بعثتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بنی نوع انسانیت کی حالت زار کیا تھی اور وہ اخلاق و کردار کے کس پائیدان پر کھڑی تھی یہ کسی سے مخفی نہیں ہے بد اخلاقی، ظلم و تعدی اور کفر و الحاد کے سارے کردار زمانہ جاہلیت کی تصویر میں ہمیں صاف نظر آتے ہیں
خدائے وحدہ لا شریک کا ہم پر بڑا فضل و احسان ہے کہ رب العالمین نے بداخلاقیوں اور بے راہ رویوں سے جوجتی اور سسکتی کائنات کی رہبری اور راہنمائی کے لیے قرآن مجید جیسا بے نظیر اور بے مثال معجزے کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا
لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ۚ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ
بے شک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے[آل عمران: 164]
نزول قران مجید کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ خود رب العالمین نے مومنوں کو اس پر خوشیاں منانے کا حکم دیا فرمایا
قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰہِ وَ بِرَحۡمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلۡیَفۡرَحُوۡا ؕ ہُوَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ
آپ کہہ دیجئے کہ بس لوگوں کو اللہ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہئے۔ وه اس سے بدرجہا بہتر ہے جس کو وه جمع کر رہے ہیں[یونس :58]
یہی وجہ ہے کہ جس قوم نے اس مقدس اور عظیم تحفۂ خداوندی کی اہمیت کو سمجھا اس کی قدردانی کی اس کی واضح اور روشن تعلیمات کو قول و عمل کے ذریعے اپنے جسموں کا پیراہن بنا لیا رب کعبہ کی قسم وہ دنیا و آخرت میں سرخرو ہو گئے اس بات کی ضمانت خود اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے فرمایا
إنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بهذا الكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ به آخَرِينَ.
اللہ تعالیٰ اس کتاب ( قرآن) کے ذریعہ بہت سے لوگوں کو اونچا کردیتا ہے اور بہتوں کو اس کے ذریعہ سے نیچا گراتا ہے
( مسلم : ٨١٧ )
اور ان نیک و پاک باز بندوں کو رب دو جہاں نے اپنی خوشنودی اور رضا مندی سے دنیا و آخرت کی سب سے بڑی سعادت مہیا فرما دی فرمایا رضی اللہ عنهم و رضوا عنه
صحابہ کرام سے لے کر موجودہ دور تک امت مسلمہ کے تمام غیور لوگوں نے اس عظیم کتاب کی خدمت کو اپنے لیے کائنات کی سب سے بڑی سعادت سمجھی حتی کہ قران مجید کی تدوین سے لے کر اس کو یاد کرنا، پڑھنا ، پڑھانا اور اس کا مختلف زبانوں میں ترجمہ و تفسیر کرنا مسلمانوں کا سب سے پسندیدہ مشغلہ رہا ہے
کیونکہ قرآن مجید صرف کوئی کتاب نہیں بلکہ وہ جدید و قدیم علوم و فنون کا ایسا بحر ذخار ہے کہ پوری کائنات آج تک اس سے فیضیاب ہو رہی ہے اور تا قیامت ہوتی رہے گی ان شاءاللہ
علماء کرام نے بھی رب العالمین کے اس عظیم تحفے کی بڑی قدردانی کی اور ہر کوئی اس کی خدمت پر اپنے لیے عظیم شرف تصور کرتا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ صرف تفسیر قرآن کی سینکڑوں علماء نے اپنی علمی بساط کے مطابق مختلف زبانوں میں تفسیر کی ہے جن کا احاطہ کرنا ناممکنات میں سے ہے اور تا قیامت
کتنے ہیں خوش نصیب وہ لوگ ہیں جو اس باغ و بہار سے خوشہ چین بنے ہیں اور بنتے رہیں گے
اسی سلسلے کی ایک کڑی علامہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ الدمشقی ہیں
علامہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ ساتویں صدی ھجری کے ایک مشہور و معروف عالم دین ہیں ،
آپ ایک مفسر قرآن کے ساتھ ساتھ محدث، فقیہ ، اور بہت بڑے مؤرخ بھی رہے ہیں
یوں تو آپ کی تصنیفات بے شمار ہیں مگر آپ کی تفسیر
تفسير القرآن العظیم
اور تاریخ میں
البداية و النهاية
کو اہل علم کے درمیان بہت اونچا مقام حاصل رہا یہی وجہ ہے کہ
آج بھی اہل علم
تفسير القرآن العظیم
سے کافی زیادہ مستفید ہوتے رہتے ہیں ،
لیکن فن تفسیر کے طالب علم کو یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ
علامہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی آخر کن تفاسیر و آحادیث کی کتابوں سے استفادہ کیا ہے اور آپ کی تفسیر کے مآخذ و مصادر کیا رہے ہیں
اسی بات کی دلچسپی اور جستجو رکھنے والوں کے لیے یہ ایک مختصر مضمون پیش خدمت ہے
امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے جن تفاسیر و آحادیث اور مختلف علوم و فنون کی کتابوں پر اعتماد کیا ہے ان کو تفصیل سے بیان کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے مگر
فإن لم يصبه وابل فطل
کے مصداق بہت ہی اختصار کے ساتھ ان مراجع و مصادر کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کا جاننا فن تفسیر کے طالب کے لیے ضروری ہے
البتہ قاری کو اگر تفصیل مطلوب ہو تو وہ دکتور سلیمان بن ابراھیم اللاحم کی کتاب
منهج ابن کثیر فی التفسیر
کا مطالعہ کر سکتا ہے یہ مضمون درحقیقت اسی کتاب کا اختصار ہے جو اردو زبان میں پیش کیا جارہا ہے
امید ہے کہ یہ مختصر سا مضمون اہل علم اور طلبہ کے لیے مفید ثابت ہوگا ان شاءاللہ
١, تفسير الإمام ابى جعفر جرير الطبرى
علامہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے جس تفسیر پر سب سے زیادہ اعتبار کیا ہے و تفسیر طبری ہے اس بات کا احساس خود قاری کو اس وقت ہوگا جب وہ تفسیر ابن کثیر کا مطالعہ کرے گا لیکن
یہاں پر ایک بات کی وضاحت کرنا بہت ضروری ہے کہ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر در حقیقت تفسیر ابن جریر طبری کا اختصار ہے حالانکہ اگر دونوں کا موازنہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ تفسیر ابن کثیر، طبری کا اختصار نہیں بلکہ ایک مستقل تفسیر ہے کیونکہ امام ابن کثیر نے صرف تفسیر طبری پر اعتماد نہیں کیا ہے بلکہ تفسیر ابن حاتم، تفسیر ابن مردویہ، تفسیر قرطبی، تفسیر رازی و تفسیر زمخشری کے ساتھ تفسیر بغوی سے بھی استفادہ کیا ہے اسی طرح امام ابن کثیر نے کتب ستہ سمیت آحادیث کی مختلف کتابوں سے اور دیگر علوم و فنون کی کتابوں سے خوب استفادہ کیا ہے جیسے علوم القران، علوم الحدیث، تاریخ وغیرہ
تفسیر ابن کثیر اور تفسیر طبری میں فرق
١ امام ابن جریر اور امام ابن کثیر کے درمیان جو چیزیں متغایر یا جدا گانہ ہیں ان میں پہلی چیز جو ہمیں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ
امام ابن جریر کی تفسیر میں تفسیر القرآن بالقرآن ہمیں نظر نہیں آتی جبکہ امام ابن کثیر نے اس سلسلے میں بہت اہتمام کیا ہے امام ابن کثیر نے اس بات کی پوری کوشش کی ہے کہ وہ قرآن کی تفسیر کو قرآن سے ہی کی جائے جس میں وہ ایک حد تک کامیاب نظر آتے ہیں
٢ امام ابن جریر بعض دفعہ ضعیف آحادیث کو بیان کرتے ہیں اور ان کی تصحیح و تضعیف کو بھی واضح نہیں کرتے جبکہ ہم دیکھتے ہیں امام ابن کثیر ضعیف آحادیث کو بہت کم بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور بیان کرتے بھی ہیں تو اس کی تصحیح و تضعیف کو بھی واضح کرتے
٣ امام ابن جریر طبری آیات کی تفسیر میں طویل اسانید کو بیان کرتے ہیں جبکہ امام ابن کثیر صرف ان راویوں کے نام کو ذکر کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں جن سے حدیث شروع ہو رہی ہو
٤ امام ابن جریر طبری آحادیث کی اسناد میں راویوں پر جرح و تعدیل نہیں کرتے جبکہ امام ابن کثیر راویوں پر جرح و تعدیل کے ساتھ ائمہ جرح و تعدیل کے اقوال بھی پیش کرتے ہیں
٥ امام ابن جریر طبری اپنی تفسیر میں اسرائیلیات کو کثرت سے بیان کرتے ہیں جبکہ امام ابن کثیر کے نزدیک ہمیں یہ چیز کم نظر آتی ہے اور جہاں پر اسرائیلیات کو ذکر کیا ہے وہاں پر اس کی صحت و ضعف کو بھی واضح کیا ہے
٦ امام ابن جریر طبری کبھی کبھار بذات خود اشکالات و سوالات پیدا کر کے ایک طویل مناقشہ قائم کر کے خود ہی اس کا جواب دیتے ہیں جبکہ امام ابن کثیر نے اس راستے پر زیادہ سفر نہیں کیا ہے جس سے دونوں کے درمیان فرق واضح نظر اتا ہے
٧ امام ابن جریر طبری نے تفسیر میں ایک علمی اسلوب کو اپنایا ہے جس کی بنا پر کہیں کہیں عبارت کو سمجھنا قاری پر خاص کر عوام الناس پر مشکل ہو جاتا ہے جبکہ امام ابن کثیر نے ایک سہل اور آسان طریقہ اپنایا ہوا ہے جس سے ہر خاص و عام آسانی سے تفسیر سمجھ سکتا ہے
٢ تفسير ابن ابى حاتم
آپ کا نام ابو محمد عبد الرحمٰن حاتم الرازی ہے اور تاریخ وفات ٣٢٨ ھ تفسیر قرآن کے علاوہ آپ کی الجرح و التعديل اور العلل کافی مشہور کتابیں ہیں
امام ابن کثیر نے تفسیر طبری کے بعد سب سے زیادہ کسی تفسیر سے استفادہ کیا ہے تو وہ ابن أبی حاتم کی تفسیر ہے
مثلاً آحادیث ،آثار اور اسرائیلی روایات میں حافظ ابن کثیر نے ابن ابی حاتم سے استفادہ کیا ہے مگر بعینہٖ ان پر اعتماد نہیں کیا ہے بلکہ حسب موقع آحادیث یا آثار پر مناقشہ بھی کیا ہے اور ان کی تصحیح و تضعیف بھی بیان کی ہے
٣ تفسير الحافظ ابى بكر احمد الأصبهانى
آپ کی ولادت ٣٢٣ ھ اور وفات ٤١٠ ھ ہے
آپ کی تفسیر علامہ ابن کثیر کے مآخذ و مصادر میں تیسرے مقام پر آتی ہے
ابن کثیر نے ان سے کثرت سے آحادیث کو لیا ہے اور ساتھ ہی ان پر مناقشہ بھی کیا ہے مثلاً
و انزلنا عليكم المن و السلوى
کی تفسیر میں لکھتے ہیں
وقد رواه الحافظ أبو بكر بن مردوية فى تفسير من طرق آخر
عن ابى هريرة رضى الله عنه و مسلم عن طريق سعيد ابن زيد يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم
الكماة من المن الذى انزل الله عزوجل على بنى اسرائيل و ماؤها شفاء للعين ،
( صحيح مسلم : ٢٠٤٩ )
٤ تفسير البغوى ( معالم التنزيل)
آپ کا نام ابو محمد الحسین بن مسعود ہے ، آپ شافعی المسلک تھے اور محی السنة کے لقب سے مشہور و معروف تھے
تفسیر کے علاوہ المصابيح اور الجمع بين الصحيحين آپ کی مشہور تصنیفات ہیں ،
امام ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں امام بغوی رحمہ اللہ کی بیان کردہ آحادیث ،آثار ، قراءات حتی کہ اسباب نزول اور اسرائیلیات کو بھی بیان کیا ہے مگر ساتھ ہی ان کی روایات پر کلام بھی کرتے نظر آتے ہیں اور کبھی کبھار امام بغوی کا پسندیدہ قول بھی بطور حجت نقل کرتے ہیں مثلا
و نكتب ما قدموا و آثارهم
آیت کریمہ کی تفسیر میں حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی حدیث بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں
و هذا القول هو اختيار البغوى
اور اسی قول کو امام بغوی رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے
٥ تفسير الزمخشرى ( الكشاف )
آپ کا نام ابو القاسم محمود بن عمر الزمخشری ہے ( متوفی ٥٣٨ ھ )
آپ کی تصنیفات میں
فن تفسیر میں الکشاف اور نحو میں المفصل کافی مشہور و معروف کتابیں ہیں
لغت، قراءات ،آثار میں امام ابن کثیر نے تفسیر کشاف سے بھی خوب استفادہ کیا ہے البتہ حسب موقع امام زمخشری کے اعتزال اور عقائد پر نقد و جرح بھی کرتے ہیں جس کی ایک جھلک
قاری آیت کریمہ
ختم الله على قلوبهم ( البقرة : ٤٠ )
کی تفسیر میں دیکھ سکتا ہے
٦ تفسير ابن عطية
آپ کا نام قاضی ابو محمد بن عطية الاندلسى ہے
یوں تو آپ کی کئ تصنیفات ہیں جن میں آپ کی مشہور تفسیر
المحرر الوجيز فى تفسير الكتاب العزيز ہے
تفسیر ابن عطیہ سے امام ابن کثیر نے کچھ خاص استفادہ نہیں کیا ہے بلکہ کچھ مخصوص مقامات پر ہی تفسیر ابن عطیہ کا حوالہ دیا ہے
٧ تفسير الرازى
آپ کا نام ابو عبد اللہ محمد بن عمر الرازی ہے
آپ کی تاریخ ولادت ٥٤٤ھ اور تاریخ وفات ٦٠٦ ھ ہے
خود امام ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آپ کی دو سو سے زیادہ تصنیفات ہیں جن میں مشہور آپ کی تفسیر ہے جو ( مفاتيح الغيب) کے نام سے جانی جاتی ہے
٨ تفسير القرطبى
آپ کا نام ابو عبد اللہ محمد بن احمد القرطبی ہے ( متوفى ٦٧١ )
آپ کی تفسیر
الجامع لاحكام القرآن کافی مشہور و معروف ہے
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے یوں تو بہت سی تفاسیر سے استفادہ کیا ہے جن کا ذکر پہلے گذرچکا ہے لیکن ان مذکورہ بالا تفاسیر کے ساتھ ساتھ مزید چند تفاسیر اور بھی ہیں جن سے امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے استفادہ کیا ہے
بخوف طوالت ان تفاسیر کے صرف نام قارئین کے روبرو پیش خدمت ہیں :
تيسير الكريم الرحمن فى تفسير كلام المنان للسعدي، وكيع بن الجراح کی تفسير القرآن ، تفسير الثعلبى ، تفسير الواحدى ، ابن العربى کی ” احكام القرآن” ابن الجوزي کی تفسير ” زاد المسير فى علم التفسير ” وغیرہ
جاری ،،،،،
✒️ محمد خالد جامعی سلفی ندوی
ہری ہر، کرناٹک
استاذ جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !