سوال: مشہور معلمہ اور محترم داعیہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی کی جانب سے درج ذیل سوال موصول ہوا:
السلام علیکم. ایک عورت جو خاوند کے لڑائی جھگڑے اور مار کٹائی کی وجہ سے شوہر کا گھر چھوڑ کر کونسل ہاؤسنگ میں پناہ لے شوہر نہ تو اسے طلاق دے اور نہ ہی اپنے پاس رکھے، یا بیوی اپنے شوہر کے ظلم و ستم کی وجہ سے واپس بھی نہ جانا چاہے تو ایسی صورت میں بیوی کا اپنے شوہر سے طلاق لئے بغیرالگ ہو کر رہنا شرعی نقطہ نظر سے درست ہے؟
جواب:
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته۔
اسلام کا نظام عدل و رحمت پر قائم ہے، اس با بركت دين نے عورت کو نہایت بلند مقام عطا فرمایا اور اس کے تمام حقوق کی بحفاظت ضمانت دی ہے، قرآنِ حکیم اور سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ عورت محض ایک تابع مخلوق نہیں، بلکہ ایک باوقار انسان ہے، جس کی جان، مال، عزت، عفت اور سکونِ قلب کی حفاظت شریعتِ مطہرہ کا ایک مستقل ہدف ہے، شریعتِ اسلامی نے جہاں مرد کو قیامِ خاندان کی ذمہ داری دی ہے، وہیں عورت کے ساتھ حسنِ سلوک، نرمی، محبت اور مروّت کی صریح تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ” (سورة النساء: ۱۹)، یعنی اور عورتوں کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔
اگر شوہر اس معروف طرزِ معاشرت سے انحراف کرتے ہوئے ظلم، بدسلوکی، اور جسمانی و ذہنی اذیت رسانی کا مرتکب ہو، اور نہ اسے اصلاح کا خیال ہو نہ عورت کی اذیت پر ندامت، تو شریعت ایسے جبر و قہر کی ہرگز اجازت نہیں دیتی، ظلم کو سہنا عبادت نہیں، اور نہ ہی صبر کے نام پر اپنے اوپر مسلسل زیادتی برداشت کرنا کوئی شرعی تقاضا ہے، مظلوم کو ظلم سے بچنا واجب ہے، خواہ وہ عورت ہو یا مرد، لہٰذا اگر کوئی عورت ایسے جبر و تشدد سے مجبور ہو کر شوہر سے علیحدگی اختیار کرے، تو یہ فعل کسی ملامت یا گناہ کا موجب نہیں، بلکہ عقل، غیرت اور دین کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی جان، عزت اور دینی حریت کو بچائے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بجا فرمایا کہ اگر شوہر ظلم اور ناروا سلوک کی ابتدا کرے، تو عورت کے لیے علیحدگی اختیار کرنا قابلِ ملامت نہیں، بلکہ ظلم کے رد میں معقول اقدام ہے۔
البتہ شریعت کی نظر میں نکاح ایک مستقل بندھن ہے، جس کی تحلیل بھی اصول و ضوابط کے تحت ہی ممکن ہے، محض علیحدگی وقتی طور پر سکونِ خاطر کا ذریعہ بن سکتی ہے، مگر شرعی حیثیت سے نکاح کے اثرات قائم رہتے ہیں، اس لیے اگر شوہر طلاق دینے سے انکار کرے اور خلع کو بھی قبول نہ کرے، تو عورت کے لیے یہ شرعی طور پر درست ہے کہ وہ ملکی عدالتی نظام سے رجوع کر کے نکاح کے فسخ کا مطالبہ کرے، ایسی صورت میں عدالت اگر عورت کے حق میں فیصلہ دے تو وہ شرعاً اور قانونی طور پر نکاح کے بندھن سے آزاد سمجھی جائے گی۔
یہاں اس امر کا تذکرہ بھی نہایت ضروری ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے متعدد فرامین میں عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی نہایت تاکید فرمائی ہے۔ آپ ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے: "استوصوا بالنساء خیراً”، یعنی عورتوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت کو قبول کرو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔ ایسے واضح فرامین کی موجودگی میں جو شخص بیوی کو محض اپنی ملکیت سمجھ کر ظلم کرے، مارے پیٹے، اسے بے یار و مددگار چھوڑ دے، اور طلاق کے ذریعے اسے عزت کے ساتھ جدا بھی نہ کرے، تو وہ نہ صرف شرعی احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے بلکہ پیغمبرِ رحمت ﷺ کی سنتِ مبارکہ کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے۔
ایسے حالات میں عورت کا علیحدگی اختیار کرنا، اپنے نفس کو ظلم سے بچانا، اور عدالتی یا شرعی راستے سے نکاح سے خلاصی حاصل کرنا نہ صرف جائز بلکہ واجب کے قریب تر ہے، تاکہ وہ ایک باعزت اور پرامن زندگی گزار سکے، یہ فیصلہ شریعت کے مزاج سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے اور معاشرتی انصاف و اخلاقیات کا تقاضا بھی، اللہ تعالیٰ ہر مظلوم کو اپنی پناہ میں لے، عورتوں کو ان کے جائز حقوق عطا فرمائے، اور مسلم معاشرے کو عدل و رحمت کے نور سے منور کرے۔ آمین۔
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
آکسفورڈ لندن