امام ابو حنیفہؒ کو "ابو حنیفہ” کیوں کہا گیا؟ — لغوی، ثقافتی، اور دینی تحقیق مع عربی مصادر

امام ابو حنیفہؒ

امام اعظم ابو حنیفہؒ (80ھ–150ھ)، اسلامی فقہ کے بانی ائمہ میں سے ایک، اپنے علم، استقامت، اور تقویٰ کے باعث "امام اعظم” کے لقب سے مشہور ہوئے۔ لیکن ان کی کنیت "ابو حنیفہ” کے حوالے سے مختلف اقوال و توجیہات تاریخ میں ملتی ہیں۔ اس مضمون میں ہم ان آرا کا تفصیلی جائزہ عربی حوالوں کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔


▣ قول اول: "أبو حنيفة” بمعنی صاحب الدواة (دوات والا)

◉ خلاصہ:

کوفہ کے اہلِ زبان "حنيفة” کا مطلب دواة یا محبرة (سیاہی کی دوات) لیتے تھے۔

◉ دلیل:

علامہ الزَّبيدي رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

"والحنيفة عند أهل الكوفة هي الدواة، وكان الإمام كثير الملازمة لها، فقيل له أبو حنيفة.”
(تاج العروس، مادة: حنف)

یعنی:

"کوفہ کے لوگ ‘حنیفہ’ کو دَوات کہتے تھے، اور امام دَوات کے بہت قریب رہتے تھے، اس لیے ان کو ابو حنیفہ کہا گیا۔”

◉ تائید:

یہ رائے لغتِ عراق کے مطابق ہے، جیسا کہ ابن منظور نے بھی لسان العرب میں دَوات کے لیے "حنيفة” کا استعمال درج کیا ہے۔


▣ قول دوم: کنیت بر نسبت الی البنت "حنيفة”

◉ خلاصہ:

امام ابو حنیفہؒ کی ایک بیٹی تھی جس کا نام "حنیفہ” تھا، اور عربوں کا رواج تھا کہ والد کو اس کی اولاد کی نسبت سے کنیت دی جاتی۔

◉ دلیل:

ابن خلکان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

"قيل إن له بنتاً اسمها حنيفة، فنُسِب إليها.”
(وفيات الأعيان، ابن خلكان، ج1، ص164)

یعنی:

"کہا جاتا ہے کہ ان کی ایک بیٹی تھی جس کا نام ‘حنیفہ’ تھا، تو ان کی کنیت اسی پر رکھی گئی۔”

◉ نوٹ:

یہ قول کمزور سمجھا جاتا ہے کیونکہ اکثر تاریخی کتب میں امام کی اولاد کا واضح تذکرہ نہیں ملتا۔


▣ قول سوم: "الحنيف” بمعنی المسلم المائل إلى الدين الحق

◉ خلاصہ:

"حنيف” عربی میں اسے کہتے ہیں جو باطل سے ہٹ کر دینِ توحید کی طرف جھک جائے، جیسا کہ حضرت ابراہیمؑ کے لیے قرآن میں آیا ہے۔

◉ قرآنی دلیل:

"إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيفًا ۖ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ”
(سورہ نحل، آیت 120)

◉ تطبیق بر امام:

امام ابو حنیفہؒ اپنے زمانے میں بدعات، ظلم، اور جبر کے خلاف کھڑے رہے۔ نہ انہوں نے ظلم کے خلاف فتوے سے روکا، نہ ہی جابر حکام کی قربت اختیار کی۔ یہی "حنفیت” کی حقیقی روح ہے۔


▣ قول چہارم: نسبت علمی جدوجہد اور دَوات سے محبت کی طرف

◉ خلاصہ:

امام ابو حنیفہؒ کا شمار ان ائمہ میں ہوتا ہے جنہوں نے فقہی اصولوں کی بنیاد رکھی۔ ان کی علمی کاوش، تدریس، تحریر اور تدوین انہیں ہر وقت دَوات اور قلم کے ساتھ وابستہ رکھتی تھی۔

◉ دلیل:

علامہ الذهبي رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"كان أبو حنيفة من المكثرين من الكتابة، وكان لا يفارقه دواته وقلمه.”
(سير أعلام النبلاء، الذهبي، ج6، ص390)

یعنی:

"امام ابو حنیفہ کثرت سے لکھنے والوں میں سے تھے، ان کی دَوات اور قلم ان سے جدا نہ ہوتے تھے۔”


▣ مجموعی تجزیہ:

قولخلاصہسند
دَوات کی نسبت"حنیفہ” دَوات کو کہتے تھےتاج العروس، لسان العرب
بیٹی کی نسبتبیٹی کا نام "حنیفہ” تھاوفیات الاعیان، ابن خلکان
دینی جھکاؤ"حنیف” حق کی طرف جھکنے والاسورہ نحل، الذهبي
علمی سرگرمیدَوات ہمیشہ ساتھ رکھتےسير أعلام النبلاء

▣ خلاصہ:

ان تمام اقوال کا گہرا مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ "ابو حنیفہ” کی کنیت علامتی و معنوی طور پر بھی اہم ہے اور لغوی و ثقافتی لحاظ سے بھی۔ سب سے قوی قول وہی ہے جو ان کی علمی زندگی اور دَوات و قلم سے وابستگی سے متعلق ہے، جیسا کہ متعدد معتبر مصادر سے ظاہر ہوتا ہے۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو دیدی دھمکی

مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال

وال اسٹریٹ جرنل” کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کا 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے