے والا عش عش کرنے لگتا تھا ۔ چنانچہ وہ جب خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے تھے کہ آدمی محسوس کرتا تھا کہ اس نے خدا کے وجود پالیا ہے ، اور وہ تجدید ایمان کرنے لگتا ہے ۔

عجیب اتفاق ہے کہ بچپن میں میں نے ان کی جو تقریریں ٹی وی پر دیکھی تھیں ، بعد میں ان کی تقاریر کتابی شکل میں بھی شائع ہوئی ہیں ، اور ان کا بھی میں نے مطالعہ کیا ہے ۔

لیکن اب اس طرح کے علماء اس دنیا سے فوت ہوگئے ۔ ایسا لگتا ہے کہ اب علماء اس زمین سے اٹھائے جا رہے ہیں ۔‌ اس لئے حقیقی پیشوایان دین کا مسئلہ مستقل قریب میں بہت زیادہ بڑھ جانے کا اندیشہ ہے ۔ اور اس سلسلہ میں صحیح بخاری کے حوالے سے یہ پیشنگوئی قابل غور ہے ۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا ، يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا، اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالاً فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا ‏۔

( البخاری : کتاب العلم : بَابُ كَيْفَ يُقْبَضُ الْعِلْمُ : رقم الحدیث 100)

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالی علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ بندوں سے چھین لے ، بلکہ علماء کو قبض روح کرکے علم کو اٹھا لے گا ، یہاں تک کہ کوئی عالم باقی نہیں رہے گا ، پھر لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنا لیں گئے، پھر ان سے مسائل پوچھیں گے تو وہ انہیں بغیر علم کے فتوے دیں گے ، جس کی وجہ سے وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے ۔

اس حدیث پر غور کرنے سے آخری زمانے کے حوالے سے ایک تشویش بڑھ جاتی ہے ، تاہم اگرچہ ابھی عالم اسلام میں علماء کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ، البتہ یہ سچ ہے کہ پہلے کے مقابلے میں اب ان کی تعداد گھٹتی چلی جا رہی ہے ، اور ہر جگہ سے علماء کی وفاتیں ہو رہی ہیں ، جس کی وجہ سے انقلابی طرز فکر و عمل کے حامل علماء اب عنقا ہوتے جا رہے ہیں ۔

عالم عرب ہو ، ہندوستان ہو ، پاکستان ہو یا پھر دوسرے مسلم ممالک ہوں ، غرض ہر جگہ سے علماء اس دنیا سے رخصت ہوتے جا رہے ہیں ۔ جبکہ آج کتابیں لکھنے والے علماء ، جن میں سے بعض نے کتابیں تصنیف کرنے میں سنچریاں کر رکھی ہیں ، اور تحریر و تصنیف کی دنیا میں ان کی ریس لگی ہوئی ہے ، لیکن امت مسلمہ ان کے لٹریچر سے متحد ہونے کے بجائے ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہے ۔

ہندوستان میں پچھلی تین دہائیوں کے دوران بیشمار علماء وفات پا چکے ہیں ، اب ان کے جیسے علماء کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے ، لیکن اس کے برعکس پاکستان میں اس وقت حالات انتہائی تشویشناک ہے ، وہاں ڈاکٹر اسرار احمد کے بعد ایک بھی عالم دین اپنی گدی کو چھوڑ کر موجودہ جبری نظام سے لڑنے یا ٹکر لینے کی ہمت نہیں کر پاتا ہے ، اگرچہ آج اسلاف کی باتیں کرنے کے باوجود ایک بھی عالم دین اسلاف کے نقش قدم پر چلنے ، ان کی طرح اذیتیں برداشت کرنے اور ان کی طرح قربانیاں دینے کے لئے تیار نہیں ہے ، سب کنارے پر بیٹھے ڈوبنے اور ہلاک ہونے والوں کا تماشا دیکھ رہے ہیں ۔

ایسے علماء کو اسلاف پر کئے جانے والے ظلم وزیادتی اور شہاتوں کے واقعات صرف بیان کرنے تک اچھے لگتے ہیں ، لیکن ان کی طرح آج حق اور ملت کی بقا کے لئے اپنا مال و جان قربان کرنے کی ہمت اور حوصلہ کسی میں نہیں رہا ہے ۔

یہ جو آج دنیا دارعلماء ہیں ، ان کے مدرسوں اور ان کے تعلیمی اداروں سے جو طلباء فارغ ہوتے ہیں ، بظاہر وہ بھی دینی معلومات رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں ، لیکن حقیقی معنوں میں وہ فہم دین اور زمانی بصیرت سے محروم ہوتے ہیں ، جس کی وجہ سے ان کے بیانات اور ان کے فتوے گمراہ کن ہوتے ہیں ، اس لئے اس طرح کے ناقص علم رکھنے والوں سے پرہیز کرنا ہی بہتر ہوگا ۔

فضا ابن فیضی کا شعر ہے ؛

جو صاحبان بصیرت تھے ، بے لباس ہوئے

فضیلتوں کی یہ دستار کس کے سر باندھو

یہ شعر‌ انتہائی غور طلب ہے ، اس میں شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ جو لوگ بصیرت، دانائی اور اخلاقی قیادت کے حقیقی حق دار تھے، وہ یا تو مٹ گئے، خاموش ہو گئے، یا اپنی حیثیت اور اپنا اثر کھو بیٹھے۔ اس طرح وہ “بے لباس” ہو گئے، یعنی عزت، وقار اور اختیار کی وہ پوشاک ان سے چھن گئی جو انہیں امتیاز دیتی تھی۔ لیکن افسوس کہ اب صورتِ حال یہ بن چکی ہے کہ فضیلت، علم اور قیادت کی “دستار” موجود تو ہے، مگر اسے پہننے کے لائق سر ناپید ہیں۔ یعنی اقدار باقی ہے، مگر اس پر کھڑا ہونے والا باکردار اور صاحبِ بصیرت انسان نظر نہیں آتا۔

یہ شعر دراصل اس المیے کی طرف اشارہ ہے کہ معاشرہ فضیلت کی قدر تو کرتا ہے، مگر فضیلت کے حامل افراد کو جنم دینے اور سنبھالنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ نتیجتاً عزت کے نشان بے معنی ہو گئے ہیں، کیونکہ ان کے اصل وارث باقی نہیں رہے۔

آخر پر عرض ہے کہ ہوسکتا ہے کہ بعض شخصیت پرستی میں مبتلا لوگوں کو میری یہ تحریر پسند نہ آئے ، لیکن اگر وہ محض خدا ترسی اور آخرت کی جوابدہی کے احساس کے ساتھ اس تحریر کو غور سے پڑھیں گے ، تو ان کو علماء ربانی اور کتابی علماء کے درمیان زمین آسمان کا فرق نظر آئے گا ۔ لیکن اس طرح کے تلخ حقائق کو سمجھنے کے لئے بصارت سے زیادہ بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے ۔

علامہ اقبال نے صحیح کہا ہے ؛

نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

kashafi

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے