تفسیر ابن کثیر کے مآخذ و مصادر

تفسیر ابن کثیرؒ

گذشتہ سے پیوستہ (قسط دوم)

کتب تفاسیر کے علاوہ امام ابن کثیر کے مآخذ و مصادر

جس طرح علامہ ابن کثیر نے مختلف تفاسیر سے استفادہ کیا ہے بعینہ آپ نے آحادیث کی مختلف کتابوں سے بھی خوب استفادہ کیا ہے بلکہ آپ نے کتب آحادیث کے ساتھ علوم الحدیث، عقائد ،فقہ و اصول فقہ اور تاریخ کی کتابوں سے بھی خوب استفادہ کیا ہے جس کو بہت ہی اختصار کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

١ کتب آحادیث

صحيح البخارى

امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے آحادیث کی روایت کو نقل کرنے میں صحیح البخاری سے سب سے زیادہ استفادہ کیا ہے اور بسا اوقات آیات کی تفسیر میں امام بخاری کے اقوال بھی نقل کرتے نظر آتے جیسے آیت کریمہ

فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ
بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا
( الاحزاب:٢٤ )
کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
بعض نے کہا : نحبه کا معنیٰ أجله ہے یعنی اس کا وقت یا اس کی موت

قال : قال بعضهم : اجله و قال البخارى عهده قال : و هو يرجع إلى الاول
امام بخاری کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنا وعد پورا کردکھایا جبکہ پہلا قول درست ہے

صحیح بخاری کے علاوہ امام ابن کثیر نے مندرجہ ذیل کتب آحادیث سے بھی خوب استفادہ کیا ہے جو کہ اہل علم کے درمیان محتاج تعارف نہیں ہیں اور وہ یہ ہیں
صحیح مسلم ، صحیح ابن خزیمہ ، صحیح ابن حبان ، مستدر الحاکم ، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ ، سنن بیہقی سنن دار قطنی اور مسند الامام احمد شافعی وغیرہ ہیں ،

٢ عربی لغات

امام ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں لغات کی کتابوں سے بھی خوب استفادہ کیا ہے جس میں سر فہرست علامہ اسماعیل بن حماد ( متوفی 393ھ ) کی کتاب الصحاح ہے جیسا کہ آیت کریمہ

يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ
( النساء ٥١)
وہ بت اور شیطان پر ایمان لاتے ہیں
کی تفسیر میں رقمطراز ہیں

قال العلامة ابو نصر اسماعيل بن حماد الجوهرى فى كتابه الصحاح الجبت كلمة تقع على الصنم و الكاهن و الساحر و نحو ذلك
کہ
امام اسماعیل بن حماد الجوھری اپنی کتاب الصحاح میں لکھتے ہیں کہ
جبت کا اطلاق بت، کاہن اور جادوگر پر بھی ہوتا ہے

اسی طرح امام ابن کثیر نے آیات کی تفسیر میں مشہور لغوی امام ابو قاسم عبدالرحمن بن اسحاق الزجاج کی کتاب الجمل سے بھی استفادہ کیا ہے مگر کلی طور پر اس پر اعتماد نہیں کرتے بلکہ اس کے برعکس امام ابن کثیر امام زجاج پر نقش و مباحثہ بھی کرتے نظر اتے ہیں

جیسے سورہ سبا کی ان دو آیتوں کی تفسیر آپ خود ملاحظہ فرمالیں

يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ

اے پہاڑو! داؤد [١٥] کے ساتھ (تسبیح میں) ہم آہنگ ہوجاؤ

( سبا : ١٠ )
کی تفسیر میں امام زجاج کا قول پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں

اى سيري معه بالنهار كله،

والتأويب سير النهار كله
وإلاساد سير الليل كله
یعنی تم اس کے ساتھ پورا دن چلو ،
تاویب کا معنی پورا دن سفر کرنا اور اسآد کا معنی پوری رات سفر کرنا

ثم قال : و هذا لفظه و هو غريب جدا ، لم اره لغيره و إن كان له مساعدة من حيث اللفظ فى اللغة لكنه بعيد فى معنى الآية ههنا
والصواب أن المعنى فى قوله تعالى اوبي معه اى رجعي مسبحة معه كما تقدم والله اعلم

یعنی امام زجاج نے جو یہ کہا ہے کہ

التاويب سے مراد پورا دن چلنا ہے
اور
الإسآد سے مراد پوری رات چلنا ہے

یہ بہت غریب معنی ہے اور یہاں موجود آیت کریمہ سے اس کا کوئی واسطہ نہیں بلکہ اس کا صحیح معنی یہ ہے کہ

اے پہاڈو تسبیح کے ساتھ داؤد علیہ السلام کے فرمانبردار بن جاؤ ،

اسی طرح آپ نے عربی لغت کی کتابوں میں امام محمد بن قاسم الانباری کی کتاب الزاهر سے بھی استفادہ کیا ہے
آپ اپنے دور کے مایہ ناز علماء میں سے ایک ہیں خاص کر عربی لغت اور ادب میں آپ بے مثال تھے ، آپ کی تاریخ ولادت ٢٧١ ھ اور تاریخ وفات ٣٢٨ھ ہے

ان کے علاوہ آپ نے ابو علی الفارسی جن کی علوم عربیہ میں التذكرة تعاليق سيبوية اور نحو میں جواهر النحو کافی مشہور کتابیں ہیں ان سے اور ابن فارس اللغوی( متوفی ٣٩٥ ھ) سے بھی استفادہ کیا ہے

٣ عقائد
عقائد کے باب میں امام ابن کثیر نے کئی کتابوں سے استفادہ کیا ہے جس میں ایک امام قرطبى کی کتاب

التذكرة بأحوال الموتى و أحوال الآخرة ہے
آیات کی تفسیر میں گاہے بگاہے آپ اس کتاب کا حوالہ بھی دیتے ہیں جیسے
آیت کریمہ
وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ( التکویر ، ٤)
کی تفسیر میں مختلف اقوال ذکر کرنے بعد فرماتے ہیں ،

حكى هذه الاقوال كلها إلامام ابو عبدالله القرطبى فى كتابه التذكرة
و رجح أنها الابل
قلت لا يعرف عن السلف والأئمة سواه والله اعلم

کہ امام ابو عبداللہ قرطبی نے ان تمام اقوال کو اپنی کتاب التذکرہ میں بیان کیا ہے اور ساتھ ہی امام ابن کثیر امام قرطبی کے راجح قول کو بھی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اونٹ کو ترجیح دی ہے اور ائمہ سلف میں سے کسی نے اس کے علاوہ ( اونٹ) کوئی اور چیز مراد لی ہو، میں نہیں جانتا ،
اور کبھی کبھی عقائد میں امام قرطبی کا قول نقل کرکے ان پر مناقشہ بھی کرتے ہیں جسے آپ آیت کریمہ

فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰؤُلَاءِ شَهِيدًا
تو کیسا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اے نبی! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں گے۔
( النساء: ٤١ )
کی تفسیر میں دیکھ سکتے ہیں

کہتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں امام قرطبی نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا ایک قول نقل کیا ہے کہ

ليس من يوم إلا يعرض فيه على النبى أمته غدوة و عشية فيعرفهم باسمائهم و أعمالهم و فلذلك يشهد عليهم
يقول الله تعالى: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰؤُلَاءِ شَهِيدًا

کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر دن صبح وشام آپ کی امت پیش کی جاتی ہے پس آپ اس بنا پر اپنی امت کے نام اور ان کے اعمال سے واقف ہوجاتے ہیں ،
تو گویا یہ چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کے لیے گواہی ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا

فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰؤُلَاءِ شَهِيدًا

اس کے بعد امام ابن کثیر امام قرطبی پر مناقشہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں

فانه اثر و فيه انقطاع فإن فيه رجلاً مبهما لم يسم و هو كلام سعيد بن مسيب لم يرفعه

کہ یہ ایک اثر ہے اور اس اثر میں انقطاع پایا جاتا ہے کیونکہ اس اثر میں ایک شخص ہے جس کا نام معلوم نہیں ہے ،

اسی طرح عقائد کے باب میں امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے امام احمد کی کتاب الرد على الجهمية اور امام بيهقى کی کتاب الإعتقاد سے بھی استفادہ کیا ہے
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے