امام الھند مولانا ابوالکلام آزادؒ پر تنگ نظر دینداروں کاوحدتِ ادیان کے شرمناک الزام کا تفصیلی پوسٹ مارٹم

مولانا ابوالکلام آزادؒ

چند روز پہلے میں نے مولانا ابوالکلام آزاد کے حوالے سے ایک مختصر مضمون لکھا تھا ، تو اس کے نیچے پاکستان سے ایک صاحب نے لکھا تھا کہ مولانا ابوالکلام آزاد وحدت ادیان کے قائل تھے ، میں نے جواب میں عرض کیا تھا کہ بغیر دلیل اور ثبوت کے اس طرح آپ الزام نہیں لگا سکتے ہیں ، لیکن وہ پھر خاموش ہوگیا اور کوئی جواب اس کی طرف سے نہیں آیا ۔

لیکن میں اس موضوع کے حوالے سے بچپن سے بہت کچھ پڑھتا آیا ہوں ، اس لئے میرے لئے اس اعتراض کا جواب دینا مشکل نہ تھا ۔ البتہ اس سے چند سال پہلے بھی اس مسئلہ کے بارے میں بعض قارئین نے اس اعتراض کو اٹھایا تھا کہ مولانا ابوالکلام آزاد وحدت ادیان کے قائل تھے ، چنانچہ اس وقت میں نے اس کے جواب میں ایک مضمون لکھا تھا ، جو مئی 2022ء کو سوشل میڈیا شئیر بھی کیا تھا ، تو آج میں اس مضمون میں کچھ مزید اضافہ و تصحیح کرکے اسے دوبارہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنے جا رہا ہوں ۔‌

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

اگرچہ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے ، لیکن طوالت کے اعتبار سے کئی چیزوں کو نظر انداز کرنا پڑا ہے ۔ لیکن میں امید کرتا ہوں کہ آپ میرے آج کے اس مضمون کو غور و فکر کے ساتھ پڑھیں گے ، اور پھر اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر بھی ضرور کریں گے ۔

لیکن‌ یہاں پر میں ایک اور بات کا ذکر کرنا چاہوں گا ، چونکہ میرے مضامین ایشیا کے بیشتر ممالک میں پڑھے اور پسند کئے جاتے ہیں ، چنانچہ کل بعد عشاء انباکس میں راولپنڈی سے ابو حسنین نامی ایک قاری نے وائس مسیج بھیجا تھا ، جس میں اس نے بتایا تھا کہ آپ نے وحدت ادیان والے مضمون میں مولانا انور شاہ کشمیری کا جو حوالہ دیا ہے ، وہ انوار الباری جلد دوم صفحہ 164 کا ہے ، جبکہ یہ جلد سوم صفحہ 147 کا ہے ۔ اس کے جواب میں میں نے یہ چند سطریں لکھی تھیں ۔

” میرے پاس انوار الباری کا جو انڈین ایڈیشن ہے ، وہ اکتوبر 2006ء کا ہے اور 7 جلدوں پر مشتمل ہے اور میرا حوالہ اسی ایڈیشن کے مطابق ہے اور اس ایڈیشن کے مطابق مضمون میں درست حوالہ دیا گیا ہے اور کل میں اس مضمون کو دوبارہ کچھ تصحیح و اضافہ کے ساتھ شئیر کرنے جا رہا ہوں ۔

لیکن میں آپ کے اطمینان کے لئے اس کتاب کی جلد دوم کے سرورق اور صفحہ 164 کی فوٹو کاپی بھی بھیج رہا ہوں ۔

لیکن آپ جو تیسری جلد کا حوالہ اور صفحہ نمبر دے رہے ہیں ، میرے ایڈیشن میں وہاں پر مولانا ابوالکلام آزاد کا سرے سے ذکر ہی نہیں ہے "

اب قارئین کرام آج کا خاص مضمون ملاحظہ کریں۔

______________________

اللہ تعالی نے اس پوری کائنات اور اس میں دوسری جاندار چیزوں کی تخلیق کے بعد بنی نوع انسان کی تخلیق ایک با اختیار مخلوق کی حیثیت سے کی ہے ، اور انسانوں سے پہلے جنات کو بھی پیدا کیا گیا ہے ، لیکن انسان کا مقام و مرتبہ جنات سے بڑھ کر ہے ، جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے ۔

وَ لَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ وَ حَمَلۡنٰھمۡ فِی الۡبَرِّ

وَ الۡبَحۡرِ وَ رَزَقۡنٰهمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰهمۡ

عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیۡلًا

( بنی اسرائیل : 70)

اور یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ روزی دی اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت دی ۔

اللہ تعالی نے جن و انس کا مقصد تخلیق یہ بھی بیان کیا ہے ۔

وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ

( الذاریات : 56)

اور میں نے جنوں اور انسانوں کو محض

محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف

میری عبادت کریں ۔

جب سیدنا آدم علیہ السلام اپنی بیوی حوا علیہ السلام کے ساتھ اس زمین پر بسنے لگے ، تو آبادی بڑھنے لگی ، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اولاد آدم راہ حق سے ہٹ کر کفر وشرک کرنے لگی ، تو پھر اللہ تعالی نے انبیاء کرام علیہم السلام کو مختلف ادوار میں مبعوث فرمایا ، اور ہر پیغمبر کی جو دعوت تھی ، اس کی بنیاد توحید پر تھی ، البتہ شریعت اور منہاج الگ الگ تھے ، یہاں تک کہ نبی آخرالزماں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے ۔ چونکہ آپ آخری نبی ہیں ، اس لئے آپ کی نبوت عالمگیر ، عالمی اور دائمی ہے ، اور آپ کی شریعت بھی زیادہ کامل اور رہتی دنیا تک قائم و دائم رہنے والی ہے ، اس لئے آپ کے مخاطب قدیم و جدید اقوام ہیں ، اور آپ نے بھی قدیم آسمانی مذاہب کے ماننے والوں ، جن میں یہود و نصارٰی شامل تھے ، سے کہا کہ تمہارے اور ہمارے درمیان جو مشترک دعوت ہے ، وہ ہے کلمہ توحید ، اور اس سلسلہ میں قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی ہے ۔

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰی کَلِمَة سَوَآءٍۢ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ اَلَّا نَعۡبُدَ اِلَّا اللّٰه وَ لَا نُشۡرِکَ بِه شَیۡئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰه فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُوۡلُوا اشۡهدُوۡا بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ ۔

( آل عمران : 64)

( اے نبی ؟ ) کہہ دو کہ اے اہل کتاب ! ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ،اور نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں ، اور نہ اللہ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں ، پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں .

اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے ذریعے یہ اعلان بھی فرمایا ہے ۔

قُلۡ مَا کُنۡتُ بِدۡعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدۡرِیۡ مَا یُفۡعَلُ بِیۡ وَ لَا بِکُمۡ ؕ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ .

( الاحقاف : 9)

( اے نبی ! ) کہہ دو کہ میں کوئی انو کھا پیغمبر تونہیں اور نہ میں یہ جانتا ہوں ہے کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا ، میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے اور میں تو صرف برملا ڈرانے والا ہوں ۔

قرآن کی ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام جو دین لیکر آئے تھے ، ان کی اصل توحید تھی ، اور اسی کو وحدت دین بھی کہا جاتا ہے ، لیکن موجودہ دور میں ایک نئے فتنہ کو جنم دیا گیا ہے ، اور اس کا عنوان ” وحدت ادیان ” دیا گیا ہے ، اور اس باطل نظریہ کو بعض عناصر نے مولانا ابوالکلام آزاد کی طرف بھی منسوب کیا ہے ، لیکن یہ بات درست نہیں ہے ، کیونکہ اس ” وحدت ادیان ” سے مراد تمام مذاہبِ ، جس میں بعض تحریف شدہ آسمانی مذاہبِ کے ساتھ ساتھ ہندو دھرم ، بدھ مت وغیرہ بت پرستی پر مبنی مذاہبِ کو بھی شامل کیا گیا ہے ، لیکن یہ درست نہیں ہے ، بلکہ مدینہ منورہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب یہود و نصارٰی تھے ، اور ان کے پاس توریت اور انجیل جیسی کتابیں تحریف کے باوجود ان میں بہت سی بنیادی باتیں موجود تھیں ، اس لئے ان سے مخاطب کرکے کہا گیا تھا کہ آؤ اس کلمہ توحید کی طرف اکٹھا ہوتے ہیں ، جو تمہارے اور ہمارے درمیان یکساں اور مشترک ہے ۔ جیساکہ ارشاد خداوندی ہے ۔

قُلْ يَآ اَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّـٰهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ شَيْئًا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّـٰهِ ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ۔

( آل عمران : 64)

(اے نبی مکرم ! ) کہہ دو اے اہلِ کتاب ! تم اس ایک (بنیادی) بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے، (وہ یہ) کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا رب نہیں بنائے گا، پھر اگر وہ روگردانی کریں تو کہہ دو کہ گواہ ہو جاؤ کہ ہم تو اللہ کے تابع فرمان (مسلمان) ہیں ۔

مولانا ابوالکلام آزاد (1888ء -1958ء) نے بھی اسی قرآنی نقطہ نظر کو ابھارنے اور سمجھانے کی کوشش کی تھی ، لیکن جب مخالفین ذہنی طور سے پہلے ہی مخالفتٍ بیجا کی غرض سے تاک میں بیٹھے ہوئے ہوں ، تو پھر وہ مولانا ابوالکلام آزاد کی تحریروں کا بے لاگ طریقے سے کہاں اور کیسے مطالعہ و تحقیق کر سکتے ہیں ؟ بلکہ وہ ہر صورت میں مولانا ابوالکلام آزاد کے تصور دین میں باطلانہ تصورات کی آمیزش ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہوتے ہیں ۔

مولانا ابوالکلام آزاد کا تصور دین جاننے اور سمجھنے کے لئے ان کی تفسیر ترجمان القرآن اور خاص طور سے ان کی سورہ فاتحہ کی تفسیر سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے ، تاہم باقی سورتوں میں انہوں نے جو اختصار و تفصیل سے کئی مقامات پر تصور دین کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے ، تو ان تمام چیزوں کو مد نظر رکھ کر ہی ان کے تصور دین کے بارے میں انصاف کیا جاسکتا ہے ۔

واضح رہے کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک عزیز ، جو پیشہ کے لحاظ سے پروفیسر و ڈاکٹر بھی ہیں ، کا فون آیا ، تو ان کا استفسار بھی مولانا ابوالکلام آزاد کے حوالے سے وحدت ادیان کے بارے میں ہی تھا ، اور انہوں نے اس سلسلہ میں دو کتابوں کا حوالہ دیا تھا ، بقول ان کے جن میں وحدت ادیان کے تصور کی نسبت مولانا ابوالکلام آزاد کی طرف کی گئی تھی ، ایک مولانا انور شاہ کشمیری کی افادیات پر مبنی کتاب ” انوار الباری ، صحیح بخاری ” اور دوسری شیخ محمد اکرام کی مشہور کتاب ” موج کوثر ” اور اب میں پہلے انہی دو کتابوں کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرتا ہوں ۔

(1) علامہ انور شاہ کاشمیری (1875ء – 1933ء) برصغیر تو کیا پورے عالم اسلام میں بہت شہرت اور بڑا اونچا مقام رکھتے ہیں ، اور وہ مولانا ابوالکلام آزاد کے معاصرین میں سے تھے ، اور ان کی نظر میں مولانا ابوالکلام آزاد کا کیا مقام تھا ؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شورش کاشمیری نے اپنی معرکہ آرا کتاب ” ابو الکلام آزاد ” میں مشہور دیوبندی عالم مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی کے حوالے سے ایک واقعہ لکھا ہے کہ مولانا آزاد ایک دفعہ حضرت مولانا قاسم نانوتوی اور حضرت شیخ الہند کی قبروں کے پاس ٹہل رہے تھے ، علامہ انور شاہ کاشمیری نے ان کو دور سے دیکھا تو فرمایا :

” وہ دیکھو علم ٹہل رہا ہے "

ایک اور موقع پر یہ بھی فرمایا :

” ابوالکلام نے الہلال کا صور پھونک کر ہم سب کو جگایا ہے "

مولانا انور شاہ کشمیری کی افادیات پر مبنی سات جلدوں میں ایک ضخیم کتاب ” انوار الباری ، صحیح البخاری ” ہے ، جس کے مرتب و مؤلف مولانا سید احمد رضا بجنوری ہیں ۔ چنانچہ اس کتاب میں ایک جگہ صحیح بخاری کی ایک حدیث کی شرح میں مولانا ابوالکلام آزاد کا حوالہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ وحدت ادیان کے قائل تھے ، اور اس کے لئے مولانا آزاد کی تفسیر سورہ فاتحہ آیت ” اهدنا الصراط المستقيم ” کے تحت ان کی تفسیر کا چند سطور میں اپنے الفاظ میں خلاصہ پیش کیا گیا کہ مولانا آزاد وحدت ادیان کے قائل تھے ، اور اس نظریہ کو انہوں نے پوری قوت کے ساتھ پیش کیا ہے ، اور آگے یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جس کو پڑھ کر گاندھی جی نے لکھا تھا ۔

” مجھے مولانا کی تفسیر پڑھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ صداقت تمام ادیان میں مشترک ہے ، یہی نظریہ میرے نزدیک صحیح ہے "

( انوار الباری ، صحیح بخاری : ج 2 ص 164)

اس کتاب میں تین صفحات میں مولانا ابوالکلام آزاد کا ذکر کیا گیا ہے ، لیکن اگر انصاف سے دیکھا جائے ، تو ان صفحات میں ان پر بلاجواز تنقید و تنقیص کی گئی ہے ، اور یہ زحمت ہی گوارہ نہیں کی گئی کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی تفسیر سورہ فاتحہ پر مجموعی طور پر نظر ڈال کر دیکھا جائے کہ مولانا آزاد کا صحیح دینی تصور کیا تھا اور کیا انہوں نے واقعی میں ” وحدت ادیان ” کے الفاظ کہیں لکھے بھی ، یا یہ ناقد کی ذہنی اختراع ہے ؟ اس سلسلہ میں مولانا ابوالکلام آزاد کے الفاظ میں ایک بھی صحیح حوالہ موجود نہیں ہے ، چنانچہ اس طرح کی تنقید قابل اعتناء نہیں ہوتی اور محققین اس کو پہلے ہی نظر میں نا قابل اعتبار سمجھ کر اسے مسترد کر دیتے ہیں ۔

( 2) اسی طرح شیخ محمد اکرام (1908ء-1973ء)

کی مشہور کتاب ” موج کوثر ” میں مولانا ابوالکلام آزاد کے بارے میں تقریباً پچاس صفحات ( 248 تا 295 ) پر مبنی ایک طویل مضمون شامل ہے ، جو کہ مجموعی طور پر پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ، لیکن مصنف کتاب نے اپنے اس مضمون میں بعض مقامات پر مولانا کے دینی خدمات کے حوالے سے موافقت کے ساتھ ساتھ اختلاف رائے بھی کیا ، چنانچہ انہوں نے اس میں مولانا آزاد کے تصور دین کہ ” دین کی اصل توحید ہے ” سے اختلاف کیا ، مگر واضح الفاظ میں ان کے بارے میں ” وحدت ادیان ” کے الفاظ نہیں لکھے ، البتہ آگے مصنف کتاب نے اپنے اختلاف رائے کی تائید میں یہاں تک لکھا ہے ان کے محب اور عقیدت مند مولانا غلام رسول مہر (1893ء -1971ء) نے بھی ان سے اختلاف کیا ، لیکن مولانا اپنی رائے سے نہیں ہٹے اور انہوں نے ایک طویل خط مولانا غلام رسول مہر کے نام لکھا ۔

( موج کوثر : ص 274 – 275 )

مصنف کتاب نے آگے خط کا ایک اقتباس بھی دیا ہے ، مگر مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے اس خط کو جس عرق رکھتا ہے ، لیکن مصنف کتاب کا یہ لکھنا کہ ” مولانا اپنی رائے سے نہیں ہٹے ” خط کے ساتھ ناانصافی کرتے ہوئے غیر مناسب الفاظ لکھے ہیں ، کیونکہ بات ہٹنے یا ہٹ دھرمی کی نہیں تھی ، بلکہ تصور دین کی تھی ، مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ طویل خط ان کی کتاب ” خطوط ابوالکلام آزاد ” میں شامل ہے ، اور یہ خط سات صفحات پر پھیلا ہوا ہے ، ( دیکھئے خطوط ابوالکلام آزاد : ص 165 تا171)

اصل میں مولانا ابوالکلام آزاد فکری طور سے امام ابن تیمیہ اور شاہ ولی اللہ دہلوی سے کافی زیادہ متاثر نظر آتے ہیں ، چنانچہ وحدت دین کے حوالے سے جو تصور شاہ ولی اللہ دہلوی کا تھا ، اسی تصور دین کو زیادہ بہتر طریقے سے مولانا آزاد نے پیش کیا ، شاہ ولی اللہ دہلوی کا تصور دین کیا تھا ؟ اس کے بارے میں انہوں نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "حجة الله البالغة ” میں ایک باب اس طرح ترتیب دیا ہے ۔

باب بيان اصل الدين واحد و الشرائع و المناهج مختلفة ۔

باب اس بیان میں ہے کہ دین کی اصل ایک ہے ، اور شریعتیں اور طریقے مختلف ہیں ۔

اور آگے پھر چند سطور کے بعد اس باب کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں ،

اعلم أن اصل الدين واحد اتفق عليه الانبياء عليهم السلام و انما الاختلاف في الشرائع و المناهج ، تفصيل ذلك أنه اجمع الانبياء عليهم السلام على توحيد الله تعالى عبادة و استعانة و تنزيهه عما لا يليق ۔

( حجة الله البالغة – ج1- ص 86 ، عربي انڈین ايڈیشن )

جان لو کہ دین کی اصل ایک ہے ، اس پر تمام انبیاء علیہم السلام متفق ہیں ، البتہ شرائع و منہاج میں اختلاف ہے ، اس کی تفصیل یہ ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کا اجماع ہے کہ اللہ تعالی کو ایک ماننے ، عبادت کرنے اور مدد مانگنے پر ، اور وہ نا مناسب بات سے پاک ہے ۔

شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنے اس وحدت دین کے تصور کو درست ثابت کرنے کے لئے قرآن کی چار آیتوں سے استدلال کرکے بڑی جامعیت کے ساتھ واضح کیا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کو جو دین دیا گیا تھا ، اس کی اصل ایک ہے ، جبکہ مولانا ابوالکلام آزاد نے انہی کے اس تصور دین کو مزید وسعت و تقویت دیتے ہوئے ان کی پیش کردہ چار آیتوں سمیت کل ملا کر 23 قرآنی آیات سے استدلال کرکے ان کے تصور دین کو زیادہ جامع اور منظم صورت میں پیش کیا ہے ۔ ( تفصیل کے لئے دیکھئے ، ترجمان القرآن ، ج 1 ۔ ص 219-231 ، پاکستانی ایڈیشن)

اسی حقیقت کی طرف مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے اس اقتباس میں اشارہ کیا ہے ۔

” اس اصل عظیم کا اعلان کہ سعادت مندی و نجات ایمان و عمل سے وابستہ ہے ، نسل و خاندان یا مذہبی گروہ بندی کو اس میں کوئی دخل نہیں ، یہودی جب ایمان و عمل سے محروم ہوگئے ، تو ان کی نسل ان کے کام آئی نہ یہودیت کی گروہ بندی سود مند ہوسکی ، خدا کے قانون نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ کون ہیں ، اور کس گروہ بندی سے تعلق رکھتے ہیں ؟ بلکہ صرف یہ دیکھا کہ عمل کا کیا حال ہے ؟ اور پھر جب آزمائش عمل میں پورے نہ اترے تو مغضوب و نا مراد ہوگئے "

( ترجمان القرآن : ج 1 ، ص 277)

مولانا ابوالکلام آزاد نے سورہ فاتحہ کی مفصل تفسیر لکھی ہے ، اور انہوں نے اپنی اس تفسیر کی جلد اول صفحہ 177 سے 211 تک غیر اسلامی مذاہبِ کے تصورات پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ، اور ان کا بطلان واضح کرتے ہوئے اسلام کی حقانیت اور برتری ثابت کی ہے ، مثال کے طور پر درج ذیل چند عنوانات بھی دیکھئیے کہ کس قدر غور طلب ہیں ۔

(1) چین کا شمنی تصور (2) ہندوستانی تصور (3) اوپانی کا توحیدی اور وحدت الوجودی تصور (4) ایرانی مجوسی تصور (5) یہودی تصور (6) مسیحی تصور (7) فلاسفہ یونان و اسکندریہ کا تصور (😎 قرآنی تصور (9) اشراکی تصورات کا کلی انسداد (10) مقام نبوت کی حد بندی (11) عوام اور خواص دونوں کے لئے ایک تصور ۔

قرآن میں دین وحدت کا ذکر متعدد آیات میں آیا ہے ، مثال کے طور پر ان میں ایک یہ فکر انگیز آیت قابل غور ہے ۔

کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۟ فَبَعَثَ اللّٰه النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ وَ اَنۡزَلَ مَعَهمُ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَ النَّاسِ فِیۡمَا اخۡتَلَفُوۡا فِیۡه ؕ وَ مَا اخۡتَلَفَ فِیۡه اِلَّا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡہُ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهمُ الۡبَیِّنٰتُ بَغۡیًۢا بَیۡنَهمۡ ۚ فَهدَی اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَا اخۡتَلَفُوۡا فِیۡه مِنَ الۡحَقِّ بِاِذۡنِه ؕ وَ اللّٰه یَهدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ .

( البقره : 213 )

مولانا ابوالکلام آزاد اس آیت کا تفسیری ترجمہ یا ترجمانی اس طرح کرتے ہیں ۔

” ابتدا میں ایسا تھا لوگ الگ الگ گروہوں میں بٹے ہوئے نہیں تھے ، ایک ہی قوم و جماعت تھے ( ایسا ہوا کہ باہم دگر مختلف ہو گئے اور الگ الگ ٹولیاں بن گئیں ) پس اللہ نے ( ایک بعد ایک ) نبیوں کو مبعوث کیا ، وہ ( ایمان و عمل کی برکتوں کی) بشارت دیتے اور ( انکار و بد عملی کے نتائج سے) متنبہ کرتے تھے ، نیز ان کے ساتھ سچی کتاب الہی نازل کی گئی ، تاکہ جن باتوں میں لوگ اختلاف کرنے لگے تھے ، ان میں وہ فیصلہ کر دینے والی ہو ( اور تمام لوگوں کو راہ حق پر متحد کر دے ) اور یہ جو لوگ باہم دگر مختلف ہوئے تو اس لئے ہوئے کہ ہدایت سے محروم اور حقیقت سے بے خبر تھے ، نہیں وحی الٰہی کے واضح احکام ان کے سامنے تھے ، مگر پھر بھی محض آپس کی ضد اور مخالفت کرنے لگے تھے ، بالآخر اللہ نے ایمان لانے والوں کو ( دین کی ) وہ حقیقت دکھادی ، جس میں لوگ مختلف ہوگئے تھے ( اور ایک دوسرے کو جھٹلا رہے تھے ) اور اللہ جسے چاہتا ہے دین کی سیدھی راہ دکھلا دیتا ہے "

پھر اس آیت کی تفسیر میں مولانا ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں ۔

” دین حق کی اصل عظیم کا اعلان کہ ابتدا میں تمام انسان ایک ہی قوم و جماعت تھے ، اور فطری زندگی کی سادگی پر قانع تھے ، پھر ایسا ہوا کہ نسل انسانی کی کثرت و وسعت سے طرح طرح کے تفرقے پیدا ہوگئے اور تفرقے کا نتیجہ ظلم و فساد کی صورت میں ظاہر ہوا ، تب وحی الٰہی نمودار ہوئی اور یکے بعد دیگرے خدا کے رسول مبعوث ہوتے رہے ، ہر رسول کی دعوت کا مقصد ایک ہی تھا ، یعنی خدا پرستی و نیک عملی کی تلقین اور تفرقہ و اختلاف کی جگہ وحدت و اجتماع کا قیام ، کتاب اللہ ہمیشہ اس لئے نازل ہوئی ، تاکہ دین کے تفرقہ و اختلاف میں فیصلہ کرنے والی ہو ، اور لوگوں کو وحدت دین کی اصل پر متحد کر دے "

( ترجمان القرآن ، ج1 ص 318 ، پاکستانی ایڈیشن)

سید قطب شہید (1906ء – 1966ء) نے بھی اس کی یہی تفسیر کی ہے ، جیساکہ وہ لکھتے ہیں ۔

"حقیقت کے اعتبار سے ایک ہی کتاب ہے ، جسے تمام رسول لائے ، ہاں ، اپنی اصل کے لحاظ سے وہ ایک ہی کتاب ہے ، اور سب انسان ایک ہی ملت ہیں ، اور بنیادی اصول کے لحاظ سے تصور بھی ایک ہی ہے ، ایک خدا ، ایک رب ، ایک معبود اور بنی نوع انسان کے لئے ایک ہی قانون ساز ، البتہ قوموں ، زمانوں ، زندگی کے اطوار و انداز اور انسانی روابط کے اختلاف کے باعث تفصیلات میں کچھ اختلاف رہا ہے ، یہاں تک کہ اس دین کے آخری صورت وہ ہے جو اسلام لایا ہے اور جس نے اپنے وسیع اور جامع دائرے میں اللہ کی قیادت ، اس کے نظام زندگی اور اس کی زندہ اور نو بہ نو شریعت کے تحت کسی مانع کے بغیر زندگی کو پروان چڑھنے اور پھلنے پھولنے کا پورا موقع دیا ہے "

( فی ظلال القرآن : ج 1 ، ص 529 ، مترجم سید حامد علی)

مولانا ابوالکلام کے بعض معاندین نے ان کی تفسیر سورہ فاتحہ کے حوالے سے ان پر ایک یہ اعتراض بھی اٹھایا تھا کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری نہیں سمجھتے تھے ، لیکن یہ ایک بے بنیاد اعتراض ہے ، سورہ فاتحہ کی سب سے ہٹ کر اور بہترین تفسیر صرف مولانا آزاد ہی نے لکھی ہے ، لیکن اگر انصاف سے دیکھا جائے ، تو اس سورہ فاتحہ کی سات آیا میں ایمان کا لفظ کہیں نہیں آیا ، یہی وجہ ہے کہ اس سورت کی تفسیر میں کسی بھی مفسر نے ایمان پر بحث نہیں کی ، بلکہ اس کا موقع و محل قرآن کے دوسرے مقامات ہیں ، مولانا سید ابو الاعلی مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی وغیرہ علماء نے بھی سورہ فاتحہ کی تفسیر لکھی ہے ، لیکن‌ انہوں نے بھی اس سورت کی تفسیر میں ایمان باللہ و ایمان۔ بالرسالت کی بحث نہیں چھیڑی ، تو پھر مولانا آزاد پر ہی اعتراض کیوں ؟

لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ مولانا آزاد کی ذات کے ساتھ حسد و تعصب رکھنے والوں نے ان کی اس تفسیر سورہ فاتحہ کا بھی غور سے مطالعہ نہیں کیا ہے ، ورنہ وہ اس طرح کا بیجا اعتراض نہیں کرتے ، کیونکہ باوجود یہ کہ اس سورہ میں ایمان کا کوئی لفظ یا ایمان کی کوئی آیت موجود نہیں ہے ، پھر بھی مولانا آزاد نے اس سورت میں ایمان کا ذکر کرتے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کے بارے میں یہ فکر انگیز اقتباس تحریر فرمایا ہے ۔

” سب سے اہم مسئلہ مقام نبوت کی حد بندی کا تھا ، یعنی معلم کی شخصیت کو اس کی اصلی جگہ میں محدود کر دینا تاکہ شخصیت پرستی کا ہمیشہ سد باب ہوجائے ، اس کے بارے میں قرآن نے جس طرح صاف اور قطعی لفظوں میں جابجا پیغمبر اسلام کی بشریت اور بندگی پر زور دیا ہے ، محتاج بیان نہیں ، ہم یہاں صرف ایک بات کی طرف توجہ دلائیں گے ، اسلام نے اپنی تعلیم کا بنیادی کلمہ جو قرار دیا ہے ، وہ سب کو معلوم ہے ، ( اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمد عبده و رسوله ) یعنی ” میں اقرار کرتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اقرار کرتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہے ” اس اقرار میں جس طرح خدا کی توحید کا اعتراف کیا گیا ہے ، ٹھیک اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بندگی اور درجہ رسالت کا اعتقاد اسلام کی اصل و اساس بن جائے ، اور اس کا کوئی موقع ہی باقی نہ رہے کہ عبدیت کی جگہ معبودیت کا اور رسالت کی جگہ اوتار کا تخیل پیدا ہو ، ظاہر ہے کہ اس سے زیادہ اس معاملہ کا تحفظ کیا کیا جاسکتا تھا ؟ کوئی شخص دائرہ اسلام میں داخل ہی نہیں ہوسکتا ، جب تک کہ وہ خدا کی توحید کی طرح پیغمبر اسلام کی بندگی کا بھی اقرار نہ کرلے "

( ترجمان القرآن : ج 1 ، ص 205-206 ،

پاکستانی ایڈیشن )

اس اقتباس سے بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ مولانا آزاد کے نزدیک کوئی آدمی اسلام میں اسی وقت تک رہتا ہے یا داخل ہوسکتا ہے ، جب تک کہ وہ خدا کی توحید کے ساتھ ساتھ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر بھی ایمان رکھتا ہو ، اس سلسلہ میں مولانا ابوالکلام آزاد کا وہ طویل 7 صفحات پر مبنی خط قابل مطالعہ ہے ، جو انہوں نے اپنے ساتھی مولانا غلام رسول مہر کے نام 15 جنوری 1936ء کو لکھا تھا ، اور جس میں انہوں نے اسی اعتراض کا جواب دیا تھا ، جیساکہ اس خط میں ایک جگہ مولانا ابوالکلام آزاد ایمان بالرسالت پر پانچ قرآنی آیات سے استدلال کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں ۔

” کیا ہم ان آیات سے اور ان کی ہم معنی آیات سے یہ استنباط کر سکتے ہیں کہ قرآن کے نزدیک ایمان بالرسل ضروری نہیں ؟ یقیناً نہیں کر سکتے ، کیونکہ اسی قرآن نے بیشمار مقامات پر خود بتلا دیا ہے کہ ایمان باللہ کی تفصیل کیا ہے اور نہ صرف ” ایمان بالرسل ” بلکہ ایمان بالکتب و بالملائگہ و بالیوم الآخر ” اس میں داخل ہے ، اور اس کے لئے جب کبھی ایمان اور عمل کہا جائے گا تو ایمان سے مقصود یہی ایمان ہوگا ، نہ کہ دوسرا ایمان اور عمل سے مقصود یہی اعمال ہوں گے ، جنہیں اس نے عمل صالح قرار دیا ہے ، اتنا ہی نہیں بلکہ عدم تفریق بین الرسل بھی اس میں داخل ہے اور کوئی ” ایمان بالرسل ” جو تفریق بین الرسل کے ساتھ ہو قرآن کے نزدیک ایمان نہیں ، وہ کہتا ہے ، اس زنجیر کی ایک کڑی کا انکار سب کا انکار ہے "

(خطوط ابو الکلام آزاد : ص 166)

آخر پر عرض ہے کہ اس موضوع پر مولانا ابوالکلام آزاد کی تحریروں میں اتنا کچھ مواد موجود ہے کہ ایک کتاب تیار ہوسکتی ہے ، لیکن میرا مقصد صرف یہ واضح کرنا تھا کہ بغیر دلیل اور ثبوت کے ایک بیجا اور تعصب پر مبنی الزام لگانا کسی طرح درست طریقہ نہیں ہے ، بلکہ یہ ایک سنگین الزام تراشی کا معاملہ ہے ، جس سے بہر صورت پرہیز کرنا چاہئے تھا ، چنانچہ میں نے اس سلسلہ میں حقائق کی روشنی میں مولانا ابوالکلام آزاد کی تحریروں کے حوالے سے ‘ وحدت ادیان کا تصور” باطل ثابت کرنے کی ایک مخلصانہ کوشش کی ہے ، اور جو لوگ غیر جانبدار ہوکر محض تلاش حق کی خاطر تقابلی مطالعہ کرتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ ان کے اطمینان کے لئے میرا یہ مضمون کافی و شافی ہوگا ، لیکن جن کے دلوں میں قرآن کے مطابق ” زیغ ” یعنی کجی ( آل عمران : 7) کی بیماری ہوتی ہے ، ان کے لئے دن کا اجالا بھی رات کے اندھیرے کی طرح ہوتا ہے ۔ ایسے لوگوں پر کسی شاعر کا یہ فکر انگیز شعر بالکل صادق آتا ہے ؛

جو محروم ذوق طلب ہیں ، جن کے دل بیدار نہیں

ان کے لئے ساری تفصیلیں ،ساری شرحیں مبہم ہیں

قلمکار : غلام نبی کشافی آنچار سی نگر کشمیر

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے