امام ابو حنیفہؒ کی دو کرامتیں جن کا ذکر عوام میں کبھی نہیں کیا جاتا !
امام ابو حنیفہ رحمة الله علیہ کی حیات اور کارنامہ پر انگریزی میں میری ایک کتاب ہے جو تقریباً پندرہ سال قبل طبع ہو کر مقبول ہوئی۔ اس میں امام صاحب کی علمی و عملی عظمت، ان کے مجتہدانہ مقام، فقہی کارناموں اور تمام سنی و غیر سنی مسالک پر ان کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ نیز یہ کہ فقہ اور اصولِ فقہ کے میدانوں میں حنفی مسلک نے ارتقاء کے کون سے مراحل طے کیے۔ اس مضمون میں ان باتوں کا اعادہ یا تلخیص مقصود نہیں، بلکہ یہاں امامِ اعظم کی دو کرامتوں کا ذکر ہے جنہوں نے مجھ پر غیر معمولی اثر ڈالا، اور جو میرے خیال میں پوری امت کے لیے یکساں مفید ہیں۔
کرامت میں بالعموم خوارقِ عادات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ اہلِ معرفت کے نزدیک خوارق الله تعالى کے افعال ہیں جو جلی و خفی حکمتوں کی وجہ سے وجود پذیر ہوتے ہیں۔ بندوں کی اصل کرامت عبودیت کے مظاہر و آثار ہیں۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
"إن أكرمكم عند الله أتقاكم”
یعنی جو تقوى میں جس قدر آگے ہے، وہ اتنا ہی صاحبِ کرامت و بزرگی ہے۔ اسی معنی کو واصلین نے یوں بیان کیا ہے:
"الاستقامة فوق الكرامة”
یعنی طاعت پر استقلال خوارقِ عادات والی کرامت سے بڑھ کر ہے۔
یہاں اسی حقیقی کرامت کا ذکر مقصود ہے۔ یہی وہ کرامت ہے جو انسان کو قیمتی بناتی ہے، جو اسے مقربِ بارگاہِ الٰہی بناتی ہے اور عام انسانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمة الله علیہ کے تقوى اور صلاح پر موافقین و مخالفین سب کا اجماع ہے۔ اس وقت آپ کی جن دو کرامتوں کا ذکر مقصود ہے، وہ درج ذیل ہیں:
پہلی کرامت:
سیر اعلام النبلاء وغیرہ میں امام محمد بن الحسن الشیبانی سے مروی ہے کہ انہوں نے امام قاسم بن معن سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ امام ابو حنیفہ رحمة الله علیہ نے ایک بار عشاء کے بعد نفل نماز شروع کی اور یہ آیت پڑھی:
"بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر” (سورۃ القمر: 46)
یہ آیت بار بار پڑھتے رہے اور روتے اور گڑگڑاتے رہے یہاں تک کہ فجر کا وقت ہو گیا۔
ایک آیت کو پوری رات وہی بار بار پڑھ سکتا ہے جو اس کے مفہوم کا عالم ہو، اس پر مختلف جوانب سے تدبر کرتا ہو، جسے وہ آیت جھنجھوڑتی ہو، جو اس کے دل و دماغ میں پیوست ہو جاتی ہو۔ قرآن میں اسی تدبر کا نتیجہ ہے کہ امام صاحب نے کتابِ الٰہی سے جو دقیق مسائل مستنبط کیے ہیں، وہ ان کے علاوہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔ یہ تدبر، پھر تفقہ، اور تعبد و تضرع عبودیت کا اعلیٰ مقام ہے — اور یہی حقیقی کرامت ہے۔
صحابۂ کرام اور اسلاف سے اس قسم کے تدبر کے بہت سے واقعات منقول ہیں۔ امام مالک رحمة الله علیہ نے موطأ میں نقل کیا ہے کہ حضرت عبدالله بن عمر رضي الله عنہما نے سورۃ البقرہ کے سیکھنے میں آٹھ سال لگائے۔ امام حسن بصری رحمة الله علیہ سے منقول ہے کہ:
"اہلِ قرآن وہ لوگ ہیں جو قرآن کو اچھی طرح پڑھتے ہیں، اس کا علم حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔”
حسن بصری سے یہ بھی منقول ہے کہ وہ فرماتے تھے:
"الله کی کتاب سے چمٹ جاؤ، اس کی ہدایتوں کا علم حاصل کرو، اور ان لوگوں میں سے بنو جنہیں قرآن کی بصیرت حاصل ہے۔”
نیز فرماتے تھے:
"کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے پورا قرآن ختم کر دیا اور اس کا ایک حرف بھی نہیں چھوڑا۔ خدا کی قسم! ان لوگوں نے پورا قرآن چھوڑ دیا۔ قرآن کا اثر نہ ان کے اخلاق میں ہے اور نہ اعمال میں۔”
امام حسن بصری نے ان لوگوں پر سخت نکیر کی جو قرآن تیزی سے پڑھتے ہیں، اور بجائے تدبر کرنے کے ان کا ذہن اس میں مشغول ہوتا ہے کہ کتنی جلدی قرآن کی آخری آیت آجائے اور ایک ختم مکمل ہو جائے۔
جس بات پر حسن بصری نے نکیر کی ہے یہی آج کل کچھ لوگوں کا سرمایہ ہے۔ وہ دن میں پورا قرآن ختم کرنے کو کارنامہ سمجھتے ہیں، کچھ لوگ ایک دن میں دو قرآن ختم کرتے ہیں، اور کچھ لوگ اس سے بھی زیادہ — نہ کوئی فہم، نہ تدبر، نہ خشیت، نہ بکا، بلکہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی تعلیم سے کھلا اعراض۔
ہمارے اساتذہ میں مولانا شہباز علیہ الرحمة کو اس تدبر کا حصہ وافر ملا تھا۔ وہ زیادہ تر قرآنِ شریف کا مطالعہ کرتے تھے اور کبھی کبھی ان مشکل مقامات کا ذکر بھی فرماتے تھے جنہیں سمجھنے میں انہیں بہت وقت لگا۔ وہ فرماتے تھے کہ امام ابو حنیفہ رحمة الله علیہ اور امام بخاری رحمة الله علیہ کے درمیان بہت زیادہ توافق ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں کتابِ الٰہی میں غیر معمولی تدبر کرتے تھے، اور دین کے فہم میں دونوں کا مرجعِ اولین قرآنِ کریم تھا۔
دوسری کرامت:
امام ابو حنیفہ رحمة الله علیہ کی دوسری عظیم کرامت یہ ہے کہ انہوں نے کبھی کسی کی غیبت نہیں کی۔ آپ سے پوچھا گیا کہ کیوں آپ کسی کی غیبت نہیں کرتے؟ فرمایا کہ اگر میں کسی کی غیبت کرتا تو اپنی ماں کی غیبت کرتا تاکہ میری نیکیاں میری ماں کو ملیں۔
امام عبدالله بن المبارک کہتے ہیں کہ میں نے امام سفیان ثوری رحمة الله علیہ سے عرض کیا کہ امام ابو حنیفہ غیبت سے کس قدر دور ہیں، میں نے انہیں کبھی کسی کی غیبت کرتے ہوئے نہیں سنا۔ اس پر سفیان ثوری نے فرمایا کہ امام ابو حنیفہ بہت سمجھدار ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ ان کی نیکیاں دوسروں کے کھاتے میں چلی جائیں۔
آج امام صاحب کے ماننے کے دعویدار بڑی تعداد میں وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں، نام لے لے کر ان کی برائیاں کرتے ہیں، اور مسلمانوں کی اس اذیت رسانی کو وہ تقوى سمجھتے ہیں۔
عوف الاعرابی فرماتے ہیں کہ میں امام ابن سیرین کے پاس گیا اور ان کے سامنے میں نے حجاج بن یوسف کو برا بھلا کہا تو فرمایا:
"الله حاکمِ عادل ہے، جو لوگ حجاج کی غیبت کرتے ہیں الله تعالى ان سے حجاج کا انتقام لے گا، جیسے وہ حجاج سے ان لوگوں کا انتقام لے گا جن پر حجاج نے ظلم کیا ہے۔ جب تم کل الله کے دربار میں حاضر ہوگے تو تم نے جو سب سے چھوٹا گناه کیا ہوگا، وہ تمہارے اوپر حجاج کے سب سے بڑے گناه سے زیادہ سخت ہوگا۔”
ہمارے اساتذہ میں مولانا سید محمد واضح رشید ندوی رحمة الله علیہ غیبت سے بہت دور تھے، بلکہ وہ مباح بات کرنے میں بھی محتاط تھے۔ ان کی مجلس میں کسی کا تذکرہ نہیں ہوتا تھا۔ ایک بار ہم لوگوں سے فرمایا کہ لوگ فروعی معاملات میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہیں، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ دوسروں کو برا بھلا کہنا غیبت ہے — اور گناهِ کبیرہ ہے۔
الله تعالى ہم سب کو اپنی کتاب کا فہم نصیب کرے، ہمیں نیک بنائے، اور برائیوں سے دور رہنے کی توفیق دے۔ آمین۔
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
آکسفورڈلندن
مزید خبریں:
گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنان کی گرفتاری کے بعد 137 کو اسرائیل نے کیارہا
گلوبل صـمود فلوٹیلا کے گرفتار رکن ‘توماسو بورٹولازی’ نے اسـرائیلی جیل میں اسـلام قبول کرلیا
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں